مظفرآباد(پی آئی ڈی) آزادحکومت ریاست جموں وکشمیر نے جموں وکشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ طے شدہ معاہدے پر عملدرآمد کی تفصیلات میڈیا کے سامنے رکھ دیں۔ جمعہ کے روز وزیراعظم سیکرٹریٹ میں کابینہ اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے وزیراعظم آزادحکومت ریاست جموں وکشمیر فیصل ممتازراٹھور نے کہا کہ عوامی مفادات سے جڑے مسائل اور معاملات حل کرنے میں موجودہ حکومت نے ایک لمحہ تاخیر نہیں کی۔ جن مسائل کی بنیادپر عوام سڑکوں پر آئے حکومت نے ان کو حل کرنے کیلئے جموں وکشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی سے طے شدہ معاہدے پر عملدرآمد کو اولین ترجیح میں رکھا۔ کوئی بات مفروضے پر مبنی نہیں۔گزشتہ اڑھائی سالہ حکومت کے دور میں عوام اور حکومت کے مابین کہیں نا کہیں دوری تھی جس کو پاکستان پیپلزپارٹی کی عوامی حکومت نے ختم کیا۔ ریاست بھی اپنی ہے اور عوام بھی اپنی ہے، جموں وکشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی والے بھی ہمارے بھائی ہیں،بڑے سے بڑا مسئلہ بھی ڈائیلاگ اور بات چیت سے ہی حل کیا جا سکتا ہے۔ پر وہ بات کریں گے جو حقائق پر مبنی ہو۔حکومت نے اقتدار سنبھالنے کے بعد ہر وہ کام کیا جو ممکن تھا، کمی کوتاہی کو دور کرنے کیلئے ہر ممکن اقدامات اٹھائیں گے۔ حکومت کے قیام کے سوا ماہ کے اندر ریاست میں عوام میں سیاستی اعتماد میں بحالی کو دیکھا جا سکتا ہے،موجودہ حکومت نے سوا ماہ میں دوڈویژن کے دورے کیے اور عوام کی جانب سے پھولوں کی پتیوں سے استقبال کیا گیا، ہم نے گورننس میں بہتری سمیت تمام معاملات کو درست سمت لیکر چلنا ہے۔ عوامی مسائل حل کرنے آئے ہیں۔ہم نے ریاست کو آگے لیکر جانا ہے۔ وزیراعظم آفس، وزراء اور بیوروکریسی کے دروازے عوام کے مسائل حل کرنے کے لیے کھلے ہیں۔ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے نکات سے ہٹ کر بھی مسائل کو حل کریں گے۔ آزادکشمیر میں انوسٹمنٹ کانفرنس اور اس کے ساتھ ساتھ صاف و شفاف الیکشن بھی کروانے ہیں۔اس موقع پر وزراء حکومت دیوان علی خان چغتائی ، چوہدری قاسم مجید،چوہدری رفیق نیئر ، چیف سیکرٹری خوشحال خان ، پرنسپل سیکرٹری ظفر محمودخان ، سیکرٹری اطلاعات عدنان خورشید بھی موجود تھے ۔ انہوں نے کہاکہ حکومت نے کبھی انا کو سامنے نہیں رکھا، خود چل کر ایکشن کمیٹی کے کور ممبرکے گھر گیا۔ انہوں نے کہاکہ جب حکومت معاہدے پر عملدرآمد کررہی ہے تو لوگوں کو امتحان میں نہ ڈالاجائے۔ اس موقع پر جموں وکشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ طے شدہ 39نکاتی معاہدے پر عملدرآمد کے حوالے سے تفصیل بتاتے ہوئے حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے رکن وزیر خزانہ و ان لینڈ ریونیو چوہدری قاسم مجید نے معاہدے کی شق وار تفصیل بتاتے ہوئے کہاکہ معاہدے کی شق نمبر01 کے مطالبے کے مطابق حکومت نے 192ایف آئی آرز میں سے 177ایف آئی آرز واپس لے لی ہیں جبکہ ایکشن کمیٹی سے معاہدے کے مطابق ہلاکتوں سے متعلق ایف 15ایف آئی آرکابینہ کی منظوری کے بعد عدالت العالیہ سے دوعدالتی کمیشنز کی سربراہی درج شدہ ایف آئی آرز کے جائزہ کے لیے معزز جج صاحب کی نامزدگی کی تحریک کر دی گئی ہے۔
