اس دن ہر آنکھ اشکبار تھی، ملک سوگ میں ڈوب چکا تھا ہر طرف قیامت جیسا سناٹا تھا، اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کا خواب دیکھنے والے والدین اپنے بچوں کے ساتھ ان سارے خوابوں کو بھی دفن کرتے رہے، روتے بلکتے بس ایک ہی سوال پوچھتے رہے کہ آخر ان کے بچوں کا قصور کیا تھا ، خودانکا قصور کیا تھا۔
معصوم بچوں پرحملہ کرنے والے دہشت گردوں کو افواج پاکستان نے اسی وقت آپریشن میں جہنم واصل کردیا۔ جبکہ سہولت کار بعد میں پھانسی پر چڑھ گئے۔ لیکن 16 دسمبر کا وہ دن ملک کی تاریخ کا بھیانک خواب بن کررہ گیا۔
سانحہ اے پی ایس میں شہید ہونے والوں بچوں کے ماں باپ کا کہنا ہے کہ لواحقین کہتے ہیں اب دوسروں کے بچوں کا تحفظ یقینی بنانا ہی ان کی زندگی کا مشن ہے ۔