مغربی سوشل میڈیا انفلونسرز نے ملالہ یوسفزئی پر فنڈ کھانے کے سنگین الزامات لگا دیئے

تعلیم کے نام پر رقم لے کر تنظیم کے عہدیداروں کو بھاری تنخواہیں دینے اور ملالہ کے ’راک اسٹار‘ لائف اسٹائل کے دعوے

October 13, 2026 · امت خاص
مغربی سوشل میڈیا انفلونسرز نے ملالہ فنڈ پر فنڈ کھانے کے سنگین الزامات لگا دیئے

مغربی سوشل میڈیا انفلونسرز نے ملالہ فنڈ پر فنڈ کھانے کے سنگین الزامات لگا دیئے

مغرب میں کچھ خواتین سوشل میڈیا انفلونسرز پاکستانی سماجی کارکن اور نوبیل انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی کے پیچھے پڑ گئی ہیں اور ان پر ملالہ فنڈ کی رقم اپنے ذاتی استعمال میں لانے یا ضائع کرنے کے الزامات عائد کردیئے ہیں۔

امریکی سوشل میڈیا انفلونسر نینسی سڈلی (@nancytsidley) نے نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی کے قائم کردہ ملالہ فنڈ پر سنگین مالی سوالات اٹھاتے ہوئے دعویٰ کیا کہ فنڈ نے 2024-25 مالی سال میں آمدن سے زیادہ خرچ کیا، ایگزیکٹوز کو اعلیٰ تنخواہیں دیں اور فرسٹ کلاس یا پرائیویٹ سفر کیا۔ اس پوسٹ نے لاکھوں ویوز حاصل کیے اور دیگر اکاؤنٹس کی جانب سے مزید الزامات سامنے آئے۔

نینسی سڈلی، جو اپنی جڑواں بہن اسٹیفنی سڈلی کے ساتھ یوٹیوب شو TWiN TALK کی شریک میزبان ہیں، رائل گپ شپ اور پاپ کلچر پر ڈیپ ڈائیوز کرتی ہیں۔ ان کے پوسٹ کے مطابق ملالہ فنڈ کی 2024-25 رپورٹس میں ریونیو تقریباً 16.48 ملین ڈالر رہا یعنی ملالہ فنڈ کو ایک کروڑ 64 لاکھ ڈالر سے زائد کے عطیات ملے۔ لیکن اس عرصے میں اخراجات 23.34 ملین ڈالر اور نیٹ اثاثے 42.97 ملین ڈالر دکھائے گئے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ فنڈ نے تقریباً 6.86 ملین ڈالر زیادہ خرچ کیے۔

نینسی سڈلی نے الزام عائد کیا کہ سی ای او کی تنخواہ تقریباً 372,000 ڈالر، چیف ایڈوائزر کی 320,000 اور سی او او کی 241,000 ڈالر بتائی گئی۔ ٹیکس فائلنگز میں افسران کے لیے فرسٹ کلاس یا پرائیویٹ ٹریول کا ذکر بھی کیا گیا۔

سڈلی نے پوچھا کہ پروگرام خرچ میں سے کتنا حصہ اصل میں لڑکیوں اور مقامی تعلیمی تنظیموں تک پہنچتا ہے۔

اس سوشل میڈیا انفلونسر نے ملالہ کی کلیریجز ہوٹل میں میگھن مارکل کے ساتھ چائے کی تصویر پوسٹ کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ملالہ تو “راک اسٹار” کا لائف اسٹائل اپنائے ہوئے ہے۔

لیکن نیسنی سڈلی یہ الزام لگانے والی واحد سوشل میڈیا انفلونسر نہیں ہیں۔

افغان نژاد جرمن بیسڈ انویسٹی گیٹو جرنلسٹ زرلاشتہ ڈیزی واتنمل (@ZarlashtaW) نے الگ الزام لگایا۔ ان کے مطابق ملالہ فنڈ نے 10.2 ملین ڈالر سے زیادہ رقم 57 تنظیموں کو دی، جس کا بڑا حصہ افغانستان انیشی ایٹو کے نام پر گیا، لیکن افغانستان میں مقیم کسی تنظیم کو صفر رقم ملی اور ملالہ خود کبھی افغانستان نہیں گئیں۔

