روسی خطے سائبیریا میں طاعون کی وبا۔ایک ہلاکت اور سیکڑوں افراد متاثر ہونے کا خدشہ

تین اسپتالوں میں حفاظتی اقدامات سخت ۔ماسک پہننے کی پابندی عائد

October 5, 2026 · امت خاص, ہیلتھ

 

وائٹ ہاؤس روس میں طاعون کی ایک ممکنہ وباء پر نظر رکھے ہوئے ہے، جب وہاں ایک لیبارٹری ٹیکنیشین کی موت کے بعد اس کے رابطے میں آنے والے سیکڑوں افراد کو قرنطینہ میں منتقل کر دیا گیا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بتایا کہ انتظامیہ صورتحال سے باخبر ہے، اس وباء کی نگرانی کر رہی ہے۔

روس کے علاقے سائبیریا میں ارکتسک (Irkutsk) اینٹی پلگ انسٹی ٹیوٹ میں کام کرنے والی 28 سالہ داریا شیپلووا (Darya Shipilova) کو مبینہ طور پر نیومونک طاعون (pneumonic plague) کا سامنا کرنا پڑا۔ شیپلووا نے طبی عملے کو بتایا تھا کہ اس سے زندہ بیکٹیریا والی ٹیسٹ ٹیوب غلطی سے ٹوٹ گئی تھی۔ اس کے بعد منگولیا کے ساتھ روس کی مشرقی سرحد کے پاس واقع علاقے بوریاتیا (Buryatia) میں ساتھیوں کے ساتھ ایک فیلڈ مہم کے دوران ان کی طبیعت خراب ہو گئی۔

شیپلووا کو 29 ستمبر کو اسپتال داخل کیا گیا اور وینٹیلیٹر پر رکھا گیا، لیکن وہ دو دن بعد انتقال کر گئیں۔وہ تقریباً 200 افراد کے رابطے میں آئیں، جنہیں اب وبا کے خدشات کے پیشِ نظر زیرِ نگرانی رکھا گیا ہے۔

خطے کے تین اسپتالوں میں حفاظتی اقدامات سخت کر دیے گئے ہیں اور ماسک پہننے کی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ماسکوٹائمزکے مطابق، ارکتسک کے گورنر ایگور کوبزیو نے کہا کہ جن افراد کی نگرانی کی جا رہی ہے، ان میں بیماری کی کوئی علامت ظاہر نہیں ہوئی اور ان کے ٹیسٹ منفی آئے ہیں۔ جس اسپتال میں شیپلووا کا علاج کیا گیا، وہ بھی ان طبی مراکز میں شامل ہے جنہیں قرنطینہ کیا گیا ہے۔ دیگر مراکز نے ان لوگوں کو رکھا ہے جو شیپلووا کے رابطے میں آئے تھے۔

نیومونک طاعون پھیپھڑوں کے شدید انفیکشن کا سبب بنتا ہے، جس کی علامات میں بخار، سانس لینے میں دشواری اور خونی کھانسی شامل ہیں، جو عام طور پر رابطے کے تین سے سات دن کے اندر ظاہر ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔ اگر انفیکشن کے پہلے 24 گھنٹوں کے اندر اینٹی بائیوٹکس سے علاج کیا جائے تو نیومونک طاعون سے اموات کی شرح کم ہو کر تقریباً 17 فیصد رہ جاتی ہے۔ تاہم، علاج نہ ہونے کی صورت میں یہ بیماری تقریباً ہمیشہ جان لیوا ثابت ہوتی ہے۔

ایسے دعوے بھی سامنے آئے ہیں کہ روسی حکام اصل واقعہ کو چھپانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس بیماری کے علاج کے لیے استعمال ہونے والی ادویات خطے میں کم ہو رہی ہیں، جس کی وجہ سے خوفزدہ شہری سپلائی کے حصول کے لیے فارمیسیوں اور طبی مراکز کا رُخ کر رہے ہیں۔

ماسکو ٹائمز کے مطابق، روس کے ایک سینئر ماہرِ وبائی امراض میخائل فیفوروف (Mikhail Favorov) نے ٹیسٹ ٹیوب ٹوٹنے کی توجیہ کو مسترد کر دیا۔ فیفوروف نے کہاکہ یہ ہنسنے کی بات ہے۔ ارکتسک کے اینٹی پلگ انسٹی ٹیوٹ میں کام کرنے والا شخص حفاظتی سوٹ پہنتا ہے۔ اگر آپ ٹیسٹ ٹیوب توڑ بھی دیں، تو انفیکشن کا امکان بہت کم ہوتا ہے۔ انہوں نے مزید کہاکہ یہ انتہائی ہلا دینے والا ہے۔ ہمیں یہ نہیں بتایا جائے گا کہ اصل میں ہوا کیا تھا۔

نیومونک طاعون یرسینیا پیسٹس نامی بیکٹیریا کی وجہ سے ہونے والی تین اقسام میں سے ایک ہے۔ یہ کسی دوسرے شخص سے ہوا میں موجود ذرات کے سانس کے ذریعے اندر جانے سے پھیلتا ہے۔