خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی لگانے کیلئے پیش کی گئی دستاویز میں کیا ہے
پولیس منظم حملوں کا نشانہ بنی، دہشت گردوں نے ڈرون استعمال کرنا شروع کردیئے، پولیس کو وسائل نہیں دیئے گئے
خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی لگانے کیلئے پیش کی گئی دستاویز میں کیا ہے
خیبرپختونخوا میں سکیورٹی کی ابتر صورتحال اور ایمرجنسی نافذ کرنے کے حوالے سے سامنے آنے والی اہم سرکاری دستاویزات نے صوبے کے زمینی حقائق کو بے نقاب کر دیا ہے۔ دستاویزی شواہد اور اعداد و شمار کے مطابق صوبے میں دہشت گردی کے واقعات میں تشویشناک حد تک اضافہ ہوا ہے، جس نے قانون نافذ کرنے والے اداروں بالخصوص پولیس کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق صوبے میں دہشت گردی کے رجسٹرڈ مقدمات اور واقعات میں 2021ء سے مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ دہشت گردی کے واقعات 2022ء میں 1,037 تھے جو بڑھ کر 2023ء میں 1,403 ہو گئے، جبکہ 2024ء میں یہ تعداد تیزی سے بڑھ کر 2,180 اور 2025ء میں 3,774 تک پہنچ گئی۔ اس کے علاوہ 2026ء میں بھی سکیورٹی کی صورتحال انتہائی کشیدہ رہی ہے اور 23 ستمبر تک 2,857 دہشت گردانہ واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں۔
دستاویزات میں اس بات کی بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ پولیس کو سکیورٹی رسپانس کی فرنٹ لائن پر رکھا گیا ہے اور اسے سب سے زیادہ جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ رپورٹ کے مطابق 2026ء کے دوران پولیس کو نشانہ بنانے کے 445 واقعات پیش آئے، جبکہ دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو نشانہ بنانے کے 303 اور عام شہریوں کو نشانہ بنانے کے 193 واقعات ریکارڈ ہوئے۔ اس کے علاوہ پولیس تنصیبات پر منظم اور شدید حملے کیے گئے جن میں کوہاٹ پولیس لائنز، خزینہ بندہ ہنگو، منجی کھیلا ٹانک، فتح کھیلا بنوں، ڈومل بنوں اور درازندہ ڈیرہ اسماعیل خان کے مقامات شامل ہیں۔ بعض حملوں میں دہشت گردوں نے پولیس گاڑیاں، اے پی سیز اور جدید ہتھیاروں تک کو نقصان پہنچایا۔
رپورٹ میں یہ انکشاف بھی کیا گیا ہے کہ ڈرون حملوں اور جدید ٹیکنالوجی کا استعمال بھی دہشت گردی کی نئی شکل کے طور پر ابھرا ہے۔ دستاویزات کے مطابق 2024ء میں ڈرون حملوں کی تعداد صفر تھی جو 2025ء میں بڑھ کر 82 اور 2026ء میں ستمبر تک 170 تک پہنچ گئی۔ حملہ آور اب زمینی کارروائیوں سے پہلے پولیس چوکیوں کو نشانہ بنانے کے لیے مسلح ڈرونز کا استعمال کر رہے ہیں، جبکہ رات کے وقت کے حملوں میں برتری حاصل کرنے کے لیے تھرمل اور نائٹ ویژن سائیٹس کا بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔
دستاویزات کے آخری حصے میں خیبرپختونخوا پولیس اور سی ٹی ڈی کو درپیش وسائل کی کمی کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق صوبائی پولیس اور محکمہ انسداد دہشت گردی کے پاس جدید اور نفیس ہتھیاروں، حفاظتی آلات اور ٹیکٹیکل گیجٹس تک خاطر خواہ رسائی نہیں ہے، جو بڑھتے ہوئے جدید ہتھیاروں سے لیس عسکریت پسندوں کا مؤثر مقابلہ کرنے کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