زرلاشتہ نے اسے “فریب” اور “گھوسٹ اسکولز” قرار دیا اور کہا کہ افغان خواتین کے نام پر لاکھوں ڈالر جمع کیے جا رہے ہیں جبکہ زمینی سطح پر خرچ نظر نہیں آتا۔

زرلاشتہ خود کو کیمبرج یونیورسٹی کی پی ایچ ڈی، ہائیڈلبرگ یونیورسٹی کی لیکچرر اور انویسٹی گیٹو جرنلسٹ بتاتی ہیں، افغان والد اور انگریز/جرمن والدہ کی طرف سے ہیں۔

ملالہ فنڈ یا ملالہ یوسفزئی نے خود ان الزامات پر فوری طور پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا تاہم پاکستانی نژاد اسٹریٹجک اینالسٹ اقبال لطیف (@ilatif) نے عوامی IRS فارم 990 اور دیگر ریکارڈز کا جائزہ لے کر تفصیلی جواب دیا۔ انہوں نے اعداد و شمار کی تصدیق کی مگر نتیجہ غلط قرار دیا۔ ان کے مطابق پچھلے سال فنڈ نے 55 ملین ڈالر سے زیادہ بڑی عطیات وصول کیے تھے، جو اکاؤنٹنگ قواعد کے تحت اسی سال آمدن میں شامل ہوئے اور بعد کے سالوں میں خرچ کیے جا رہے ہیں۔ ریزروز خرچ کرنا خیراتی کام کا حصہ ہے، نہ کہ سکینڈل۔ ملالہ اور ان کے والد ضیاء الدین بورڈ ممبران ہیں جو ہفتے میں ایک گھنٹہ کام کرتے ہیں اور انہیں صفر تنخواہ ملتی ہے۔ خود لین دین یا اثاثوں کی منتقلی کے بارے میں فارم پر “نہیں” کا جواب دیا گیا۔

اقبال لطیف نے اعلیٰ ایگزیکٹو تنخواہوں پر تنقید کی، جن میں ٹاپ تنخواہ ایک سال میں 27 فیصد بڑھی جبکہ عطیات کم ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ گرانٹس میں سے تقریباً 57 فیصد (13.1 ملین ڈالر) باہر گیا، جبکہ کچھ رقم لندن آفس کو بھی گئی جو خود کی تنخواہوں میں شمار ہو سکتی ہے۔ مجموعی طور پر انہوں نے فنڈ کو شفاف مگر غیر موثر اور بیوروکریٹک قرار دیا اور زیادہ ٹارگٹڈ فنڈنگ کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے ملالہ کی حمایت جاری رکھی اور کہا کہ وہ خود نوبل انعام، کتابوں اور میڈیا کام سے اپنی آمدن رکھتی ہیں۔

ملالہ فنڈ کی آفیشل ویب سائٹ پر IRS فارم 990 اور آڈٹ شدہ بیانات دستیاب ہیں۔ مالی سال ختم مارچ 2025 کے قریب کے اعداد (فارم 990) تقریباً 15.3 ملین ڈالر ریونیو، 23 ملین ڈالر اخراجات اور تقریباً 43 ملین ڈالر نیٹ اثاثے دکھاتے ہیں۔ فنڈ نے افغانستان میں متبادل تعلیم اور ایڈوکیسی کے لیے لاکھوں ڈالر کی گرانٹس کا اعلان کیا ہے، جن میں اگست 2025 میں 3.26 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری شامل ہے۔ تاہم زمینی سطح پر شفافیت اور نتائج کی آزاد تصدیق کے مطالبات جاری ہیں۔

یہ بحث اس وقت سامنے آئی جب ملالہ اور میگھن مارکل کی شراکت داری (As Ever برانڈ کی مصنوعات کی آمدنی ملالہ فنڈ کو دینے کا اعلان) پر بھی تنقید ہوئی۔ پیرز مورگن نے بھی اس پر طنز کیا۔ اب تک ملالہ فنڈ یا ملالہ کی جانب سے ان مخصوص پوسٹس کا براہ راست جواب سامنے نہیں آیا، مگر فنڈ اپنی ویب سائٹ پر مالی شفافیت کا دعویٰ کرتا ہے۔