گزشتہ 2 برس کے دوران سندھ کے بیرونی قرضوں میں تمام صوبوں سے زیادہ اضافہ
مالیاتی امور پر تشویش، وزارت خزانہ کی رپورٹ جاری، خیبرپختونخوا میں بھی بے ضابطگیاں سامنے آئیں،
وزارت خزانہ اور آڈٹ رپورٹس کی دستاویزات کا عکس
وفاقی وزارت خزانہ اور سرکاری آڈٹ رپورٹس کے مطابق گزشتہ 2 برسوں کے دوران ملک کے مختلف صوبوں کے مالیاتی امور اور بیرونی قرضوں میں نمایاں تبدیلیاں ریکارڈ کی گئی ہیں۔ وزارت خزانہ کی جاری کردہ دستاویز کے مطابق تمام صوبوں کے مقابلے میں سندھ کے بیرونی قرضوں میں سب سے زیادہ اضافہ ہوا ہے۔
دستاویز کے مطابق سندھ کا بیرونی قرضہ جو جون 2024 میں 3 ارب 77 کروڑ 70 لاکھ ڈالر تھا، وہ ایک ارب 83کروڑ 90 لاکھ ڈالر کے اضافے سے بڑھ کر جون 2026 تک 5 ارب 61 کروڑ 60 لاکھ ڈالر ہو گیا ہے۔ اس کے برعکس پنجاب کے بیرونی قرضوں میں 2 سال کے دوران 37 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کا اضافہ ہوا، جس کے بعد اس کا حجم جون 2026 تک 6 ارب 40 کروڑ 20 لاکھ ڈالر تک پہنچ گیا جبکہ جون 2024 میں یہ 6 ارب 02 کروڑ 60 لاکھ ڈالر تھا۔ اسی طرح خیبرپختونخوا کے بیرونی قرضوں میں 2 سال کے دوران 59 کروڑ 50 لاکھ ڈالر اور بلوچستان کے قرضوں میں 3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ ہوا۔
دوسری جانب آڈٹ رپورٹ کے مطابق خیبرپختونخوا میں مالی سال 2024-25 کے دوران اربوں روپے کی سنگین مالی بے ضابطگیاں اور خامیوں کا انکشاف ہوا ہے۔ آڈٹ رپورٹ کے مطابق صوبے میں 72 ارب 46 کروڑ روپے کے سرکاری اخراجات کی مکمل تصدیق نہیں ہو سکی۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صوبائی اسمبلی کے منظور شدہ بجٹ سے 104 ارب 26 کروڑ روپے زائد SAP سسٹم میں درج کیے گئے، جبکہ 153 ارب 68 کروڑ روپے کے ترقیاتی اخراجات غلط حساباتی مد میں ظاہر کیے گئے۔
آڈٹ رپورٹ کے مطابق پبلک اکاؤنٹ میں 39 ارب 58 کروڑ روپے کے منفی بیلنس کی نشاندہی بھی کی گئی ہے۔ علاوہ ازیں خیبرپختونخوا میں 98 ارب 89 کروڑ روپے کے بیرونی قرضوں کا حساباتی ریکارڈ نامکمل پایا گیا ہے اور غیر ملکی قرضوں و سود کی مد میں 51 ارب 85 کروڑ روپے کی ادائیگیوں کی بھی مکمل تصدیق نہیں ہو سکی جس پر آڈٹ کی جانب سے سخت اعتراضات اٹھائے گئے ہیں۔