تصویر وزارت خارجہ سوشل میڈیا اکاونٹ

یمنی علیحدگی پسندوں کا 2سالہ عبوری مرحلے کا اعلان۔پاک،سعودی وزرائے خارجہ میں ٹیلی فونک رابطہ

نائب اعظم اوروزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان سے ٹیلی فون پر گفتگو کی ہے،دونوں رہنماؤں نے خطے کی موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔

دفتر خارجہ سے جاری بیان کے مطابق نائب وزیراعظم/وزیر خارجہ نے اس امر پر زور دیا کہ خطے کے تمام متعلقہ فریقین کسی بھی قسم کے اشتعال انگیز اقدام سے گریز کریں اور علاقائی امن و استحکام کے مفاد میں مسائل کے حل کے لیے مکالمہ اور سفارت کاری کا راستہ اختیار کریں۔قبل ازیں پاکستان نے یمن کی صورتحال کے حل کے لیے بات چیت اور سفارتی ذرائع کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا تھا۔
وزارت خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے ایک بیان میں امید ظاہر کی کہ مملکت سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی جانب سے کیے گئے مثبت اقدامات یمن کے مسئلے کے پرامن حل میں معاون ثابت ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان یمن کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی قیادت کی دانشمندی اور دوراندیشی کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ ان کے مطابق ایسے اقدامات دونوں برادر ممالک کی جانب سے خطے میں امن اور استحکام کے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتے ہیں۔

ترجمان دفتر خارجہ نے یمن کی وحدت اور علاقائی سالمیت کے لیے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا بھی اعادہ کیا۔

ادھریمنی علیحدگی پسندوں نے جنوبی حصے میں آزادی کے عبوری مرحلے کا اعلان کیاہے۔جنوبی عبوری کونسل (STC) نے کہاہے کہ وہ ایک آزاد ریاست پر ریفرنڈم کرانے کا ارادہ رکھتی ہے جو یمن کو ایک بار پھر شمال اور جنوب کے درمیان تقسیم کرے گا، جیسا کہ 1967 اور 1990 کے درمیان ہوا تھا۔
علیحدگی پسند جنوبی عبوری کونسل (STC) سے وابستہ میڈیا نے اسے شائع کیا جسے وہ ریاست جنوبی عرب کے’’آئینی اعلان‘‘کے طور پر بیان کرتا ہے۔یہ الگ خطے کو مکمل خودمختاری کے ساتھ ایک آزاد ریاست کے طور پر اعلان کرتا ہے، جس کا سیاسی نظام جمہوری سول ریاست میں اختیارات کی علیحدگی کے اصول پر مبنی ہے۔اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ریاست کی بین الاقوامی سرحدیں وہی ہیں جو سابق جمہوریہ یمن کی ہیں، جو ایک مختصر مدت کے لیے الگ ہونے والی قوم ہے جس نے 1994 کی خانہ جنگی میں یمن کے خلاف جنگ لڑی تھی – جس کے نتیجے میں اسی علاقے کا احاطہ کیا گیا جیسا کہ سابق جنوبی یمن، ایک کمیونسٹ ریاست جو 1990 میں شمالی یمن کے ساتھ اتحاد تک موجود تھی۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ اس کا دارالحکومت عدن ہوگا۔ STC نے کہا کہ وہ دو سالہ عبوری دور میں داخل ہو گیا ہے، جس کے بعد وہ آزادی پر ریفرنڈم کرانے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ عبوری قانون ساز اتھارٹی کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ ضرورت پڑنے پر مدت میں توسیع کرے۔
ایس ٹی سی کے صدر ایدروس الزبیدی نے کہا کہ عبوری مرحلے میں یمن کے شمال میں ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغیوں کے ساتھ مذاکرات ہوں گے۔تاہم، انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بات چیت سے انکار کیا گیا یاایس ٹی سی فورسز دوبارہ حملے کی زد میں آئیں تو آزادی کا اعلان فوری طور پرکر دیا جائے گا۔
علیحدگی پسند ایس ٹی سی کے ترجمان الخدر سلیمان کے مطابق وہ دو پڑوسی، خودمختار، پرامن ملکوں کی امید رکھتے ہیں جو باہمی مفادات، باہمی مفادات، علاقائی اہداف کو برقرار رکھتے ہوں، ہمارے تمام پڑوسیوں کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی برادری کے ساتھ اچھے تعلقات رکھتے ہوں۔
واشنگٹن ڈی سی میں یمن کے سابق ڈپٹی ڈیفنس اتاشی ہشام مقدشی نے کہاکہ یہ دو ریاستی نظریہ 2015 کے بعد سے منہدم ہو گیا ہے جب حوثی عدن گئے تھے۔ مجھے یقین نہیں کہ دو ریاستیں یا تین ریاستیں یا چار ریاستیں اس وقت تک قابل غور ہیں جب تک ہم سعودی سرپرستی میں ایک ساتھ بیٹھ کر یمن کے مستقبل اور اس کے ریاستی ڈھانچے کے بارے میں بات نہ کریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