لاہور: سی سی ڈی اہلکار نے تھانے آئی لڑکی کو بے آبرو کردیا، ویڈیو بھی بنا لی
متاثرہ لڑکی ڈی آئی جی آپریشن فیصل کامران کی کھلی کچہری پیش ہوئی جہاں اُس کی داد رسی کی گئی، مقدمہ درج
فائل فوٹو
لاہور: کاہنہ کے علاقے میں سی سی ڈی اہلکار نے جواں سالہ لڑکی کو زیادتی کا نشانہ بنا کر برہنہ حالت میں ویڈیو بنالی، مقدمہ درج کرلیا گیا۔
ایف آئی آر کے مطابق کوٹ لکھپت کی رہائشی نامی لڑکی یکم اکتوبر کوکاہنہ بازار گئی جہاں اس کے پرس سے موبائل فون غائب ہوگیا، موبائل فون گمشدگی کے لیے تھانہ کاہنہ گئی جہاں اس کو شبیر نامی سی سی ڈی پولیس اہلکار ملا۔
مقدمے کے متن کے مطابق سی سی ڈی پولیس اہلکار محمد شبیر نے موبائل فون نمبر لے کر اس کو بھیج دیا اور لڑکی کو کال کرکے موبائل فون ٹریس ہونے کے بہانے ہلو روڈ بلوایا۔
اِسی طرح مقدمے میں لکھا گیا کہ متاثرہ لڑکی آہلو روڈ پہنچی تو سی سی ڈی اہلکار شبیر اس کو حمیرا بی بی نامی خاتون کے گھر لے گیا جہاں اسلحہ نکال کر زیادتی کا نشانہ بنا کر اس کی برہنہ حالت میں ویڈیو بنالی۔
سی سی ڈی اہلکار شبیر نے 10 اکتوبر کو نامی لڑکی کو دوبارہ آہلو روڈ حمیرا بی بی کے گھر بلوایا، (ث)نامی لڑکی اپنی عزت بچانے کے لیے وہاں گئی سی سی ڈی اہلکار شبیر نے لڑکی کو دوبارہ زیادتی کا نشانہ بنایا۔
دوسری جانب لڑکی اندراج مقدمہ کے لیے تھانہ کاہنہ گئی مگر تھانے والوں نے مقدمہ درج کرنے کی بجائے ٹال مٹول سے کام لیا، متاثرہ لڑکی ڈی آئی جی آپریشن فیصل کامران کی کھلی کچہری پیش ہوئی جہاں اُس کی داد رسی کی گئی۔
مزید برآں تھانہ کاہنہ میں متاثرہ لڑکی کی مدعیت میں سی سی ڈی اہلکار محمد شبیر کے خلاف مقدمہ درج کرکے تفتیش شروع کردی گئی۔