ملتان میں کام چھوڑنے پر بچے کو گاڑی سے کچلنے کی ویڈیو سامنے آگئی
واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آنے کے بعد پولیس نے قتل کا مقدمہ درج کرکے تحقیقات شروع کردی ہیں۔
ملتان میں کام چھوڑنے پر بچے کو گاڑی سے کچلنے کی ویڈیو سامنے آگئی
ملتان: ڈی ایچ اے ملتان میں 19 اکتوبر کی شام پیش آنے والے افسوسناک واقعے میں 15 سالہ یتیم لڑکا وسیم عباس گاڑی کی ٹکر سے جاں بحق ہوگیا۔ واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آنے کے بعد پولیس نے قتل کا مقدمہ درج کرکے تحقیقات شروع کردی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق وسیم عباس کا تعلق مظفرگڑھ سے تھا۔ والد کے انتقال کے بعد اسے اور اس کے بھائی کو ملتان کے ایک فلاحی ادارے کے یتیم خانے میں داخل کرایا گیا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ تقریباً ایک ہفتہ قبل یتیم خانے کی انتظامیہ نے وسیم کو الیکٹریشن کا کام سیکھنے کے لیے ٹھیکیدار توقیر نذیر کے پاس بھیجا تھا۔
ابتدائی معلومات کے مطابق وسیم کام چھوڑ کر واپس جانا چاہتا تھا، جس پر تنازع پیدا ہوا اور وہ وہاں سے بھاگ نکلا۔ پولیس اور دستیاب سی سی ٹی وی فوٹیج سے متعلق رپورٹس کے مطابق، اس کے بعد مبینہ طور پر توقیر نذیر اور اس کے ساتھی امجد علی نے لڑکے کا تعاقب کیا۔ الزام ہے کہ گاڑی کے ذریعے اس کا پیچھا کرتے ہوئے اسے ٹکر ماری گئی، جس کے نتیجے میں اس کے سر پر شدید چوٹیں آئیں اور وہ موقع پر ہی دم توڑ گیا۔
پولیس نے واقعے کے سلسلے میں توقیر نذیر کو گرفتار کرلیا ہے، جبکہ دوسرا ملزم امجد علی تاحال مفرور بتایا جاتا ہے۔ حکام نے گاڑی کو بھی تحویل میں لے لیا ہے تاکہ اسے تحقیقات میں بطور ثبوت استعمال کیا جاسکے۔
ملتان میں 15 سالہ یتیم بچے کے ساتھ افسوسناک واقعہ،اس بچے کو اس کے ٹھیکیدار نے جان بوجھ کر قتل کیا ہے یہ کام نہیں کرتا تھا بھاگ جاتا تھا۔ pic.twitter.com/qkhAKtmqrn
— Sarah🍁 (@Sra_az) October 20, 2026
ابتدائی تفتیش میں چوری سے متعلق کوئی ثبوت سامنے نہ آنے کی اطلاعات ہیں۔ پولیس یتیم خانے کی انتظامیہ سے بھی پوچھ گچھ کررہی ہے تاکہ معلوم کیا جاسکے کہ بچوں کو نجی ٹھیکیداروں کے پاس کام سیکھنے کے لیے بھیجنے کا طریقہ کار کیا تھا۔
وسیم عباس کی نماز جنازہ اس کے آبائی علاقے مظفرگڑھ میں ادا کی گئی، جہاں اسے سپرد خاک کردیا گیا۔ اہل خانہ نے واقعے میں ملوث افراد کے خلاف انصاف اور قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر شدید ردعمل دیکھنے میں آیا ہے۔ پولیس کے مطابق واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جارہا ہے اور مزید حقائق تحقیقات مکمل ہونے پر سامنے آئیں گے۔