لائبہ ملازمت کا انٹرویو دینے گئی تھی، جہاں ملزم نے انہیں امریکہ کا خواب دکھایا، بھائی

 ملزم نے امریکہ میں داخلے، اسکالرشپ اور اسپانسرشپ کے نام پر ان سے تقریباً 70 لاکھ روپے وصول کیے، جبکہ بعد میں فراہم کردہ دستاویزات جعلی ثابت ہوئیں۔

October 11, 2026 · امت خاص
لائبہ کی خودکشی یا قتل؟بھائی کا دل دہلا دینے والا انٹرویو

لائبہ کی خودکشی یا قتل؟بھائی کا دل دہلا دینے والا انٹرویو

اسلام آباد میں گولڈ میڈلسٹ طالبہ لائبہ اعجاز کی موت نے کئی سوالات کھڑے کردیے ہیں۔ اہل خانہ کے مطابق لائبہ امریکہ میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے اور اسکالرشپ پر جانے کا خواب دیکھ رہی تھیں، تاہم ایک مبینہ فراڈ کے باعث ان کا یہ خواب ٹوٹ گیا۔ خاندان کا الزام ہے کہ ملزم نے امریکہ میں داخلے، اسکالرشپ اور اسپانسرشپ کے نام پر ان سے تقریباً 70 لاکھ روپے وصول کیے، جبکہ بعد میں فراہم کردہ دستاویزات جعلی ثابت ہوئیں۔

لائبہ کے بھائی معید نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ان کی بہن نے فزکس میں بی ایس کیا تھا اور گولڈ میڈل حاصل کیا تھا۔ وہ مزید تعلیم کے لیے امریکہ جانا چاہتی تھیں تاکہ وہاں ماسٹرز مکمل کرکے بہتر مستقبل بنا سکیں۔

معید کے مطابق لائبہ اسلام آباد کے بلیو ایریا میں واقع ایک دفتر میں ملازمت کے انٹرویو کے لیے گئی تھیں، جہاں ان کی ملاقات نعمان نامی شخص سے ہوئی۔ بھائی کا کہنا ہے کہ مذکورہ شخص نے خود کو اسلام آباد ہائیکورٹ کا ملازم ظاہر کیا اور لائبہ کو مشورہ دیا کہ وہ پاکستان میں ملازمت کرنے کے بجائے امریکہ کی معروف ہارورڈ یونیورسٹی کی اسکالرشپ کے لیے درخواست دیں۔ اس نے مبینہ طور پر یقین دلایا کہ درخواست اور دیگر ضروری کارروائیوں میں وہ ان کی مدد کرے گا۔

معید کے مطابق گھر واپس آنے کے بعد لائبہ نے اپنے والد اور بھائی کو امریکہ میں تعلیم حاصل کرنے کے منصوبے سے آگاہ کیا۔ اہل خانہ نے ان کی خواہش پوری کرنے کے لیے مالی وسائل فراہم کرنے کا فیصلہ کیا۔ بھائی کا کہنا ہے کہ ابتدا میں خاندان کی جمع پونجی استعمال کی گئی، بعد ازاں والد نے پلاٹ فروخت کیا اور والدہ کے زیورات بھی فروخت کیے گئے یا ان کے عوض رقم حاصل کی گئی۔ اس طرح امریکہ میں تعلیم کے انتظامات کے نام پر مبینہ طور پر تقریباً 70 لاکھ روپے ادا کیے گئے۔

معید نے بتایا کہ ملزم نے لائبہ کو مختلف دستاویزات فراہم کیں، جن کی تصدیق کرانے پر معلوم ہوا کہ وہ جعلی ہیں۔ اس انکشاف کے بعد پورا خاندان شدید پریشانی میں مبتلا ہوگیا۔ بھائی کے مطابق انہوں نے لائبہ کو سمجھانے کی کوشش کی کہ جو نقصان ہوچکا ہے، اس کے باوجود وہ پاکستان میں رہ کر اپنی تعلیم اور مستقبل پر توجہ دے سکتی ہیں، لیکن وہ اس واقعے سے بہت زیادہ دلبرداشتہ ہوگئی تھیں۔

جعلی دستاویزات کے بعد مزید رقم کا مطالبہ

لائبہ کے بھائی کے مطابق دستاویزات جعلی ثابت ہونے پر جب ان کی بہن نے نعمان سے رابطہ کیا تو اس نے معاملہ حل کرنے کی یقین دہانی کرائی اور مبینہ طور پر مزید رقم کا مطالبہ کیا۔ معید کا کہنا ہے کہ لائبہ کو بتایا گیا کہ ان کا 12 تاریخ کو انٹرویو ہونا ہے اور زیرِ التوا معاملات حل کرنے کے لیے مزید 22 لاکھ روپے بھیجنے ہوں گے۔

