پاکستان آنے والے ایل این جی ٹینکر کے محفوظ سفر کیلئے ایران سے معاہدہ تھا

المائدہ 30 اکتوبر کو قطر کے راس لافان گیس پروسیسنگ مرکز سے روانہ ہوا

November 2, 2026 · امت خاص

پاکستان آئل ٹینکر جس نے ناکہ بندی کے باوجود آبنائے ہرمز عبور کی

 

آبنائے ہرمز کے قریب خلیج فارس میں مائع گیس (ایل این جی) لانے والے ٹینکرکے بارے میں امریکی جریدے ’بلوم برگ‘ نے ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ اس ٹینکر کی منزل پاکستان تھی اور اسلام آباد نے اس کے محفوظ سفر کے لیے تہران سے بات بھی کر رکھی تھی۔ جنگ کے آغاز کے بعد جہاں ایران نے کئی ممالک کے بحری جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے سے روک دیا وہیں مختلف مواقع پر وہ پاکستان آنے والے بحری جہازوں کو سفر کی اجازت دیتا رہا ہے۔

شپ ٹریکنگ پلیٹ فارم میرین ٹریفک کے مطابق ایل این جی ٹینکر ’المایدہ‘ 30 اکتوبر کو قطر کے راس لافان گیس پروسیسنگ مرکز سے روانہ ہوا اور اسے دو نومبر کی دوپہر پورٹ قاسم کراچی پہنچنا تھالیکن یہ اب تک خلیج فارس میں ہی موجود ہے۔

بلوم برگ‘ کے مطابق پاکستان نے المائدہ کو محفوظ راستہ دینے کے لیے ایران سے گرین سگنل حاصل کیا تھا۔مارشل آئی لینڈ‘ کے جھنڈے والے اس جہاز کو محفوظ راستہ دینے سے متعلق پاکستان نے 30 اکتوبر کو ایران سے بات کی تھی۔’بلوم برگ‘ نے لکھاہے کہ حملے سے چند گھنٹے قبل ایرانی حکام کی جانب سے جہاز کو گزرنے کی منظوری دی گئی تھی۔

قطر گیس ٹرانسپورٹ کمپنی ناقلات نے اپنی ویب سائٹ پر اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ المایدہ‘ جمعے کی شام کو خلیج فارس میں نامعلوم اشیا کی زد میں آیا۔بیان میں کہا گیا ہے کہ اس واقعے میں جہاز پر سوار عملے کا کوئی رکن زخمی نہیں ہوا اور نہ اس کے نتیجے میں ماحولیات پر کوئی اثر پڑا ہے۔ جہاز محفوظ حالت میں ہے، آپریشنل ہے اور واقعے کے اثرات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

’بلوم برگ‘ کے مطابق فوری طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا کہ ٹینکر پر فائرنگ کیوں کی گئی۔

اس واقعے کے حوالے سے بھارتی وزیر جہاز رانی سربانند سونووال نے ایکس پر لکھا کہ اس جہاز میں چھ انڈین شہریوں سمیت عملے کے تمام 25 ارکان مکمل طور پر محفوظ ہیں۔پاکستان کی جانب سے تاحال اس معاملے پر کوئی ردِعمل سامنے نہیں آیا اور نہ ایران نے اس حوالے سے کوئی بیان جاری کیا ہے۔

قطر کی وزارتِ خارجہ نے بتایا کہ قطر گیس ٹرانسپورٹ کمپنی (ناقلات) کی ملکیت ’المایدہ‘ ایل این جی ٹینکر جمعے کی شام خلیج فارس میں پروجیکٹائلز کی زد میں آیا۔

قطر نے تاحال کسی ملک پر اس حملے کا الزام عائد نہیں کیا، تاہم قطری وزارتِ خارجہ کے مطابق یہ واقعہ عالمی توانائی سپلائی اور بحری سلامتی کے لیے سنگین خطرات پیدا کرتا ہے۔بیان میں کہا گیا کہ قطر بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق اپنے اثاثوں، قومی مفادات، جہازوں اور عملے کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات اٹھانے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

وزارت خارجہ قطر کے مطابق متعلقہ حکام نے واقعے کی وجوہات اور اس میں ملوث عناصر کی شناخت کے لیے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔قطر نے خبردار کیا کہ اس نوعیت کی غیر ذمہ دارانہ اور اشتعال انگیز کارروائیاں خطے کے امن و استحکام اور عالمی معیشت دونوں کے لیے سنگین خطرات کا باعث بن سکتی ہیں۔

سعودی عرب نے بھی ’المایدہ‘ کو نشانہ بنانے کی شدید مذمت کی ہے۔سعودی وزارتِ خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب سمندری جہاز رانی کی سلامتی اور عالمی توانائی کی سپلائی کو خطرے میں ڈالنے والی تمام کارروائیوں کو مسترد کرتا ہے۔