سپریم کورٹ کے فیصلوں کے پابندنہیں:وفاقی آئینی عدالت۔اہم قانونی نکتہ واضح
جسٹس عامر فاروق کا8 صفحات پر مشتمل فیصلہ
وفاقی آئینی عدالت کا احاطہ اور جاری کردہ عدالتی دستاویزات کا منظر
وفاقی آئینی عدالت نے بلوچستان ٹریڈنگ کمپنی کی لیز بحالی اور قبضے سے متعلق نظرثانی کی درخواست مسترد کرتے ہوئے جمع کرائی گئی سیکیورٹی ضبط کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی عدالت نے ایک اہم قانونی نکتہ واضح کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ وفاقی آئینی عدالت سپریم کورٹ کے فیصلوں کی پابند نہیں ۔
جاری کردہ فیصلے کے مطابق، سپریم کورٹ کے فیصلوں کی وفاقی آئینی عدالت کے لیے صرف قائل کرنے والی حیثیت ہے۔ وفاقی آئینی عدالت سپریم کورٹ کے فیصلوں سے رہنمائی لے سکتی ہے، اور اگر سپریم کورٹ کی قانونی نظیر قانون و آئین سے ہم آہنگ ہو تو آئینی عدالت اسے اختیار کر سکتی ہے۔
جسٹس عامر فاروق نے آئینی عدالت کیِ نظرثانی اور اپیل کے اختیار کے متعلق8 صفحات پر مشتمل فیصلے میں کہا ہے کہ آئینی عدالت سپریم کورٹ کے فیصلے کی پابند نہیں تاہم ا س کی قانونی حیثیت رہنمائی کی حامل ہے اور جہاں سپریم کورٹ کی جانب سے وضع کردہ قانونی اصول قابلِ قبول ہوں یا قانون اور آئین سے مطابقت رکھتے ہوں، وہاں ان پر عمل کیا جا سکتا ہے۔
فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ نظرثانی کی درخواست کا دائرہ اختیار انتہائی محدود اور مخصوص ہے۔ یہ کیس پر دوبارہ بحث کا موقع نہیں بلکہ صرف ریکارڈ پر ظاہر غلطی یا کوتاہی تک محدود ہے جس سے انصاف کا قتل عام ہو رہا ہو۔ عدالت نظرثانی میں دوبارہ سماعت نہیں کرتی بلکہ ریکارڈ پر ظاہر غلطی دیکھتی ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ بلوچستان ٹریڈنگ کمپنی کی جانب سے دائر کی گئی نظرثانی کی درخواست میں کسی ایسی غلطی کی نشاندہی نہیں کی گئی جو ریکارڈ پر ظاہر ہو اور درخواست میں پرانے نکات ہی دوبارہ پیش کیے گئے۔
عدالت نے سختی سے ہدایت کی ہے کہ فریقین اور وکلا صرف حقیقی طور پر جائز بنیاد پر نظرثانی کی درخواستیں دائر کریں۔ فضول یا بدنیتی پر مبنی درخواست پر کم از کم 25000 روپے تک کے اخراجات عائد کیے جا سکتے ہیں متعلقہ ایڈووکیٹ آن ریکارڈ کے خلاف بھی تادیبی کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔ فیصلے کے تحت نظرثانی درخواست دائر کرنے سے پہلے ایڈووکیٹ آن ریکارڈ یا فریق کو وجوہات پر مبنی سرٹیفکیٹ دینا ہوگا اور سماعت کے لیے 50000 روپے بطور سیکیورٹی جمع کرانا لازم ہوگا۔
حالیہ رجحانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ درخواست گزار اور وکلا نظرثانی کے اختیار کو مقدمے پر دوبارہ بحث کرنے کا ایک اور موقع سمجھنے لگے ہیں حالانکہ نظرثانی درخواست کی سماعت کے دوران بینچ کسی مقدمے کی دوبارہ سماعت نہیں کرتا بلکہ صرف یہ دیکھتا ہے کہ آیا عدالتی ریکارڈ میں کوئی واضح غلطی یا خامی تو موجود نہیں موجود ہے جو بظاہر نظر آتی ہو۔