سندھ ہائیکورٹ کا نجی اسکولوں کو جون اور جولائی کی فیس اکٹھی نہ لینے کا حکم
اہم فیصلہ، چھٹیوں کی فیس کا نوٹس مئی میں جاری ہوگا، بلوچستان میں بھی پابندی عائد۔
سندھ ہائیکورٹ اور کوئٹہ انتظامیہ کے نجی اسکولوں کی فیسوں سے متعلق احکامات
کراچی اور کوئٹہ میں نجی اسکولوں کی جانب سے طلبہ کے والدین پر مالی بوجھ بڑھانے کے خلاف اہم عدالتی احکامات اور انتظامی اقدامات سامنے آئے ہیں۔ سندھ ہائیکورٹ میں جون اور جولائی کی فیس، کتابیں اور یونیفارم کی خریداری کے خلاف دائر درخواست پر سماعت ہوئی، جس دوران سرکاری وکیل اور نجی اسکولوں کے ڈائریکٹوریٹ کا نمائندہ عدالت میں پیش ہوئے۔
عدالت میں درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ فیس کی وصولی کے لیے والدین کو ایک ساتھ 2،2 واؤچر تھما دیے جاتے ہیں، جبکہ موسم گرما کی تعطیلات کے دوران اسکولوں میں کوئی تعلیمی سرگرمی بھی منعقد نہیں ہوتی، لہذا اس دوران فیس کی وصولی غیر منصفانہ ہے۔ عدالت نے دلائل سننے کے بعد اسکول انتظامیہ کو ایک ساتھ فیس وصول کرنے سے سختی سے روک دیا اور ہدایت کی کہ چھٹیوں کی فیس وصولی کا نوٹس صرف مئی میں جاری کیا جائے۔ عدالت کے حکم کے مطابق جون اور جولائی کی چھٹیوں کی فیس کی ادائیگی کے لیے بالترتیب 30 جون اور 30 جولائی تک کا وقت دیا جائے گا۔
مزید برآں، یونیفارم اور کتابوں کی فروخت کے تنازع پر عدالت نے ریمارکس دیے کہ نجی اسکولوں کا ڈائریکٹوریٹ اور فریقین باہمی مشاورت سے اس معاملے کو حل کریں۔ اس سلسلے میں فریقین کو آئندہ 2 ہفتوں کے اندر میٹنگ کرنے کی ہدایت جاری کرتے ہوئے عدالت نے کیس نمٹا دیا۔
دوسری جانب کوئٹہ میں بھی ضلعی انتظامیہ نے بلوچستان ہائیکورٹ کے فیصلے کی روشنی میں سخت اقدامات کیے ہیں۔ ڈپٹی کمشنر ویسٹ منیر احمد درانی نے نجی اسکولوں میں چھٹیوں کے دوران فیس کی وصولی پر باضابطہ پابندی عائد کرتے ہوئے نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے۔ حکام کے مطابق جو نجی اسکول احکامات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے چھٹیوں کی فیس وصول کریں گے، ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی اور ایسے اسکولوں کی رجسٹریشن منسوخ کر کے انہیں سیل کر دیا جائے گا۔ ڈپٹی کمشنر نے والدین کو ہدایت کی ہے کہ وہ چھٹیوں کی فیس سے متعلق اپنی شکایات فوری طور پر ضلعی دفتر یا متعلقہ محکمہ تعلیم کے حکام کو جمع کروائیں۔