فلوریڈا

وینزویلامیں 2گھنٹے 20 منٹ۔ امریکی ڈیلٹافورس کے کمانڈو ایکشن کی تفصیلات

امریکی فوج کی ایلیٹ فورس ڈیلٹا کمانڈوز نے وینزویلاکے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو 2 گھنٹے 20 منٹ پر محیط سپشل فورس آپریشن  کے ذریعے حراست میں لیا۔جوائنٹ چیفس آف سٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین نے انکشاف کیا کہ’’آپریشن ایبسولوٹ ریزولو‘‘نامی اس مشن کی کئی مہینوں سے تیاری ہورہی تھی،اس دوران ہدف کے ماڈل پر کمانڈوکارروائی کی مشقیں کی گئیں۔سکریٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو نے اعتراف کیا کہ کانگریس کو وقت سے پہلے مطلع نہیں کیا گیا تھا۔
کئی مہینوں سے امریکی جاسوس وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کی ہر حرکت پر نظر رکھے ہوئے تھے۔ایک چھوٹی ٹیم، جس میں وینزویلا کی حکومت کا ایک ذریعہ بھی شامل تھا، اس بات کا مشاہدہ کر رہی تھی کہ 63 سالہ صدرکہاں سوتا ہے، اس نے کیا کھایا، کیا پہنا اور یہاں تک کہ اعلیٰ فوجی حکام کے مطابق ان کے پالتو جانوروں تک ہرتفصیل معلوم کی جاتی رہی۔سی این این کے مطابق اگست میں، سی آئی اے نے مادوروکے معمولات، مقامات اور نقل و حرکت کا پتہ لگانے کے لیے ایک چھوٹی سی ٹیم وینزویلا میں داخل کی تھی، جس نے کمانڈودستے کے لیے درست معلومات حاصل کیں۔

وائٹ ہاؤس کے دو سینیئر اہلکاروں نے سی این این کو بتایا کہ مادورو کو ہٹانےکا منصوبہ تیار کیے جانے کے باوجود، وائٹ ہاؤس کی انتظامیہ کو حالیہ ہفتوں میں امید تھی کہ وینزویلا کے صدر رضاکارانہ طور پر استعفیٰ دے دیں گے۔نومبر میں ٹرمپ اور مادورو کے درمیان فون کال کے دوران، امریکی صدر نے بار بار وینزویلا کے رہنما پر زور دیا کہ یہ ان کے بہترین مفاد میں ہوگاکہ وہ اپنا عہدہ چھوڑ دیں اور ملک سے چلے جائیں۔یہ ایک الٹی میٹم تھا۔

دسمبر کے اوائل میں’’آپریشن ایبسولوٹ ریزولو‘‘مشن کو حتمی شکل دی گئی۔ یہ مہینوں کی پیچیدہ منصوبہ بندی اور مشقوں کا نتیجہ تھا، جس میں امریکی سپیشل فورسز کے داخلے کے راستے اچھی طرح جاننے کے لیے مادورو کے کاراکاس سیف ہاؤس کی مکمل سائز کی نقل تیار کی گئی تھی۔
کانگریس کو وقت سے پہلے مطلع یا مشاورت نہیں کی گئی۔ بالکل درست معلومات اورتفصیلات کے ساتھ، اعلیٰ فوجی حکام کو صرف بہترین حالات کا انتظارتھا۔حکام نے مطابق وہ حیرت کے عنصر کو زیادہ سے زیادہ برقراررکھنا چاہتے تھے۔

