ملائیشیا میں قادیانی مرکز پر چھاپہ- درجنوں گرفتار
قادیانی گروہ ملائیشیا میں بھی غیر مسلم تصور کیا جاتا ہے- ماضی میں بھی کارروائیاں ہو چکی
ملائیشیا میں قادیانی مرکز پر مئی 2026 میں ہونے والی کارروائی کا منظر
ملائیشین حکام نے ملک میں غیر مسلم قرار دیے گئے قادیانی گروہ کے خلاف ایک بڑا کریک ڈاؤن کرتے ہوئے ان کےمرکز پر چھاپہ مار کر درجنوں افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ یہ کارروائی مسلم اکثریتی ملک ملائیشیا میں مذہبی قوانین کی خلاف ورزی اور غیر قانونی سرگرمیوں کے الزامات کے تحت عمل میں لائی گئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق، یہ کارروائی ملائیشیا کی ریاستی پولیس اور اسلامی مذہبی امور کے محکمے کی جانب سے کی گئی۔ جمعہ کے روز ہونے والی اس کارروائی میں درجنوں افراد کو حراست میں لیا گیا۔
قادیانیوں کا دعوی ہے کہ یہ کارروائی امیگریشن کے حوالے سے تھی اور جن افراد کے کاغذات مکمل تھے انہیں رہا کردیا۔
امیگریشن حکام نے ریاست سیلانجور میں واقع قادیانیوں کے مرکزی ہیڈ کوارٹر ‘بیت السلام’ پر چھاپہ مارا تھا، جس کے دوران وہاں موجود متعدد غیر ملکی اور پناہ گزینوں کو سفری دستاویزات نہ ہونے پر حراست میں لیا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ملکی قوانین اور امن عامہ کو برقرار رکھنے کے لیے ایسی کارروائیاں ماضی کی طرح آئندہ بھی جاری رہیں گی۔
رواں برس یہ دوسری اہم کارروائی ہے۔ مئی 2026 میں حکام نے قادیانی گروہ کے سالانہ اجتماع (جلسہ سالانہ) کے دوران ایک ہال پر اچانک چھاپہ مارا۔چھاپے کے دوران مجموعی طور پر 300 افراد کو حراست میں لیا گیا، جن میں گروہ کے 12 اہم ترین رہنما بھی شامل ہیں۔
ملائیشیا میں قادیانی گروہ کو سرکاری اور قانونی طور پر غیر مسلم تصور کیا جاتا ہے۔ ملائیشیا کی ریاستی فتاویٰ کونسل (Fatwa Council) کی جانب سے بہت پہلے یہ واضح اور قطعی فتویٰ جاری کیا جا چکا ہے کہ یہ گروہ دائرہ اسلام سے خارج ہے اور ان کے عقائد گمراہ کن ہیں۔
اس قانون کے تحت اس گروہ کو ملائیشیا میں اپنے عقائد کی کھلم کھلا تبلیغ کرنے، اسلامی اصطلاحات استعمال کرنے یا مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی سخت ممانعت ہے۔ حالیہ کارروائی بھی اسی سرکاری فتوے اور شرعی جرائم کے ایکٹ کے تحت کی گئی ہے کیونکہ یہ گروہ بغیر اجازت ایک بڑا اجتماع منعقد کر رہا تھا۔