کے پی میں گورنر راج اور ایمرجنسی صوبے کی معدنیات پر کنٹرول کے لیے ہے،فضل الرحمان

فضل الرحمان کا گورنر راج مسترد، پارلیمنٹ کا ان کیمرہ اجلاس بلانے کا مطالبہ

October 20, 2026 · قومی

فوٹو:فائل

جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے حوالے سے حکومتی بیانیہ بے بنیاد ہے، ان اقدامات کا مقصد صوبے کی معدنیات پر کنٹرول حاصل کرنا ہے۔

پارٹی کی مرکزی مجلس شوریٰ کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ موجودہ صورتحال پر پارلیمنٹ کا ان کیمرہ اجلاس بلا کر ارکان کو آگاہ کیا جائے۔ خیبرپختونخوا میں بننے والی عبوری کونسل میں جے یو آئی کا کوئی رکن شامل نہیں ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت طاقتور قوتوں کے کہنے پر طاقت کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ صدر مملکت نے آئینی تقاضے پورے نہیں کیے۔ ہم نے حکومت میں ہوتے ہوئے اختلاف بھی کیا اور اپوزیشن میں ہوتے ہوئے اتفاق بھی کرتے ہیں۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ جے یو آئی سیاسی مکالمے پر یقین رکھتی ہے۔ حکومتی پالیسیوں پر تحفظات ہوں تو الزام تراشی کے بجائے سیاسی انداز میں جواب دیا جانا چاہیے۔ اگر ہمیں یا کسی اور کو شکایات ہیں تو پارلیمنٹ کا ان کیمرہ اجلاس بلا کر بات کی جائے۔

انہوں نے خیبرپختونخوا میں گورنر راج کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس کے حق میں حکومتی بیانیہ بے بنیاد ہے۔ کئی آپریشنز ہوئے، لیکن ان کے نتائج کیا نکلے؟ مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے فاٹا کو صوبے میں ضم کیا، لیکن آج وہی مسلم لیگ (ن) سابق فاٹا کو مرکز میں دے چکی ہے۔ ان کے بقول، یہ سب صوبے کی معدنیات پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔

جے یو آئی سربراہ نے کہا کہ گورنر راج بلاجواز ہے اور اقتدار میں تبدیلی طاقت کے بجائے آئین کے مطابق ہونی چاہیے۔ ذوالفقار علی بھٹو اور آصف علی زرداری نے بھی گورنر راج نافذ کیا تھا، تو کیا اس وقت اسے تسلیم کیا گیا؟ انہوں نے کہا کہ صدر مملکت نے اطمینان کے بغیر دستخط کرکے آئینی تقاضے کی نفی کی۔

مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ کوئی ایک طاقت پوری قوم کے مفاد کی ترجمانی نہیں کر سکتی۔ آج ایشیا دوبارہ عالمی سطح کا معاشی مرکز بنتا جا رہا ہے، اس لیے مستقبل کے تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے لائحہ عمل بنانا چاہیے۔

انہوں نے اسلامی دنیا کے ایک بلاک کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اسلامی کانفرنس ایک غیر مؤثر بلاک ہے، اسے مؤثر ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق سعودی عرب پر حوثیوں کے حملے مسلم اتحاد کو روکنے کی کوشش ہیں۔