بلاول بھٹو کی اپوزیشن کو ایک بار پھر مذاکرات کی دعوت

خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کی ذمہ داری وزیراعلیٰ پر عائد ہوتی ہے۔ دہشت گردی کے خلاف مؤثر حکمت عملی کے لیے سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر کام کرنا ہوگا

October 14, 2026 · قومی
بلاول بھٹو کی اپوزیشن کو ایک بار پھر مذاکرات کی دعوت

بلاول بھٹو کی اپوزیشن کو ایک بار پھر مذاکرات کی دعوت

اسلام آباد: پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف نے سیاسی خودکش حملہ کیا ہے اور صوبے کی موجودہ صورتحال کی ذمہ داری صوبائی حکومت پر عائد ہوتی ہے۔

قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی نافذ کرنے سے بچنے کی ہر ممکن کوشش کی۔ ان کے مطابق آئینی اقدام اٹھانے سے پہلے اپوزیشن سے رابطہ کیا گیا اور صوبے کے معاملے کا سیاسی حل تلاش کرنے کی کوشش کی گئی۔

بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کی ذمہ داری وزیراعلیٰ پر عائد ہوتی ہے۔ دہشت گردی کے خلاف مؤثر حکمت عملی کے لیے سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر کام کرنا ہوگا اور قومی سلامتی کے معاملات کو سیاسی مفادات سے الگ رکھنا ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تعاون کے لیے تیار نہ ہونا سیاسی خودکشی کے مترادف ہے۔ ان کے بقول اپوزیشن ایمرجنسی کے نفاذ کی مخالفت کے حق میں کوئی ایسی وجہ پیش نہیں کر سکی جس سے اس اقدام کو روکنے کا جواز پیدا ہوتا۔

چیئرمین پیپلز پارٹی نے اپوزیشن کو ایک بار پھر مذاکرات کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ وہ آج بھی سیاسی بات چیت کے لیے تیار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تمام سیاسی جماعتوں کو مل بیٹھ کر مسائل کا حل تلاش کرنا چاہیے، کیونکہ ایمرجنسی کا نفاذ ہمیشہ کے لیے جاری نہیں رکھا جا سکتا۔

بلاول بھٹو زرداری نے افغانستان کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ وہاں پیدا ہونے والے حالات میں بھارت کا کردار ہے۔ انہوں نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا کہ صہیونی قوتیں پاکستان کی اندرونی سیاست میں مداخلت کر سکتی ہیں۔

انہوں نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ وہ اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے اور ضرورت پڑنے پر تنہا بھی مقابلہ کریں گے۔ بلاول بھٹو نے اپوزیشن کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان صرف حکومت کا نہیں بلکہ اپوزیشن اور تحریک انصاف کا بھی ملک ہے، اس لیے قومی مسائل کے حل کے لیے سب کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے خیبر پختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی کو پارٹی اجلاس میں ڈانٹنے اور ان پر غصہ کرنے سے متعلق خبروں کو جعلی قرار دیتے ہوئے ان کی تردید کر دی ہے۔
بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ یہ فیک نیوز ہے اور وہ اپنے ہی گورنر پر کیوں غصہ کریں گے، جنہیں ابھی ایک بھاری ذمہ داری سونپی گئی ہے۔
ان کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب میڈیا پر یہ خبریں گردش کر رہی تھیں کہ بلاول بھٹو نے پارٹی کے پارلیمانی اجلاس کے دوران فیصل کریم کنڈی کو ڈانٹا اور انہیں اجلاس سے باہر جانے کا کہا۔
بلاول بھٹو زرداری نے ان خبروں کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ فیصل کریم کنڈی سے متعلق یہ دعوے درست نہیں ہیں۔