معاہدے کی شق نمبر02کے مطالبے پر عملدرآمد کرتے ہوئے حکومت نے یکم اور دو اکتوبر 2025کے واقعات میں ہلاک شدگان اور زخمیوں کے خاندانوں کو معاوضہ جات ادا کر دیے ہیں جبکہ مرحوم فیاض کے بھائی کو بطور سٹینو گرافر بی 14محکمہ برقیات میں ملازمت، اور دیگر ہلاک ہونے والے ہر شخص کے خاندان کے ایک ایک فرد کو محکمہ برقیات میں ملازمت فراہم کر دی گئی ہے۔
معاہدے کی شق نمبر03کے تحت حکومت کی جانب سے مظفرآباد اور پونچھ ڈویژن کے لیے دو اضافی انٹرمیڈیٹ و سیکنڈری تعلیمی بورڈز کے قیام کی کابینہ نے منظوری دیدی ہے۔
شق نمبر04کے تحت ضلع میرپور میں منگلا ڈیم اپ ریزنگ پراجیکٹ کے حوالے سے متاثرہ خاندانوں کو زمینوں کی حوالگی کے حوالے سے کابینہ کے یکم دسمبر 2025کے اجلاس میں اقدامات کیلئے تشکیل شدہ کمیٹی نے آج دو جنوری کو اپنی رپورٹ پیش کر دی ہے جس پر جلد از جلدعملدرآمد ہوگا۔
شق نمبر05کے تحت موجودہ لوکل گورنمنٹ ایکٹ کو ضروری ترامیم کے بعد 1990کے ایکٹ کی طرز پر تبدیل کردیا گیا ہے تاہم اس حوالے سے معاملہ ہائیکورٹ میں زیر سماعت ہے۔
شق نمبر06کے تحت کابینہ نے ہیلتھ کارڈ کے اجرا کی منظوری دیدی ہے اور ضروری مراحل کی تکمیل کے بعد 20جنوری2026سے قبل ہر صورت ہیلتھ کارڈ سروسز شروع ہو جائیں گی۔
شق نمبر07کے تحت تمام ضلعی ہسپتالوں میں MRIاور سی ٹی سکین مشینوں کی تنصیب کے لیے محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات نے ڈی ڈبلیو پی فورم سے ساڑھے پانچ ارب روپے کے پی سی ون کی منطوری دیدی ہے جس کے لیے وفاقی حکومت سے مطلوبہ فنڈز کی فراہمی کی بھی تحریک کر دی گئی ہے جوکہ وہاں سے فنڈز ملنے پر فراہم کر دی جائیں گی۔
شق نمبر08کے تحت بجلی کے نظام کی اپ گریڈیشن کے لیے وفاقی حکومت کی جانب 10 ارب روپے کی یقین دہانی کروائی گئی ہے اور فنڈز کی فراہمی پر بجلی کے نظام کی اپ گریڈیشن کا کام شروع کر دیا جائیگا۔
شق نمبر09میں مطالبہ تھا کہ 20رکنی کابینہ رکھی جائے حکومت نے اس پر عملدرآمد کرتے ہوئے اپنی 20رکنی کابینہ ہی رکھی میں جس میں 18وزیر اور02مشیر ہیں۔ جبکہ محکمہ جات کی تعداد کو بھی 20کر دیا گیا ہے اس وقت چیف سیکرٹری کے علاوہ حکومت کے 20سیکرٹریز ہیں۔
شق نمبر 10کے تحت احتساب بیورو اور اینٹی کرپشن کو ضم کرنے کے ساتھ ساتھ احتساب قوانین میں ترمیم کی منظوری دیدی گئی ہے اور قانون ساز اسمبلی میں آئندہ اجلاس میں منظوری کے بعد یہ قانون بن جائے گا۔
شق نمبر11کے تحت نیلم ویلی روڈ پر کہوڑی کامسر روڈ اور چپلانی کے مقامات پر ٹنلز کی تعمیر کے حوالے سے انہوں نے بتایاکہ سینٹرل ڈیزائن آفس نے پہاڑوں کے استحکام کا جائزہ لینے کے بعد یہ قراردیا ہے کہ اب سرنگوں کی ضرورت نہیں تاہم حکومت پاکستان کے این ایچ اے اسکی توثیق کے عمل میں ہے اور سعودی فنڈز کو مظفرآباد مانسہرہ ایکسپریس وے میں استعمال کرنے کے امکانات کا جائزہ لیا جارہا ہے۔
شق نمبر12کے تحت آزادجموں وکشمیر اسمبلی کے اراکین کے حوالے سے آزادکشمیر کے حلقوں کے علاوہ مہاجرین نشستوں کے حوالے سے آئینی کمیٹی بنادی گئی ہے اور اس کمیٹی کا آج اسلام آبادمیں اجلاس ہورہا ہے۔
