مریم نواز کی پولیس کو چار ہفتوں کی مہلت،امن و امان بہتر نہ ہونے پر افسران کو ہٹانے کی وارننگ

پنجاب میں جرائم کی روک تھام، پولیس افسران کو کارکردگی بہتر بنانے کی ہدایت

October 22, 2026 · قومی

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی پولیس کو امن و امان بہتر بنانے کے لیے چار ہفتوں کی مہلت، ناکامی پر متعلقہ افسران کو ہٹانے کی وارننگ۔ فائل فوٹو

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیر صدارت امن و امان سے متعلق خصوصی اجلاس ہوا، جس میں آر پی اوز اور ڈی پی اوز نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔ اجلاس میں صوبے کے تمام ڈویژنز اور اضلاع کی امن و امان کی صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے خواتین اور بچوں کے خلاف جرائم پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے پولیس کو صورتحال بہتر بنانے کے لیے چار ہفتوں کی مہلت دے دی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ امن و امان میں بہتری نہ آنے پر متعلقہ پولیس افسر کو عہدے سے ہٹا دیا جائے گا۔

مریم نواز شریف نے پولیس کو صوبائی سرحدی علاقوں سمیت تمام اضلاع میں گندم کی اسمگلنگ روکنے، ناجائز اسلحہ رکھنے والوں کے خلاف پیشگی کارروائی اور اسلحہ برآمد کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کیمرے والی عینک سمیت دیگر جاسوسی آلات پر پابندی یقینی بنانے، پولیس میں انسدادِ رشوت ستانی مہم تیز کرنے اور ملوث اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا حکم بھی دیا۔

وزیراعلیٰ نے ٹریفک مینجمنٹ پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے اوور اسپیڈنگ کے خلاف یقینی کارروائی کی ہدایت کی۔ انہوں نے صوبہ بھر میں پولیس پٹرولنگ مؤثر بنانے، جرائم کے ہاٹ اسپاٹس کی نشاندہی اور جرائم پیشہ نیٹ ورکس توڑنے کے لیے اقدامات کرنے پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پنجاب میں بدمعاشی کلچر برداشت نہیں کیا جائے گا اور منشیات کے خاتمے کے لیے بھرپور کارروائی کی جائے۔

مریم نواز شریف نے تمام آر پی اوز کو ہر قسم کے جرائم سے متعلق ہفتہ وار اجلاس کرنے اور متعلقہ ڈی پی اوز کی کارکردگی رپورٹس پیش کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے تبلیغی اجتماع کے منتظمین سے پولیس افسران کو خود رابطہ کرنے اور لاہور میں ڈولفن فورس کو پٹرولنگ کے لیے موٹر سائیکلیں اور دیگر سہولیات فراہم کرنے کا بھی حکم دیا۔

وزیراعلیٰ نے مجوزہ دھرنے کے دوران بہترین ڈیوٹی پر آر ایم سی کو سراہا اور ڈیوٹی کے دوران جاں بحق ہونے والے پولیس اہلکاروں کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے شہید پولیس افسران کے اہل خانہ کے لیے تاحیات تنخواہ اور پیکیج دینے کی ہدایت بھی کی۔ اجلاس میں راولپنڈی ڈویژن کی امن و امان کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا گیا، جبکہ آئی جی پنجاب نے ملتان واقعے سمیت سنگین جرائم اور صوبے کی مجموعی صورتحال پر بریفنگ دی۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ پنجاب میں جرائم کی شرح میں کمی کا رجحان جاری ہے۔ لاہور میں جرائم میں 41 فیصد، ڈیرہ غازی خان ریجن میں 16 فیصد، بہاولپور ریجن میں 52 فیصد، شیخوپورہ ریجن میں 32 فیصد، ملتان ریجن میں 47 فیصد، راولپنڈی ریجن میں 36 فیصد، ساہیوال ریجن میں 42 فیصد، گوجرانوالہ ریجن میں 67 فیصد اور گجرات ریجن میں 58 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔

ضلع وار اعداد و شمار کے مطابق کوٹ ادو میں 27 فیصد، راجن پور میں 7 فیصد، لیہ میں 25 فیصد، ڈیرہ غازی خان میں 9 فیصد، مظفر گڑھ میں 25 فیصد، رحیم یار خان میں 50 فیصد، قصور میں 32 فیصد، ننکانہ صاحب میں 19 فیصد اور شیخوپورہ میں 31 فیصد کمی ہوئی۔

اسی طرح وہاڑی میں 50 فیصد، لودھراں میں 30 فیصد، خانیوال میں 40 فیصد، ملتان میں 49 فیصد، راولپنڈی میں 42 فیصد، جہلم میں 38 فیصد، اٹک میں 9 فیصد، چکوال میں 10 فیصد اور مری میں 17 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔

بریفنگ کے مطابق اوکاڑہ میں 45 فیصد، ساہیوال میں 39 فیصد، پاکپتن میں 43 فیصد، سیالکوٹ میں 57 فیصد، نارووال میں 54 فیصد، گوجرانوالہ میں 73 فیصد، وزیرآباد میں 67 فیصد، منڈی بہاؤالدین میں 51 فیصد، گجرات میں 56 فیصد اور حافظ آباد میں 55 فیصد کمی ہوئی۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ موبائل پولیس اسٹیشن منصوبے کے ذریعے شہریوں کو مجموعی طور پر 9 ہزار 702 خدمات فراہم کی گئیں۔ وزیراعلیٰ نے ہجوم سے نمٹنے کے لیے مخصوص آر ایم سی پولیس فورس کی مستقل استعداد بڑھانے اور صوبہ بھر میں پولیس کی موجودگی یقینی بنانے کی ہدایت کی۔