ٹرمپ نے دسمبر کے آخر میں منظوری دے دی تھی، لیکن وینزویلا کا موسم اور صدر کا کرسمس پر نائجیریا پر حملہ کرنے سمیت کئی عوامل کی وجہ سے آپریشن میں خلل پڑا۔
ایکشن کا آغاز چار دن پہلےہوا جب صدر ٹرمپ نے منظوری دی لیکن بہتر موسم اور کم بادلوں کا انتظار کرنے کا انتخاب کیاگیا،جس کے لیے مزید کچھ دن انتظار کرناپڑا۔کرسمس اور نئے سال کے درمیانی ایام کے دوران، امریکی فوج کے منتخب دستے تیار بیٹھے تھے، صبر سے انتظار کر رہے تھے کہ صدر ہمیں کارروائی کا حکم دیں ۔بالآخر حرکت میں آنے کا وقت آپہنچا جب ٹرمپ کا حکم کاراکاس میں آدھی رات سے کچھ دیر پہلے آیا، اور فوج کوزیادہ تر اندھیرے میں بروئے کار آنے کا موقع ملا۔
اس کے بعد ہوا، زمینی اور سمندری راستے سے دو گھنٹے اور بیس منٹ کا مشن تھا ۔ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کے مشہور’’ سچویشن روم‘‘ سے مشن کابراہ راست مشاہدہ نہیں کیابلکہ وہ فلوریڈا کے پام بیچ میں واقع مار-اے-لاگو کلب میں اپنے مشیروں کے ساتھ موجودتھے۔
آپریشن کی پہلی نشانی آسمان پر ظاہرہوئی۔150 سے زیادہ طیارے – بشمول بمبار، لڑاکا اور جاسوس طیاروں کو بالآخرنصف شب کے وقت لانچ کیا گیا۔
کاراکس میں مقامی وقت کے مطابق تقریباً 2بجے زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں اور شہر کے اوپر دھوئیں کے بادل اٹھتے دیکھے گئے۔ہوائی جہاز اور ہیلی کاپٹر پورے شہر میں اڑ رہے تھے۔ایک وڈیومیں ہیلی کاپٹروں کے ایک قافلے کو کاراکاس کے اوپر کم اونچائی پر اڑتے دکھایا گیااور نیچے دھماکوں سے دھواں اٹھ رہا تھا۔
برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق پانچ مقامات پر حملے کیے گئے اور اس بیچ اصل حملہ آور دستہ ہدف کی طرف رواں دواں تھا۔5اہداف میں میں فورٹ ٹیونا فوجی کمپلیکس بھی شامل تھا جو ملک کا سب سے بڑا عسکری مرکز ہے
ٹرمپ نے میڈیاکو بتایاکہ مشن شروع ہونے سے پہلے کاراکاس کی لائٹس بڑی حد تک ہمارے پاس موجود ایک خاص مہارت کی وجہ سے بند کر دی گئی تھیں۔ہرطرف اندھیرا تھا ۔
مقامی وقت کے مطابق 2 بج کر 1 منٹ پر ڈیلٹافورس ہدف تک پہنچ گئی۔ ٹرمپ نے کہا کہ وہ تیار حالت میں ہمارا انتظار کر رہے تھے۔ وہ جانتے تھے کہ ہم آ رہے ہیں۔
جب وہ پہنچے تو ان پرفائرآیا، اور ایک امریکی ہیلی کاپٹر نشانہ بنا لیکن وہ پھر بھی اڑنے کے قابل تھا،فورس مادورو کے کمپاؤنڈ میں آئی اوراتر کرآگے بڑھی۔فولادی دروازوں کو کاٹ کر امریکی کمانڈوزآگے بڑھتے رہے۔یہی وہ وقت تھاجب وزیرخارجہ روبیو نے قانون سازوں کو کارروائی کے بارے میں مطلع کرنا شروع کیا۔وقت سے پہلے کانگریس کو بریفنگ دینا مشن کو خطرے میں ڈال دیتا۔
ہدف کے احاطے میں، امریکی کمانڈوزنے جیسے ہی دھاوابولا وینزویلا کے صدر نے ایک محفوظ کمرے کی طرف جانے کی کوشش کی لیکن اندرداخل ہونے سے پہلے انہیں ڈیلٹافورس نے جالیا۔
مقامی وقت کے مطابق 4 بج کر 20 منٹ تک، ہیلی کاپٹر مادورو اور ان کی اہلیہ کے ساتھ وینزویلا سے روانہ ہو رہے تھے۔اس کے تقریباً ایک گھنٹہ بعد ٹرمپ نے یہ خبر دنیا کو سنائی۔
وینزویلا کے صدر نکولس مادورو فورٹ ٹیونا کے اندر زیرِ زمین محفوظ پناہ گاہ میںتھے جسے’’کاسا دی لوس پینوس‘‘ یا صنوبر کا گھر کہا جاتا ہے۔بتایا جاتا ہے کہ یہ پناہ گاہ سرنگوں کے ذریعے فوجی کمپلیکس کے دیگر حصوں سے منسلک ہے اور یہاں سخت سکیورٹی تعینات رہتی ہے۔بعض اطلاعات کے مطابق کیوبا کی سکیورٹی فورسز بھی اس کی حفاظت پر مامور تھیں۔ صدارتی محل جسے میر افلورئیس پیلس کہا جاتا ہے اسی فوجی کمپلیکس کے قریب واقع ہے۔ تاہم مادورو درحقیقت فورتی تیونا میں موجود اسی انتہائی محفوظ زیرِ زمین پناہ گاہ میں قیام پذیر تھے۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