ٹائیگر شیروف پر حملے کے پیچھے لارنس بشنوئی گینگ نکلا
سلمان خان کے ساتھ کام کرنے کی سزا دینے کا اعلان، اداکار کو گولی نہیں لگی مگر شیشے اور گن پاؤڈر سے زخم آئے
ٹائیگر شیروف وزیراعلیٰ شندے کے ساتھ
ممبئی کے علاقے جوہو میں 18 اکتوبر 2026 کی شام تقریباً 7 بجے پوشپا نرسی پا کے قریب بالی ووڈ اداکار ٹائیگر شیروف پر حملے کے پیچھے لارنس بشنوئی گینگ نکلا ہے۔ حملے میں ٹائیگرشیروف کو گولی نہیں لگی لیکن ان کے بازو اور سینوں پر پٹیوں کی موجودگی نے مداحوں میں تشویش پھیلا دی ہے۔
جیکی شیروف کے بیٹے ہیمنت شیروف المعروف ٹائیگر شیروف کی بی ایم ڈبلیو کار پر موٹر سائیکل سوار تین نامعلوم افراد نے فائرنگ کی۔ ٹائیگر ایک تقریب سے نکل رہے تھے۔ تین حملہ آور سفید شرٹوں میں موٹر سائیکل پر پہنچے۔ دو افراد اتر کر گاڑی پر گولیاں چلائیں جبکہ تیسرا بائیک پر انتظار کرتا رہا۔ مختلف رپورٹس کے مطابق 5 سے 7 راؤنڈ فائر کیے گئے۔
ایک وائرل ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ ایک شوٹر گاڑی کی کھڑکی کے قریب پہنچ کر فائر کرنے لگا مگر بندوق جام ہو گئی، جس سے بڑا سانحہ ٹل گیا۔ حملہ آور فوری طور پر ایس وی روڈ کی طرف فرار ہو گئے۔ پولیس کے مطابق حملہ آوروں نے پہلے سے ٹائیگر کے اتوار کے فٹ بال کے معمول کا ریکے کیا تھا کیونکہ وہ ہر اتوار تقریباً دو گھنٹے وہاں فٹ بال کھیلتے ہیں۔
واقعہ جوہو پولیس اسٹیشن سے صرف چند سو میٹر دور پیش آیا۔
ٹائیگر شیروف کو کوئی گولی نہیں لگی۔ وہ محفوظ رہے۔ تاہم گاڑی کے شیشے ٹوٹنے سے شیشے کے ٹکڑوں اور گن پاؤڈر سے معمولی خراشیں اور جلنے کے زخم آئے۔ مہاراشٹر کے نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے نے ان سے ملاقات کے بعد تصدیق کی کہ زخم ہاتھ اور سینے پر گن پاؤڈر اور شیشے کے ٹکڑوں سے ہوئے ہیں۔ اسی لیے ان کی سینے، کندھے اور بازو پر پٹی باندھی گئی تھی۔ وہ ناناوتی ہسپتال لے کر گئے مگر جلد کر دیئے گئے۔
ٹائیگر کے ڈرائیور فردوس کو بائیں ہاتھ میں گولی لگی۔ ایک راہ گیر امیش چرنکو سینے میں گولی لگی۔
ٹائیگر نے خود کار چلا کر ڈرائیور کو ہسپتال پہنچایا۔
حملہ کیوں ہوا اور حملہ آور کون؟
سوشل میڈیا پر انیل پنڈت اور ہرمین سندھو نے (جو خود کو لارنس بشنوئی گینگ سے منسلک بتاتے ہیں) آڈیو نوٹ اور پوسٹ میں ذمہ داری قبول کی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ٹائیگر کو پہلے فون پر وارننگ دی گئی تھی کہ سلمان خان کے ساتھ کام نہ کریں، مگر انہوں نے نہیں سنی اس لیے “سمجھایا”۔ گینگ نے بالی ووڈ کو بھی دھمکی دی کہ جو سلمان خان کے ساتھ کام کرے گا یا ان کی بات نہیں سنے گا وہ اگلا ہدف ہوگا۔
یہ دشمنی لارنس بشنوئی کی سلمان خان کے خلاف پرانی دشمنی سے جڑی ہے جو 1998 کے بلیک بک شکار کیس سے شروع ہوئی (بشنوئی کمیونٹی بلیک بک کو مقدس سمجھتی ہے)۔ بشنوئی جیل میں ہونے کے باوجود اپنی گینگ کے ذریعے سلمان اور ان سے وابستہ لوگوں کو نشانہ بناتا رہا ہے۔ بابا صدیق کا قتل اور سلمان کے گھر پر فائرنگ کے واقعات بھی اسے سے جڑے ہیں۔ پولیس ابھی اس دعوے کی تصدیق کر رہی ہے۔
ممبئی پولیس نے 15 ٹیمیں (بشمول کرائم برانچ) تشکیل دیں، FIR درج کی، فورنزک ٹیم نے بیلسٹک ثبوت اکٹھے کیے، CCTV فوٹیج کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور شوٹرز کی تصاویر سامنے آ چکی ہیں۔ حملہ آوروں کی موٹر سائیکل (پلسار) آندھیری ویسٹ ریلوے اسٹیشن کے قریب بازیاب ہو چکی ہے؛ پولیس اس کی ملکیت کی تین پچھلی مالکوں کا سراغ لگا رہی ہے۔ کچھ رپورٹس کے مطابق ایک شخص کو پوچھ گچھ کے لیے حراست میں لیا گیا۔
نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے نے اتوار رات ٹائیگر کے گھر جا کر ملاقات کی (ماں عائشہ شیروف بھی موجود تھیں)، زخموں کی تصدیق کی اور کہا کہ 90 کی دہائی جیسے گینگ وارز دوبارہ نہیں چلنے دیں گے۔ وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس نے پولیس کمشنر سے رپورٹ طلب کی اور سخت کارروائی کی ہدایت دی، ٹائیگر سے فون پر بھی بات کی۔