شیخوپورہ میں گستاخی کے الزام میں گرفتار عیسائی شخص کا گھر اور فارمیسی نذرآتش

کامران مسیح پر ایک بھارتی کی گستاخانہ فیس بک پوسٹ شیئر کرنے کا الزام تھا، نماز جمعہ کے بعد ہجوم جمع ہوگیا

October 11, 2026 · امت خاص
شیخوپورہ میں گستاخی کے الزام میں گرفتار عیسائی شخص کا گھر اور فارمیسی نذرآتش

شیخوپورہ میں گستاخی کے الزام میں گرفتار عیسائی شخص کا گھر اور فارمیسی نذرآتش

پنجاب کے ضلع شیخوپورہ کی تحصیل نارنگ منڈی کے گاؤں گھڑیال کلاں میں گستاخی مذہب کے الزام میں گرفتار عیسائی کے گھر اور فارمیسی کو مشتعل ہجوم نے جمعہ کے روز جلا دیا۔ واقعے کی تفصیلات ہفتہ کو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئیں۔

اطلاعات کے مطابق گھڑیال کلاں کے کامران مسیح کو 8 اکتوبر کو پولیس نے گرفتار کیا تھا۔ اس پر الزام تھا کہ اس نے ایک (بھارتی) ہندو شخص کی جانب سے شائع کی گئی گستاخانہ پوسٹ کو شیئر کیا تھا۔ مسیحی برادری کے ذرائع کا دعویٰ ہے کہ کامران مسیح نے فورا ہی پوسٹ ڈیلیٹ کردی تھی تاہم مذکورہ واقعے کے کچھ دن بعد 8 اکتوبر کو پولیس نے ایف آئی آر درج کرکے اسے گرفتار کرلیا۔

اگلے روز جمعہ کو نماز جمعہ کے بعد مشتعل ہجوم نے کامران مسیح کے گھر اور کلینک (فارمیسی) پر دھاوا بول دیا اور دونوں کو آگ لگادی۔ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ مشتعل افراد دیگر گھروں کو بھی جلانا چاہتے تھے تاہم پولیس اور دیگر اداروں نے بروقت مداخلت کرکے تشدد کو پھیلنے سے روک دیا۔

بی بی سی اردو کا کہنا ہے کہ اس واقعے کے بعد گھڑیال کلاں گاؤں کے چند مسیحی خاندان جان کے خوف کے باعث نقل مکانی کر کے قریب واقعہ علاقوں میں اپنے رشتہ داروں کے گھر بھی منتقل ہوئے ہیں۔ تاہم پولیس ترجمان نے نقل مکانی کی تردید کی۔

پولیس کے مطابق مشتعل ہجوم کی جانب سے ملزم کے گھر اور کلینک (فارمیسی) کو نذر آتش کرنے، خوف و دہشت پھیلانے اور جلاؤ گھیراؤ پر ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے جس میں انسداد دہشت گردی کی دفعات شامل ہیں۔ اس ایف آئی آر پر 5 ملزمان کو گرفتار بھی کرلیا گیا جب کہ دیگر ملزمان کی گرفتاری کیلئے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

مسلم لیگ ن کے رکن پنجاب اسمبلی عمانوئیل اطہر کا کہنا ہے کہ مشتعل ہجوم نے توہین کے الزام کے بعد مسیحی شخص کے گھر اور دکان کو آگ لگائی، جس کے بعد وہ مقامی چرچ کی طرف جا رہے تھے تاہم مقامی پولیس کی بروقت مداخلت کے باعث کوئی بڑا واقعہ رونما ہونے سے رہ گیا۔

عمانوئیل کے مطابق پولیس نے گستاخی کے ملزم کو نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا، جبکہ ملزم کے اہلخانہ بھی پولیس کی حفاظتی تحویل میں ہیں۔

پنجاب کے وزیر برائے اقلیتی امور سردار رمیش سنگھ اڑوڑہ نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ گھڑیال کلاں کے رہائشی مسیحی شخص پر توہین کا الزام عائد ہوا جس کی ایف آئی آر تعزیرات پاکستان کی دفعات 295 ، 298، 298 اے، 504 اے کے تحت درج کی گئی ہے جبکہ اس ایف آئی آر میں 29 ٹیلیگراف ایکٹ اور 16 ایم پی او کی دفعات بھی شامل کی گئی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ملزم پولیس کی تحویل میں ہے۔

سردار رمیش سنگھ اڑوڑہ نے بتایا کہ مقامی لوگوں کے ایک گروہ نے ملزم کی دکان کو آگ لگا دی جس کی علیحدہ ایف آئی آر درج ہے جس میں انسداد دہشت گردی کی دفعات، 427 اے ، 436، 147، 149 اور 153 شامل ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اس ایف آئی آر میں نامزد کچھ ملزمان گرفتار ہیں جبکہ باقی افراد کو گرفتار کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