گلاب دیوی اسپتال میں جھگڑا، عملے پر تشدد کے الزام میں 2 خواتین زیرِ حراست
واقعہ گزشتہ رات پیش آیا، جہاں مبینہ طور پر مریض کے ساتھ آنے والی خواتین اور اسپتال کے عملے کے درمیان اختلاف شدت اختیار کرگیا
گلاب دیوی اسپتال میں جھگڑا، عملے پر تشدد کے الزام میں 2 خواتین زیرِ حراست
لاہور(اُمت نیوز)لاہور کے گلاب دیوی اسپتال کے امیر الدین وارڈ میں ڈاکٹرز، پیرامیڈیکل اسٹاف اور مریض کے لواحقین کے درمیان تلخ کلامی کے بعد جھگڑا ہوگیا، جس پر پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے دو خواتین کو حراست میں لے لیا۔
تفصیلات کے مطابق واقعہ گزشتہ رات پیش آیا، جہاں مبینہ طور پر مریض کے ساتھ آنے والی خواتین اور اسپتال کے عملے کے درمیان اختلاف شدت اختیار کرگیا۔ سامنے آنے والی ویڈیو میں خواتین کو اسپتال کے عملے کے ساتھ ہاتھا پائی کرتے دیکھا جاسکتا ہے۔
پولیس کے مطابق واقعے کی اطلاع ملنے پر نصیر آباد پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے جھگڑے میں مبینہ طور پر ملوث دو خواتین کو حراست میں لیا۔ دونوں کے خلاف ضابطہ فوجداری کی دفعات 107 اور 151 کے تحت انسدادی کارروائی کی گئی اور انہیں عدالت میں پیش کردیا گیا۔
دارلحکومت لاہور کے حالات ۔
لواحقین کا گلاب دیوی ہسپتال میں لیڈی ڈاکٹر پر تشدد۔۔۔مریض کو آئی سی یو میں شفٹ کرنے کے لئے ڈاکٹر کو کہا لیکن ڈاکٹر نے کہا کہ بیڈ دستیاب نہیں۔
فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے خاتون لیڈی ڈاکٹر کی ویڈیو بنا رہی تھی جس کے بعد ڈاکٹر نے اس سے موبائل چھیننے کی… pic.twitter.com/PLGAkjmCFj— Naveed Satti (@Naveedsatti555) October 18, 2026
اطلاعات کے مطابق لیڈی ڈاکٹر زہرہ نے علاج کے عمل میں دشواری سے بچنے کے لیے خواتین کو وارڈ سے باہر جانے کا کہا تھا، جس کے بعد تلخ کلامی شروع ہوئی اور معاملہ جھگڑے تک پہنچ گیا۔
ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے کہا کہ اسپتال میں نظم و ضبط اور امن و امان برقرار رکھنے کے لیے پولیس نے بروقت کارروائی کی۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جاسکتی اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی ہوگی۔
انہوں نے شہریوں پر زور دیا کہ اسپتالوں میں مریضوں کے علاج میں رکاوٹ پیدا کرنے سے گریز کریں اور طبی عملے کے ساتھ تعاون کریں۔