سینیٹر کامران مرتضیٰ کے گھر پر 40 مسلح افراد کے دھاوے کا الزام،سینیٹ میں تحریک استحقاق جمع

November 5, 2026 · قومی
سینیٹر کامران مرتضیٰ کے گھر پر 40 مسلح افراد کے دھاوے کا الزام،سینیٹ میں تحریک استحقاق جمع

سینیٹر کامران مرتضیٰ کے گھر پر 40 مسلح افراد کے دھاوے کا الزام،سینیٹ میں تحریک استحقاق جمع

اسلام آباد: سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کوئٹہ میں اپنی رہائش گاہ اور آبائی گھر پر مبینہ طور پر 40 مسلح افراد کے دھاوے، خواتین اور بچوں کو ہراساں کرنے اور اہلکاروں کی جانب سے شناخت ظاہر نہ کرنے کے معاملے پر سینیٹ میں تحریک استحقاق جمع کرا دی ہے۔

سینیٹر کی جانب سے جمع کرائی گئی تحریک کے مطابق 4 نومبر 2026 کو تقریباً 40 افراد نے کوئٹہ کی سنگل ہاؤسنگ اسکیم میں واقع ان کے ذاتی گھر نمبر D-70 پر دھاوا بولا۔ الزام ہے کہ ان افراد نے گھر کے مرکزی دروازے پر لاتیں ماریں، دیواروں پر چڑھ کر تصاویر بنائیں اور باہر نصب بجلی کے میٹر کی بھی عکس بندی کی۔

تحریک میں بتایا گیا ہے کہ شور شرابے کے باعث محلے کے لوگ جمع ہوگئے اور بعض طلبہ نے موبائل فون سے واقعے کی ویڈیوز بنانے کی کوشش کی، تاہم مبینہ طور پر انہیں ریکارڈنگ سے روک دیا گیا۔

کامران مرتضیٰ کے مطابق بعد ازاں یہی افراد پولیس اہلکاروں کے ہمراہ ان کے آبائی گھر نمبر D-22 بھی پہنچے، جہاں اہلکاروں نے دروازوں پر لاتیں ماریں اور گھر میں موجود خواتین اور بچوں کو ہراساں کیا۔

تحریک کے مطابق واقعے کے وقت سینیٹر کے چھوٹے بھائی عدنان، خواتین اور بچے گھر میں موجود تھے۔ سینیٹر کا کہنا ہے کہ ان کے بھائی نے اہلکاروں سے شناخت ظاہر کرنے کا مطالبہ کیا تو انہوں نے اپنی شناخت بتانے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے کہنے پر وہاں آئے ہیں۔

سینیٹر کے مطابق لوگوں کی بڑی تعداد جمع ہونے کے بعد یہ افراد وہاں سے روانہ ہوگئے۔

تحریک استحقاق میں کامران مرتضیٰ نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ کسی سینیٹر کی غیر موجودگی میں اس کی رہائش گاہ پر دھاوا بولنا اور گھر میں موجود خواتین و بچوں کو ہراساں کرنا نہ صرف رکن پارلیمنٹ کے استحقاق بلکہ شہریوں کے تحفظ اور عزت و وقار کا بھی سنگین معاملہ ہے۔

انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ تحریک کو متعلقہ کمیٹی کے سپرد کیا جائے تاکہ واقعے کی تحقیقات کرکے رپورٹ سینیٹ میں پیش کی جا سکے۔