زیرحراست افغان پناہ گزینوں کو امریکہ سے پاکستان بھیجنے کی خبروں پر طالبان کا اظہارتشویش
اس معاملے میں ذمہ دارانہ اور متوازن رویہ اختیار کیا جائے، کابل
تصویر: سوشل میڈیا
طالبان نے ان رپورٹس پر تشویش کا اظہار کیا ہے جن کے مطابق امریکہ زیرِ حراست افغان پناہ گزینوں کو پاکستان بھیجنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔
طالبان حکومت کی وزارتِ خارجہ کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ و مواصلات کے سربراہ ضیا احمد تکل نے کہا ہے کہ اسلامی امارتِ افغانستان ان خبروں پر گہری تشویش کا اظہار کرتی ہے کہ امریکہ ایسے افغان پناہ گزینوں کو، جنہیں ابھی تک قانونی رہائشی دستاویزات حاصل نہیں ہوئیں، پاکستان بھیجنے کا ارادہ رکھتا ہے۔انھوں نے امریکہ پر زور دیا کہ وہ اس معاملے میں ذمہ دارانہ اور متوازن رویہ اختیار کرے۔انھوں نے کہا کہ افغان شہریوں کے مستقبل سے متعلق کوئی بھی فیصلہ یا اقدام دونوں ممالک کے درمیان واضح مفاہمت، ضروری رابطہ کاری اور متعلقہ افراد کے حقوق اور جائز مطالبات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جانا چاہیے۔
افغان افسر نے مزید کہا کہ کسی تیسرے ملک کے لیے یہ مناسب نہیں کہ وہ کسی دوسرے ملک کے شہریوں کے مستقبل کو سودے بازی کا موضوع بنائے، چاہے یہ محدود اور عارضی فوائد کے حصول کے لیے ہو یا کسی اور مقصد کے تحت۔ ایسے فیصلے انسانی وقار، حقوق اور تسلیم شدہ اخلاقی و انسانی اصولوں کے منافی ہو سکتے ہیں۔
متعدد بین الاقوامی ذرائع ابلاغ نے رپورٹ کیا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ کئی افغان پناہ گزینوں کو پاکستان کے راستے افغانستان واپس بھیجنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔
واضح رہے کہ گذشتہ سال امریکی حکومت نے ہزاروں افغانوں کو عارضی طور پر ملک بدری سے تحفظ دینے والا پروگرام ختم کر دیا تھا، جس کا طالبان نے اُس وقت خیرمقدم کیا تھا۔