شق نمبر13کے تحت بنجونسہ، مظفرآباد، پلاک، دھیرکٹ، میرپور اور ریان کوٹلی میں ہونے والے واقعات کی ایف آئی آرز کے حوالے سے کابینہ کی منظوری کے بعد معزز ہائیکورٹ کے رجسٹرار سے عدالتی کمیشنز کی سربراہی اور درج شدہ ایف آئی آرز کے جائزہ کیلئے معزز جج صاحب کی نامزدگی کی تحریک کر دی گئی ہے۔
شق نمبر 14 کے تحت میرپور انٹرنیشنل ائیرپورٹ کے قیام کے لیے وفاقی حکومت نے فزیلبٹی رپورٹ تیار کر لی ہے اور اس حوالے سے 05 جنوری2026کو مانیٹرنگ اینڈ عملدرآمد کمیٹی کے اجلاس میں مزید پیش رفت ہوگی۔
شق نمبر 15 کے تحت پراپرٹی ٹرانسفر کرنے پر ٹیکس کو پنجاب کے برابر یعنی 8.5فیصد کر دیا گیا ہے۔
شق نمبر16 کے تحت کابینہ کی منظوری کے بعد نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کے معاہدے پر عملدرآمد کے لیے مسودہ حکومت پاکستان کو بھیج دیاگیا ہے جس پر 2019کے عدالتی احکامات کے مطابق کارروائی شروع کر دی گئی ہے جس میں واٹرباڈیز کی تعمیر و غیرہ شامل ہے۔
شق نمبر17 کے تحت دس اضلاع میں گریٹرواٹرسپلائی سکیمز کی فزیبلٹی سٹڈی ہونے کے بعد جہلم ویلی، حویلی کی سکیمیں زیر تعمیر ہیں، ضلع سدھنوتی کی فزبیلٹی سٹڈی حال ہی میں مکمل کر لی گئی ہے، ضلع مظفرآباد میں سکیم کا ڈیزائن تیاری کے آخری مراحل میں ہے جبکہ کوٹلی کی سکیم کو اے ڈی پی میں شامل کیاجائے گا اوردیگر پانچ ضلعی ہیڈ کوارٹرز پر واٹر سپلائی سکیم کی فزیبلٹی کا عمل جاری ہے۔
شق نمبر18کے تحت محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات کے ذریعے تمام ہسپتالوں میں ساڑھے پانچ ارب روپے لاگت کی ایم آر آئی اور سٹی سکین مشینوں کے لیے پی سی ون کی منظوری یکم جنوری2026 کودیدی گئی ہے اور فنڈنگ کے لیے وفاقی حکومت کو سفارشات پیش کی جارہی ہیں۔
شق نمبر19 کے تحت ضلع کوٹلی میں گل پور پل کی تعمیر کو اے ڈی پی میں شامل کر دیاگیا ہے جبکہ رحمان پل کی حالت سی ڈی او کی رپورٹ کے مطابق تسلی بخش ہے اور اس کے ارد گرد اپروچ روڈ کی دوبارہ تعمیر کی جارہی ہے۔
شق نمبر20 کے تحت حکومت اگر ایڈوانس ٹیکس ختم کر تی ہے تو یکدم 35ارب روپے کا جھٹکا لگے جوکہ حکومت فی الحال برداشت نہیں کر سکتی اس پر مزید جائزہ لیا جارہا ہے اور ایکشن کمیٹی کے ساتھ بھی مانیٹرنگ اینڈ ایمپلیمنٹیشن کمیٹی کے پلیٹ فارم سے گفت وشنید جاری ہے۔
شق نمبر21کے تحت محکمہ ہائر ایجوکیشن کے تحت تمام تعلیمی اداروں میں داخلے اوپن میرٹ پر کیے جارہے ہیں۔
شق نمبر22کے تحت ڈڈیال کشمیر کالونی کے لیے واٹرسپلائی اور ٹرانسمیشن لائن کی اے ڈی پی میں شامل کرنے کی کابینہ نے منظوری دیدی ہے۔
شق نمبر23کے تحت مینڈرکالونی ڈڈیال کے مہاجرین کو مالکانہ حقوق دیے جانے بارے انہوں نے بتایاکہ خالصہ لینڈ مالکانہ حقوق عطائیگی قواعد2021کی معیاد ختم ہو چکی جس کی وجہ سے نئی پالیسی تشکیل کے آخری مراحل میں ہے۔
شق نمبر24کے تحت کابینہ نے آج ٹرانسپورٹ پالیسی کی منظوری دیدی ہے جس کے مطابق استحقاق کے خلاف کوئی بھی سرکاری گاڑی استعمال نہیں کر سکے گا اور ہر محکمہ میں ایک ٹرانسپورٹ افسر مقرر کیاجائے گا جو اس حوالے سے پالیسی پر عملدرآمد یقینی بنائے گا۔ حکومت کے محکمہ جات کے علاوہ کارپوریشنز اور نیم سرکاری ادروں کو گرین نمبر پلیٹ کی اجازت نہیں ہو گی۔
