سعودی عرب میں مقدس مقامات پر حملوں پر پاکستان میں شدید غم و غصہ ہے، ترجمان پاک فوج

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کاانڈیپنڈنٹ عربیہ کو خصوصی انٹرویو،مشرقِ وسطیٰ میں تنازع بڑھانےکے بجائےمذاکرات پرزور

October 19, 2026 · قومی

سعودی عرب میں مقدس مقامات پر حملوں پر پاکستانی عوام، سیاسی اور عسکری قیادت میں شدید غم و غصہ ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا انڈیپنڈنٹ عربیہ کو خصوصی انٹرویو۔

ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ سعودی عرب میں مقدس مقامات پر حملوں کے حوالے سے پاکستانی عوام، سیاسی اور عسکری قیادت میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ انڈیپنڈنٹ عربیہ کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور بالخصوص حرمین شریفین کا تحفظ پاکستان کے لیے اولین ترجیح ہے۔

انڈیپنڈنٹ عربیہ کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ حرمین شریفین کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوسکتا، پاکستان کا مؤقف بالکل واضح اور دوٹوک ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کا پیغام ہماری سیاسی قیادت اور فیلڈ مارشل کے ذریعے پہلے ہی سامنے آچکا ہے۔ سعودی عرب میں مقدس مقامات پر حملوں کے حوالے سے پاکستانی عوام، سیاسی اور عسکری قیادت میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ تنازعات کے اتار چڑھاؤ کو کسی بھی سطح پر بڑھانے سے کسی ملک کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ مشرقِ وسطیٰ کے فوجی تنازع کو مزید پھیلانا کسی کے مفاد میں نہیں، اس لیے مذاکرات کے ذریعے کسی نتیجے پر پہنچنا ناگزیر ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق، مذاکراتی حل میں ناکامی اور فوجی تصادم کی صورت میں مکہ الائنس کی اجتماعی ڈیٹرنس یقیناً حرکت میں آئے گی۔

انہوں نے کہا کہ مکہ الائنس کی قیادت اور لائحہ عمل واضح ہے اور اس اتحاد کا کوئی جارحانہ ارادہ نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ اپنی عوام سمیت پورے خطے میں امن، استحکام اور خوشحالی پر یقین رکھتے ہیں۔ مسلمانوں کو آپس میں لڑنے کے بجائے متحد ہونے کی ضرورت ہے، کیونکہ تنازعات کو کسی بھی سطح پر بڑھانے سے کسی کو فائدہ نہیں ہوگا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے واضح کیا کہ یہ اتحاد کسی خاص ملک کے خلاف نہیں، بلکہ اس کا بنیادی مقصد خطے میں امن، استحکام اور سلامتی کو فروغ دینا ہے۔