بھائی کے بقول اس صورتحال نے لائبہ کی پریشانی میں مزید اضافہ کردیا تھا۔ وہ والدین کو پہلے ہی ہونے والے مالی نقصان کے باعث پریشان دیکھ رہی تھیں اور مزید رقم کا مطالبہ کرنے سے بھی ہچکچا رہی تھیں۔

گھر سے نکلنے کے بعد لائبہ کی تلاش

معید نے بتایا کہ جمعے کے روز وہ نماز کی ادائیگی کے بعد گھر واپس پہنچے تو والدہ نے بتایا کہ لائبہ کافی دیر سے گھر نہیں لوٹی تھیں اور فون بھی نہیں اٹھا رہی تھیں۔ اہل خانہ کے مطابق نعمان کی کال آنے کے بعد لائبہ گھر سے نکلی تھیں۔

بھائی کا کہنا ہے کہ انہوں نے مختلف مقامات پر لائبہ کو تلاش کیا، لیکن ان کا کوئی سراغ نہیں ملا۔ بعد میں ان کے پاس دستیاب جی میل اکاؤنٹ کے ذریعے سامنے آنے والی لوکیشن کی مدد سے اہل خانہ ایک مقام پر پہنچے۔ معید کے مطابق وہ اپنی والدہ اور بہنوئی کے ساتھ دوبارہ تلاش کے لیے گئے، جہاں جھاڑیوں کے قریب لائبہ کی لاش ملی۔

انہوں نے بتایا کہ اطلاع ملنے پر پولیس کو بلایا گیا اور بعد ازاں لائبہ کو پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) منتقل کیا گیا، جہاں پوسٹ مارٹم کیا گیا۔

امریکہ جانے کا خواب اور خاندان کی امیدیں
معید کے مطابق لائبہ امریکہ میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے بہت پُرجوش تھیں۔ وہ اکثر اپنے گھر والوں سے کہتی تھیں کہ وہاں جا کر تعلیم مکمل کریں گی، کام کریں گی اور بعد میں اپنے خاندان کو بھی امریکہ بلائیں گی۔
بھائی کا کہنا تھا کہ لائبہ اپنے والدین کو حج اور عمرے پر بھیجنے اور خاندان کے لیے بہتر مستقبل بنانے کے خواب دیکھتی تھیں۔ ان کے مطابق جعلی دستاویزات سامنے آنے کے بعد لائبہ کی امیدوں کو شدید دھچکا لگا اور وہ اس صدمے سے باہر نہیں نکل پا رہی تھیں۔

بھائی سے بھی مبینہ طور پر 5 لاکھ روپے لیے گئے

لائبہ کے بھائی نے الزام لگایا کہ نعمان نے انہیں بھی ملازمت دلوانے اور امریکہ میں مواقع فراہم کرنے کا یقین دلایا تھا۔ معید کے مطابق اسی سلسلے میں ان سے بھی تقریباً 5 لاکھ روپے وصول کیے گئے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ نعمان کے ساتھ عائزہ نامی ایک خاتون کا بھی ذکر کیا جاتا تھا، جس کے بارے میں مبینہ طور پر کہا گیا تھا کہ وہ امریکہ میں موجود ہے اور اسپانسرشپ میں مدد کرے گی

 

دوسری جانب ایف آئی اے اسلام آباد زون کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ ملزمان نے امریکی ویزا اور اسکالرشپ دلوانے کے بہانے متاثرہ خاندان سے 93 لاکھ روپے وصول کیے۔ تحقیقاتی ادارے کا کہنا ہے کہ متاثرہ خاندان کو دھوکے میں رکھنے کے لیے جعلی اسکالرشپ لیٹرز، یونیورسٹی میں داخلے کے آفر لیٹرز اور فیس کی ادائیگی کی رسیدیں بھی تیار کی گئیں۔

ایف آئی اے کے مطابق ملزمان کے خلاف پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 419، 420 اور 109 جبکہ امیگریشن آرڈیننس 1979 کی دفعات 18 اور 22 کے تحت مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔ ادارے کی ٹیم واقعے سے متعلق شواہد جمع کررہی ہے اور ملزم کے موبائل فون کا ریکارڈ بھی حاصل کرلیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے بھی لائبہ کی موت کا نوٹس لیتے ہوئے اسلام آباد پولیس کے سربراہ اور چیف کمشنر کو مبینہ فراڈ میں ملوث ملزم کو فوری گرفتار کرنے کی ہدایت کی تھی۔ پولیس اور ایف آئی اے کی تحقیقات جاری ہیں، جبکہ لائبہ کی موت کے اصل حالات کا تعین تفتیش کے نتائج سے ہوگا۔