گوجرنوالہ میں توہین مذہب کا الزام لگا کر بھتیجے نے پھوپھی کو قتل کردیا

غلام مرسلین ملتان سے گوجرانوالہ آیا تھا۔ مقتولہ فرح شادی شدہ اور دو بچوں کی ماں تھیں۔رپورٹس

October 22, 2026 · امت خاص
گوجرنوالہ میں توہین مذہب کا الزام لگا کر بھتیجے نے پھوپھی کو قتل کردیا

پنجاب کے علاقے پیپلز کالونی میں نوجوان نے مبینہ طور پر اپنی پھوپھی فرح کو تیز دھار چھری سے گلا کاٹ کر قتل کر دیا۔ پولیس کے مطابق ملزم غلام مرسلین نے قتل کے بعد مقتولہ پر توہینِ مذہب کا الزام لگایا، تاہم ابتدائی تفتیش میں قتل کی وجہ ذاتی رنجش بتائی گئی ہے۔

واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو بھی گردش کرنے لگی، جس میں مبینہ ملزم خون آلود چھری تھامے لوگوں کے سامنے مقتولہ پر توہینِ رسالت کا الزام لگاتا دکھائی دیتا ہے۔

پولیس نے جائے وقوعہ پر پہنچ کر ملزم کو گرفتار کر لیا اور مبینہ آلۂ قتل بھی قبضے میں لے لیا۔ مقتولہ کے شوہر کی شکایت پر پیپلز کالونی تھانے میں پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 302 کے تحت قتل کا مقدمہ درج کیا گیا۔

پولیس ذرائع کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں واقعے کا تعلق ذاتی تنازعے سے جوڑا گیا ہے۔ حکام کے مطابق اب تک مقتولہ کی جانب سے توہینِ مذہب کے کسی عمل کا ثبوت سامنے نہیں آیا۔ پولیس اس معاملے کی مزید تفتیش کر رہی ہے تاکہ قتل کے اصل محرکات کا تعین کیا جا سکے۔

رپورٹس کے مطابق غلام مرسلین ملتان سے گوجرانوالہ آیا تھا۔ مقتولہ فرح شادی شدہ اور دو بچوں کی ماں تھیں۔ واقعے کے بعد ان کی لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹرز اسپتال گوجرانوالہ منتقل کر دیا گیا۔