امریکی دھمکیوں کے باوجود 3 ممالک ہمارے پاس آئے، تہران مذاکرات سے محسن رضائی بھی خوش
سعودی عرب، پاکستان اور ترکی کے اعلیٰ دفاعی اور انٹیلی جنس حکام نے علاقائی سلامتی کے امور پر بات چیت کی۔
امریکی دھمکیوں کے باوجود 3 ممالک ہمارے پاس آئے، تہران مذاکرات سے محسن رضائی بھی خوش
جنوبی ایشیا انڈیکس کی جانب سے شیئر کی گئی جھلکیوں کے مطابق محسن رضائی نے 26 اکتوبر 2026 کو تہران میں ہونے والے اجلاس پر تبصرہ کیا، جس میں سعودی عرب، پاکستان اور ترکی کے اعلیٰ دفاعی اور انٹیلی جنس حکام نے علاقائی سلامتی کے امور پر بات چیت کی۔
محسن رضائی کا کہنا تھا کہ چاروں ممالک کے درمیان تعاون کا آغاز بہت پہلے ہو جانا چاہیے تھا۔ انہوں نے اجلاس میں ہونے والی بات چیت کو مثبت قرار دیتے ہوئے کہا کہ مشترکہ کوششوں سے خطے کے متعدد مسائل حل کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
ایرانی رہنما نے زور دیا کہ مغربی ایشیا کے مسائل کا حل بیرونی مداخلت کے بجائے خطے کے ممالک کے باہمی تعاون سے تلاش کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے لبنان، شام، غزہ اور مقبوضہ مغربی کنارے سے اسرائیلی انخلا پر بھی زور دیا۔
محسن رضائی کے مطابق اسلامی ممالک کے اجلاسوں میں علاقائی اتحاد پر طویل عرصے سے بات چیت ہوتی رہی ہے، تاہم بیرونی مداخلت کے باعث اس سلسلے میں مؤثر عملی اقدامات نہیں ہو سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکی دھمکیوں کے باوجود سعودی عرب، پاکستان اور ترکی کے اعلیٰ حکام کا تہران کا دورہ اس بات کی علامت ہے کہ ان دھمکیوں کا اثر محدود رہا ہے۔ انہوں نے خطے میں امن و استحکام کے لیے چار ملکی مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