خواجہ آصف کاپی ٹی آئی سے دہشت گردی کی پالیسی پر8نکاتی سوال نامہ

سخت سوالات، خیبر پختونخوا میں حکومت پر تنقید، جواب طلب کر لیا گیا

October 5, 2026 · امت خاص
وزیر دفاع خواجہ آصف

وزیر دفاع خواجہ آصف

 

وفاقی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف پالیسی نہ بنانے دیے جانے کے دعوے پر کڑے سوالات اٹھاتے ہوئے 8 نکاتی سوال نامہ جاری کر دیا ہے۔ سوشل میڈیا پر اپنے ایک بیان میں وزیر دفاع نے مؤقف اختیار کیا کہ پی ٹی آئی کی طرف سے مسلسل یہ دلیل دی جارہی ہے کہ انہیں دہشت گردی کے خلاف پالیسی بنانے سے روکا گیا، جو کہ ایک بے بنیاد دعویٰ ہے۔

خواجہ آصف نے اپنے پہلے سوال میں دریافت کیا کہ گزشتہ 13 سال سے خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکومت رہی ہے اور وہ وفاق میں بھی اقتدار کے ایوانوں میں رہ چکے ہیں، ایسے میں انہیں دہشت گردی کے خلاف پالیسی بنانے سے کس نے روکا؟ انہوں نے استفسار کیا کہ نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد اور اپیکس کمیٹی کے اجلاس بلانے میں کون سی پالیسی رکاوٹ بنی۔ دوسرے سوال میں انہوں نے پوچھا کہ دہشت گردوں کو دہشت گرد قرار دینے، افغانستان سے آنے والے دہشت گردوں کی مذمت کرنے اور پاک فوج و عوام پر حملوں کے خلاف سکیورٹی فورسز کے ساتھ کھڑے ہونے کے لیے کس قسم کی پالیسی کی ضرورت ہوتی ہے۔

وزیر دفاع نے تیسرے اور چوتھے سوال میں مؤقف اپنایا کہ کوہاٹ میں ہونے والے حالیہ ڈرون حملوں کی صوبائی حکومت نے کھل کر مذمت کیوں نہیں کی، اور افغان سرزمین سے پاکستان کی سرحدی چوکیوں پر فائرنگ اور دراندازی کے خلاف افغان حکومت کا نام لے کر احتجاج کیوں نہیں کیا گیا۔ پانچویں سوال میں صوبے میں دہشت گردی کی معاون غیر قانونی معیشت جیسے کہ بھتہ خوری، اسمگلنگ اور نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کے کاروبار کو ختم کرنے کے لیے گزشتہ 13 سال میں کیے گئے عملی اقدامات کی تفصیلات طلب کی گئیں۔

چھٹے اور ساتویں سوال میں خواجہ آصف نے کہا کہ سکیورٹی فورسز کی قربانیوں کے اعتراف میں کتنی بار ان کی چوکیوں کا دورہ کیا گیا اور دہشت گردوں کو خوارج کہہ کر ان کی مذمت کرنے میں کون سا امر مانع ہے۔ آخری اور آٹھویں نکتہ میں انہوں نے الزام عائد کیا کہ 13 سالہ اقتدار کے دوران صوبے میں کرپشن کو فروغ دیا گیا اور پارٹی رہنماؤں کی طرف سے ہی کروڑوں روپے کے فنڈز خوردبرد کرنے کے الزامات لگائے جاتے ہیں۔