خواجہ آصف نے قریشی خاندان کے ملتان کے خانقاؤں سے رشتے پر سوالات اٹھا دیئے
1857 کی جنگ آزادی کے دوران بعض گدی نشینوں نے آزادی کے حامیوں کے خلاف کارروائیاں کیں اور انگریز حکمرانوں سے جاگیریں حاصل کیں
خواجہ آصف نے قریشی خاندان کے ملتان کے خانقاؤں سے رشتے پر سوالات اٹھا دیئے
اسلام آباد: وفاقی وزیر دفاع اور مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما خواجہ محمد آصف نے درگاہوں کے گدی نشینوں اور پیروں کے کردار پر تنقید کرتے ہوئے مزاروں کی گدیوں کو کاروباری فرنچائز سے تشبیہ دی ہے۔
خواجہ آصف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنی ایک پوسٹ میں دعویٰ کیا کہ بعض گدی نشین اپنے قریبی لوگوں کے ساتھ بھی مفادات کی بنیاد پر معاملات کرتے ہیں۔ انہوں نے ماضی میں مزاروں کے نذرانوں پر ہونے والے جھگڑوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایسے واقعات سوشل میڈیا پر بھی سامنے آچکے ہیں۔
وفاقی وزیر نے اپنی پوسٹ میں ڈیوڈ گلمارٹن کی کتاب Empire and Islam: Punjab and the Making of Pakistan کا حوالہ بھی دیا اور گدی نشینوں کے شجرہ نسب اور مزارات میں مدفون بزرگوں سے ان کے تعلق پر سوالات اٹھائے۔
یہ درگاہوں کے گدی نشین اور پیر اپنوں سے بھی رنگ بازی کرتے ھیں ۔ یہ مزار وں کی گدیاں نہیں فرنچائز ھیں۔ چند سال پہلے گدی کے نذرانوں اور پہ عین مزار کے اندر آپس میں جھگڑ رہے تھے۔ سوشل میڈیا پہ سارا جھگڑا چڑھا ھوا تھا۔ انکا شجرہ اس کتاب میں چیک کریں گدی کے ساتھ انکا کیا رشتہ ھے یا… pic.twitter.com/zGf9G9LHvE
— Khawaja M. Asif (@KhawajaMAsif) October 19, 2026
خواجہ آصف نے مزید الزام عائد کیا کہ 1857 کی جنگ آزادی کے دوران بعض گدی نشینوں نے آزادی کے حامیوں کے خلاف کارروائیاں کیں اور انگریز حکمرانوں سے جاگیریں حاصل کیں۔ تاہم، یہ الزامات ان کے بیان سے منسوب ہیں۔
انہوں نے اپنی پوسٹ کے ساتھ ایک ویڈیو اور مذکورہ کتاب کا سرورق بھی شیئر کیا۔ ان کے بیان کے بعد سوشل میڈیا پر بحث شروع ہوگئی، جہاں بعض صارفین نے اسے جنوبی پنجاب کے کچھ گدی نشین خاندانوں کی جانب اشارہ قرار دیا ہے۔