مصری پارلیمنٹ نے سعودی عرب کو فوجی معاونت کی منظوری پر ووٹنگ مؤخر کر دی
اہم پیش رفت، ووٹنگ اب 19 اکتوبر کو ہوگی، مصری صدر کی حمایت کا اعلان۔
مصری صدر عبدالفتاح السیسی
مصری پارلیمنٹ نے سعودی عرب کو فوجی معاونت کی منظوری سے متعلق درخواست پر ووٹنگ آج کے اجلاس کے دوران مؤخر کر دی ہے۔ عرب میڈیا کے مطابق اس اہم معاملے پر ووٹنگ اب پیر 19 اکتوبر تک ملتوی کر دی گئی ہے، جبکہ ایک مصری رکنِ پارلیمان نے خبر رساں ادارے کو بتایا کہ اجلاس کا دورانیہ اس لیے بڑھایا گیا تاکہ تمام ارکان کو کھل کر اظہارِ خیال اور اپنی آرا پیش کرنے کا بھرپور موقع مل سکے۔
اس سے قبل مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی نے قاہرہ میں مصری ملٹری اکیڈمی میں تقریبِ تقسیمِ اسناد سے خطاب کرتے ہوئے عزم ظاہر کیا تھا کہ ان کا ملک سعودی عرب کے دفاع کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائے گا۔ انہوں نے کہا تھا کہ سعودی عرب کو نقصان پہنچنے یا اس کی سلامتی کو خطرہ لاحق ہونے کی صورت میں مصر خاموش نہیں رہ سکتا، اور اگر مصر سے مدد طلب کی گئی تو اس کی کارروائیوں کی نوعیت مکمل طور پر دفاعی ہوگی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر السیسی کی درخواست پر پارلیمنٹ کا ہنگامی اجلاس طلب کیا گیا تھا جس میں سعودی عرب کے دفاع کے لیے ممکنہ تعاون پر غور کیا جانا تھا۔ مصر کی قومی دفاعی کونسل نے بھی صدر کی زیر صدارت اجلاس کے دوران دفاعی مشن پر فوج بھیجنے کی منظوری دی تھی۔ واضح رہے کہ 2023 میں تجارتی جہازوں پر حوثی حملے شروع ہونے کے بعد سے نہر سوئز کو تقریباً 11 ارب ڈالر کی آمدنی کا نقصان اٹھانا پڑا ہے، جبکہ علاقائی کشیدگی کے اس تناظر میں تمام فریقین صورتحال کا بغور جائزہ لے رہے ہیں۔