پاکستان میں ڈاکٹرزاور سرجنز دل کے امراض، ذیابیطس، شدید ذہنی دبائو، غیر متوازن طرزِ زندگی اور بعض کیسز میں کم عمری میں جان کی بازی ہار رہے ہیں، کیونکہ طویل ڈیوٹیاں، مسلسل نیند کی کمی، ورزش کا فقدان، ناقص غذا اور مستقل نفسیاتی دبا ئونے انہیں اپنی ہی صحت سے غافل کر دیا ہے۔
ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ اگر اس صورتحال کو فوری طور پر سنجیدگی سے نہ لیا گیا تو ملک کا صحت کا نظام اپنے بنیادی ستون یعنی معالجین کو کھو دے گا۔ماہرین نے بتایا کہ ملک بھر میں تقریباً 60فیصد ڈاکٹر شدید ذہنی و جسمانی تھکن کا شکار ہیں، ڈاکٹروں میں اپنے ہاتھوں زندگی کے خاتمے کی شرح عام آبادی کے مقابلے میں تقریباً دو گنا ہے۔ اس کے باوجود صرف ایک تہائی ڈاکٹر ہی ذہنی یا نفسیاتی مسائل کے لیے پیشہ ورانہ مدد حاصل کرتے ہیں، باقاعدہ جسمانی سرگرمی اپنانے والوں کی شرح بمشکل 10 فیصد تک محدود ہے۔
یہ تشویشناک اعداد و شمار لائف اِن اے میٹرو کے عنوان سے منعقدہ ایک قومی سطح کے علمی فورم پر سامنے آئے، جو ہڈسن فارما پاکستان کے تحت منعقد ہوا۔
مقررین کے مطابق ڈاکٹر اب صحت کے نظام کے سب سے زیادہ نظرانداز کیے گئے مریض بن چکے ہیں۔سینئر ماہرِ امراضِ قلب ڈاکٹر ریحان عمر صدیقی نے کہا کہ پاکستان میں ڈاکٹروں کی شدید ذہنی و جسمانی تھکن ایک خاموش مگر سنگین بحران کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ ان کے مطابق طویل اور غیر متوقع ڈیوٹیاں، ایمرجنسی کا مسلسل دبا، نیند کی دائمی کمی، ناقص غذا، ورزش کی کمی اور خود کو نظرانداز کرنے کی عادت ڈاکٹروں کو کم عمری میں دل کی بیماریوں، بلڈ پریشر، ذیابیطس اور ذہنی امراض کی طرف دھکیل رہی ہے۔انہوں نے ہوائی جہاز میں آکسیجن ماسک کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ دوسروں کی جان بچانے سے پہلے اپنی جان اور صحت کا تحفظ ضروری ہے۔ صحت مند ڈاکٹر ہی محفوظ اور معیاری علاج فراہم کر سکتا ہے، اس لیے صحت مند رہنا کوئی ذاتی سہولت نہیں بلکہ ایک پیشہ ورانہ ذمہ داری ہے۔
ماہرِ نفسیات ڈاکٹر کلثوم حیدر نے کہا کہ ذہنی اور جسمانی صحت ایک دوسرے سے الگ نہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ڈپریشن اور بے چینی دنیا بھر میں سب سے عام ذہنی مسائل ہیں، مگر جب انہیں نظرانداز کیا جائے تو یہ جسمانی بیماریوں کی صورت میں سامنے آتے ہیں، حتی کہ دل کے امراض بھی جنم لے سکتے ہیں۔
مباحثے کے دوران ماہرین نے نشاندہی کی کہ شہری زندگی ڈاکٹروں کے ذہنی دبا ئوکو بڑھا رہی ہے۔ ٹریفک کا دبائو، فضائی آلودگی، مریضوں کی غیر معمولی تعداد اور سردیوں میں موسمی اداسی جیسے عوامل شدید ذہنی و جسمانی تھکن کو مزید گہرا کر رہے ہیں۔
کئی ماہرین کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر اپنی زندگی کے بہترین سال دوسروں کی خدمت میں گزار دیتے ہیں اور اپنی صحت اور ذاتی زندگی کو مسلسل نظراندازکرتے رہتے ہیں، جس کا نتیجہ بعد ازاں بیماری اور تنہائی کی صورت میں نکلتا ہے۔
خواجہ احدالدین نے کہا کہ ڈاکٹر کسی بھی دوا یا پروڈکٹ سے زیادہ قیمتی ہیں۔ فارما اور معالجین کے تعلقات کا مقصد محض تشہیر نہیں بلکہ سائنس، تعلیمی سرگرمیوں، مریضوں کی فلاح اور ڈاکٹروں کی جسمانی و ذہنی صحت کا تحفظ ہونا چاہیے۔انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ڈاکٹروں میں شدید ذہنی و جسمانی تھکن، ذہنی مسائل اور خود سے غفلت کے بحران کو سنجیدگی سے حل نہ کیا گیا تو صحت کا پورا نظام عدم استحکام کا شکار ہو سکتا ہے، کیونکہ جو نظام اپنے معالجین کو ٹوٹنے پر مجبور کر دے وہ مریضوں کو شفا نہیں دے سکتا۔
Ummat News Latest Urdu News in Pakistan Politics Headlines Videos