سعودی عرب میں گستاخی رسالت پر سری لنکن شہری کو سزائے موت دینے کا فیصلہ واپس
27 سالہ انوجن سیواراسا کو سعودی اپیل کورٹ نے ستمبر میں اسلام اور پیغمبر اسلام کی توہین کے الزام میں سزائے موت سنائی تھی
سعودی عرب میں گستاخی رسالت پر سری لنکن شہری کو سزائے موت دینے کا فیصلہ واپس
کولمبو: سعودی عرب کی سپریم کورٹ نے فیس بک پر توہین آمیز تبصرہ کرنے کے الزام میں سزائے موت پانے والے سری لنکن شہری کی سزا کالعدم قرار دے دی ہے۔ سری لنکا کے نائب وزیر خارجہ ارون ہیما چندرا نے اس پیشرفت کی تصدیق کی ہے۔
رپورٹس کے مطابق 27 سالہ انوجن سیواراسا کو سعودی اپیل کورٹ نے ستمبر میں اسلام اور پیغمبر اسلام کی توہین کے الزام میں سزائے موت سنائی تھی۔ اس فیصلے کے بعد سری لنکا میں تشویش پھیل گئی تھی اور ان کی سزا معاف کرانے کے لیے سفارتی کوششیں تیز کر دی گئی تھیں۔
سری لنکن نائب وزیر خارجہ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنے بیان میں سعودی سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اس معاملے میں تعاون کرنے والے دونوں ممالک کے حکام اور قانونی ٹیموں کا شکریہ ادا کیا۔
مقدمے کی تفصیلات کے مطابق، جون کے آخر میں سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہونے کے بعد مذہبی موضوع پر بحث شروع ہوئی تھی۔ اسی بحث کے دوران سیواراسا نے تامل زبان میں ایک ایسا تبصرہ کیا جسے توہین آمیز قرار دیا گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ انہوں نے بعد میں تبصرہ حذف کر دیا اور معافی کی ویڈیو بھی جاری کی، تاہم جولائی میں انہیں گرفتار کر لیا گیا۔
ابتدائی طور پر الاحساء کی فوجداری عدالت نے انہیں پانچ سال قید اور 30 لاکھ سعودی ریال جرمانے کی سزا سنائی تھی۔ بعد ازاں اپیل کورٹ نے سزائے موت سنائی، جسے اب سپریم کورٹ نے کالعدم قرار دے دیا ہے۔
سری لنکن قانون ساز فائزر مصطفیٰ نے بھی فیصلے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ عدالت کے تازہ حکم کا جائزہ لے رہے ہیں۔ تاہم، یہ واضح نہیں ہو سکا کہ سیواراسا کو رہا کیا جائے گا یا ان کے خلاف مزید قانونی کارروائی ہوگی۔
انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی اس مقدمے پر تشویش ظاہر کی تھی۔ ہیومن رائٹس واچ کی محقق جوئی شیا نے سعودی حکام پر زور دیا تھا کہ اظہارِ رائے سے متعلق معاملات میں سخت سزاؤں سے گریز کیا جائے، خصوصاً تارکین وطن کارکنوں کے معاملے میں۔