شق نمبر25 کے تحت02اور 03اکتوبر کو راولپنڈی اسلام آباد میں گرفتار تمام کشمیری مظاہرین کو رہاکردیاگیا ہے۔
شق نمبر26 کے تحت معاہدے پر عملدرآمد کے جائزہ کے لیے مانیٹرنگ اینڈ ایمپلیمنٹیشن کمیٹی بنا دی گئی ہے جس کی ایک میٹنگ منعقد ہو چکی ہے جبکہ آئندہ میٹنگ پانچ جنوری2026 کو ہے۔
شق نمبر27کے تحت ایکشن کمیٹی اراکین یا وعوام کے خلاف مورخہ 09مئی 2023تا4اکتوبر2025 کے درمیان درج کی گئی تمام ایف آر ز ماسوائے قتل کے واقعات کے واپس کردی گئی ہیں۔
شق نمبر28کے تحت جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی سرگرمیوں میں شرکت کی وجہ سے معطل کیے گئے تمام سرکاری ملازمین بحال کر دیے گئے ہیں۔
شق نمبر29 کے تحت مرحوم اظہر کے بھائی کو محکمہ برقیات میں ملازمت دیدی گئی ہے۔
شق نمبر30 کے تحت منگلا ڈیم اپ ریزنگ پراجیکٹ کے متاثرین کو بجلی کے بلات معاف کرنے اور آئندہ بل جاری نہ کرنے کے حوالے سے کابینہ فیصلے کی روشنی میں نوٹیفکیشن جاری کر دیاگیا ہے۔
شق نمبر31کے تحت حکومت آزادکشمیر ضلع سدھنوتی کی حدود کہوٹہ آزاد پتن روڑ کی ری الائنمنٹ و ری کنڈیشنگ کے حوالے سے آزادکشمیر کے علاوہ پنجاب میں واقع سڑک کے حصوں کی بھی حکومت آزادکشمیر کی جانب سے سٹڈی کروائی جارہی ہے۔
شق نمبر32 کے تحت محکمہ برقیات میں ای ٹینڈرنگ کے ذریعے میٹرز کی خریداری کا عمل اپنایاگیا ہے۔
شق نمبر33کے تحت آٹا کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے پاسکو محکمہ خوراک آزادکشمیر کو پچاس فیصد مقامی اور پچاس فیصد امپورٹڈ گندم فراہم کررہا ہے۔
شق نمبر34کے تحت آزادجموں وکشمیر میں سیلولر انٹرنٹ سروسز کی بہتری کیلئے یو ایس ایف فنڈکے سی ای او کی تقرری کر دی گئی ہے۔
شق نمبر35 کے تحت آزادجموں وکشمیر میں گاربیج سگریگیشن کے لیے سکیم اے ڈی پی میں شامل کر لی گئی ہے۔
شق نمبر36 کے تحت طلبہ یونین کی بحالی اور ضابطہ اخلاق تجویز کرنے کیلئے وزرا ئے کرام برائے لوکل گورنمنٹ و تعلیم طلبہ پر مشتمل کمیٹی بنادی گئی ہے۔
شق نمبر37کے تحت پرائیویٹ سکولز و کالجز کے لیے پانچ کے وی ٹیرف کی شرط ختم کر دی گئی ہے۔ کمرشل صارفین کو بھی ایک سے پندرہ سو یونٹ 25روپے فی یونٹ اور اس سے زیادہ کا ٹیرف 35روپے فی یونٹ مقررکردیا گیا ہے۔
شق نمبر38کے تحت بجلی چوری روکنے کے لیے اقدامات اٹھائے جارہے ہیں اور امید ہے کہ عوامی ایکشن کمیٹی اس حوالے سے تعان کریگی۔
شق نمبر39 کے تحت بینک آف آزادجموں وکشمیر شیڈولنگ کے لیے 10ارب کی شرط پوری کرنے کیلیے حکومت نے مطلوبہ 2.9ارب روپے بینک کو فراہم کر دیے ہیں اوربینک کی جلد اپلیکیشن لانچ کی جارہی ہے جلد اے جے کے بینک شیڈول ہوجائے گا۔
وزیر خزانہ چوہدری قاسم مجید نے کہاکہ معاہدے پر عملدرآمد کیلیے تعاون کرنے پر حکومت پاکستان، صدر پاکستان، وزیر اعظم پاکستان،چیئرمین پیپلزپارٹی سمیت قومی اداروں کے شکرگزار ہیں۔
٭٭٭٭٭٭
Ummat News Latest Urdu News in Pakistan Politics Headlines Videos