کراچی: ناتھا خان تا گلستان جوہر سڑک تعمیر تنازع، ریلوے اور کے ایم سی میں کھینچا تانی

ریلوے پولیس نے دیگر شہروں سے100 سے زائد اہلکاروں کو کراچی بلالیا

October 23, 2026 · قومی
فائل فوٹو

فائل فوٹو

کراچی : ناتھا خان گوٹھ سے گلستان جوہر تک سڑک کی تعمیر کے منصوبے پر پاکستان ریلوے اور بلدیہ عظمیٰ کراچی (کے ایم سی) کے درمیان تنازع شدید صورت اختیار کر گیا ہے۔ سڑک کی تعمیراتی سرگرمیوں اور اراضی کے تنازع پر دونوں ادارے آمنے سامنے آ چکے ہیں، جبکہ صورتحال کے پیش نظر ریلوے پولیس نے دیگر ڈویژنز سے سو سے زائد مسلح اہلکاروں کی اضافی نفری کراچی طلب کر لی ہے۔

تفصیلات کے مطابق بلدیہ عظمیٰ کراچی کی جانب سے ناتھا خان گوٹھ سے گلستان جوہر تک سڑک کی تعمیر کا کام جاری تھا کہ ریلوے پولیس نے کام روک دیا۔ ریلوے حکام کا موقف تھا کہ سڑک کی تعمیر میں ریلوے کی ملکیت زمین بھی شامل ہے، اس لیے منصوبے کو آگے بڑھانے سے قبل باقاعدہ این او سی (عدم اعتراض کی سند) حاصل کرنا ضروری ہے۔

سڑک کی تعمیر کا کام نہ روکنے اور کے ایم سی عملے کے انکار پر معاملہ تلخ کلامی اور تصادم تک جا پہنچا۔ کے ایم سی حکام کے مطابق ریلوے پولیس نے کے ایم سی کے سٹی وارڈنز اور ان کے اعلیٰ افسران کو تشدد کا نشانہ بنایا۔ اس واقعے کے بعد کے ایم سی کی جانب سے شارع فیصل تھانے میں ریلوے پولیس کے خلاف مقدمہ درج کروایا گیا۔ جواب میں ریلوے پولیس نے بھی سٹی وارڈنز کے خلاف مقدمہ درج کرا دیا۔

تنازع نے اس وقت مزید سنگین رخ اختیار کیا جب چند روز قبل شارع فیصل پولیس نے مقدمے میں نامزد ملزمان کی گرفتاری کے لیے ریلوے پولیس کے تھانے پر چھاپہ مارا۔ اس دوران دونوں پولیس فورسز کے درمیان شدید بدنظمی پیدا ہوئی اور دونوں جانب سے ایک دوسرے کے سپاہیوں کو حراست میں لے لیا گیا۔ بعد ازاں اعلیٰ افسران کی فوری مداخلت پر معاملہ رفع دفع کرایا گیا اور اہلکاروں کو ایک دوسرے کے حوالے کیا گیا۔

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق کشیدگی کے پیش نظر ریلوے پولیس نے لاہور، ملتان اور سکھر ڈویژنز سے کمانڈوز، اے ایس آئیز اور سپاہیوں پر مشتمل 100 سے زائد اہلکاروں کی نفری کراچی طلب کر لی ہے۔ جدید اسلحے اور ایمونیشن سے لیس اس اضافی نفری کو ڈی ایس ریلوے کی رہائش گاہ کے باہر تعینات کر دیا گیا ہے۔

دوسری جانب ریلوے ذرائع کا کہنا ہے کہ کے ایم سی اور ریلوے کی اعلیٰ قیادت کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے۔ اگرچہ فی الوقت تنازع مکمل طور پر حل نہیں ہو سکا ہے، تاہم اعلیٰ سطحی رابطوں کے باعث صورتحال کی شدت میں کمی آئی ہے۔