سکرین گریب

لاڑکانہ پولیس اہلکارکی ایک شخص کو سرعام گولی مارکرقتل کرنے کی بہیمانہ وڈیو وائرل

سندھ کے ضلع لاڑکانہ کی ایک وڈیو سوشل میڈیاپر وائرل ہے جس میں پولیس اہل کار سڑک پر سرعام ایک شخص کو سرمیں گولی مارکر قتل کرتا نظر آتاہے۔ مارا گیا شخص زخمی حالت میں زمین پر لیٹا ہواہے۔

میڈیارپورٹس کے مطابق یہ واقعہ پانچ سے چھ روزپہلے کا ہے اور حیدر ی تھانے کی حدودمیں مبینہ پولیس مقابلہ بتایا جاتاہے۔

مارے گئے شخص کا نام علی گوہر کلہوڑویا علی گل گلہوڑوہے،اور اس کا تعلق قمبر شہداد کوٹ سے ہے۔ نجی ٹی وی کے مطابق یہ سیاسی کارکن تھا جو 8بچوں کا باپ اور پیشے سے کاشت کار تھا۔نجی ٹی وی کا بتاناہے کہ عینی شاہدین کے مطابق متوفی موٹرسائیکل پر سوار تھا جس نے اہلکار کے سامنے ہاتھ جوڑ کر معافی بھی مانگی مگر ایک نہ سنی گئی اور اہلکار نے بہت قریب سے سرعام گولیاں مار دیں۔پولیس ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ بے نظیر بھٹو کی برسی کے روز واقعہ پیش آیا، جس میں قمبر شہداد کوٹ سے تعلق رکھنے والے ملزم کے حملے میں پولیس اہلکار زیب جتوئی زخمی ہوا۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ میں کہاگیاہے کہ ڈی آئی جی لاڑکانہ کی سربراہی میں واقعے کی تحقیقات کیلیے کمیٹی قائم کردی گئی ہے ، ایس ایس پی لاڑکانہ کی ہدایت پر اہلکار عرض محمد کو گرفتار کر کے ملازمت سے برطرف کردیا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق پولیس اہلکار نے گولیاں مارتے ہوئے کہا کہ اس نے ہمارے بچوں سے جھگڑا کیا، پھر ملزم کو پکڑگولیاں ماریں۔
انہوں نے بتایا کہ ایس پی نے قانونی کارروائی کیلیے ورثا کو بلا لیا تاکہ اہلکار کے خلاف مقدمہ درج کر کے مزید کارروائی کی جائے۔

سوشل میڈیاذرائع کا کہناہے کہ سڑک پر شہریوں کے سامنے ملزم علی گل کلہوڑو کو گولی مار کر قتل کرنے والے پولیس اہلکارعرض محمد جتوئی کو گرفتار کر لیا گیا۔ ذرائع کے مطابق مقابلے کے دوران اورنگزیب جتوئی نامی ایک اہلکار زخمی ہوا۔ بھائی کے زخمی ہونے کے بعد عرض محمد جتوئی نے مشتعل ہو کر زخمی ملزم علی گل کلہوڑو کو گولی ماردی۔ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد ایس ایس پی لاڑکانہ فیصل چوہدری نے نوٹس لیا۔

ایس ایس پی فیصل چوہدری نے سندھ ٹی وی نیوز کوبتایاکہ واقعے کی تحقیقات کی جائیں گی اور ملوث پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی ہو گی۔ قانون سب کے لیے برابر ہے، مجرم ہو یا پولیس اہلکار، کسی کو نہیں بخشا جائے گا۔ انکوائری ایس ایس پی جیکب آباد محمد کلیم کریں گے۔

پولیس ذرائع کے مطابق ایس ایس پی کلیم ملک نے جائے وقوعہ پر موجود تمام اہلکاروں کے بیانات لینا شروع کر دیے ہیں ۔ویڈیو میں فائرنگ کرتے نظر آنے والے اہلکار کو بھی ایس ایس پی آفس لاڑکانہ طلب کر لیا گیا ہے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں گے اور انصاف کے تقاضے پورے کیے جائیں گے۔
27 دسمبر کو میڈیاپر آنے والی خبر کے مطابق اندرون سندھ کے علاقے لاڑکانہ میں مبینہ پولیس مقابلے کے دوران ڈاکو ہلاک  اور پولیس اہلکار زخمی ہو گیا تھا۔

پولیس کے مطابق ڈکیتی واردات کے دوران اطلاع ملنے پر پولیس نوڈیرو چوک کے قریب پہنچی تو ڈاکو کی پولیس پارٹی پر فائرنگ سے کانسٹیبل اورنگزیب جتوئی گولیاں لگنے سے شدید زخمی ہوگیا۔پولیس کا کہنا تھا کہ فائرنگ کے تبادلے میں ڈاکو بھی مارا گیا ، ہلاک ڈاکو کی شناخت علی گل کلہوڑو، رہائشی ماہی مکول قمبر کے نام سے ہوئی۔

زخمی اہلکار اورنگزیب جتوئی اور ہلاک ڈاکو کی لاش مقامی ٹراما سینٹر منتقل کردی گئی ۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ زخمی پولیس اہلکار کو 3 گولیاں لگیں۔

ادھر علی گل کلہوڑو کے اہل خانہ نے واقعے کو کھلا ظلم قرار دیتے ہوئے ریاست سے انصاف کی دہائی دے دی۔مقتول کی بڑی بیٹی صائمہ، چچا و پرائمری ٹیچر غلام مصطفیٰ اور کمسن بیٹے نے روتے ہوئے بتایا کہ علی گل کلہوڑو نہ کسی سنگین جرم میں ملوث تھا اور نہ  اس کی کسی سے دشمنی تھی، علی گل کلہوڑو پیپلز پارٹی کا ورکر تھا وہ برسی کے موقع پر قمبر شہدادکوٹ سے لاڑکانہ گیا تھا اور فصل اترنے کے بعد بچوں کے لیے سردیوں کے گرم کپڑے خریدنے کی نیت سے ایک لاکھ روپے بھی ساتھ لے کر نکلا تھا، اس نے گھر والوں کو بتایا تھا کہ برسی میں شرکت کے بعد خریداری کر کے واپس لوٹ آئے گا مگر وہ واپس نہ آ سکا۔

اہل خانہ کا کہنا ہے کہ علی گل کلہوڑو پر 2011 میں برادری کے جھگڑوں کے باعث ایک مقدمہ درج تھا، وہ سعودی عرب اور دبئی میں مزدوری کرتا رہا اور دو سال قبل وطن واپس آیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