پی ٹی آئی کے فیصلے اب پارلیمانی کمیٹی کرے گی، علی ظفر
میری سینیٹر شپ کو خطرہ نہیں، صحافیوں سے گفتگو، پارٹی میں تبدیلیوں کی مخالفت
بیرسٹر علی ظفر پارلیمنٹ کے باہر صحافیوں سے گفتگو کر رہے ہیں
اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینئر رہنما اور سینیٹر بیرسٹر علی ظفر نے اعلان کیا ہے کہ پی ٹی آئی کے فیصلے اب پارٹی کی پارلیمانی کمیٹی کرے گی۔ علی ظفر نے کہا کہ پارٹی کو موجودہ صورتحال سے نکالنے اور آگے بڑھانے کے لیے پارلیمنٹری پارٹی اور اس کے فیصلوں کو مضبوط کرنا ناگزیر ہے۔ اب انفرادی فیصلوں کی سیاست کا دور ختم ہونا چاہیے کیونکہ اس سے نقصان اٹھانا پڑا ہے۔
پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر علی ظفر کا کہنا تھا کہ ہماری پارلیمنٹری پارٹی میں انتہائی ذہین، تجربہ کار اور سیاسی شعور رکھنے والے سیاستدان موجود ہیں۔ اب تمام فیصلے مشاورت سے کر کے پی ٹی آئی کو منزل کی طرف لے کر جانا ہے۔ ہمارا بنیادی مقصد پاکستان میں قانون کی بالادستی اور بانی چیئرمین عمران خان کو انصاف دلانا ہے، جس کے لیے بھرپور جدوجہد کی جائے گی۔
انہوں نے واضح کیا کہ آئندہ کا لائحہ عمل طے کرنے کے لیے خیبرپختونخوا، پنجاب اور سندھ اسمبلی کے ارکان کو بھی شامل کیا جائے گا تاکہ ایک مضبوط اور مؤثر کلیکٹیو لیڈرشپ (اجتماعی قیادت) سامنے آ سکے۔
سینیٹرشپ خطرے میں پڑنے سے متعلق سوال کے جواب میں بیرسٹر علی ظفر نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ انہیں عہدوں کی کوئی پروا ہے اور نہ ہی کسی سینیٹرشپ کا کوئی فکر ہے۔
“مجھے نہ تو کسی عہدے کا فکر ہوتا ہے اور نہ ہی میں اس بارے میں سوچتا ہوں۔ میں اس وقت صرف اور صرف خان صاحب کے لیے کھڑا ہوں۔ عہدے اللہ تعالیٰ کی مرضی سے ملتے ہیں، نہ کوئی کسی سے چھین سکتا ہے اور نہ ہی کوئی اپنی مرضی سے دے سکتا ہے۔”
اپوزیشن لیڈران کو تبدیل کرنے سے متعلق سوال پر بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ اس معاملے پر پارٹی کے اندر مختلف آراء موجود ہیں اور کئی لوگ تبدیلی کی رائے بھی رکھتے ہیں، تاہم وہ ذاتی طور پر توڑ پھوڑ کی بجائے تعمیر اور جوڑ توڑ کے حامی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت ان کا اولین مقصد پارٹی کی تعمیر نو کرنا اور اس کی بنیادوں کو مضبوط کرنا ہے تاکہ مستقبل میں اپنے مقاصد حاصل کیے جا سکیں۔ اس وقت کسی کو ہٹانے یا نہ ہٹانے سے زیادہ اہم پارٹی کو متحد رکھنا اور آگے بڑھانا ہے۔