تصویر: پی آئی ڈی

سی پیک،تجارت اور سٹرٹیجک تعاون مزید گہرا کرنے پر پاک،چین اتفاق

چین اور پاکستان نے بیجنگ میں ایک اعلیٰ سطح سٹریٹجک مکالمے میں دوطرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا اور چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سمیت اہم شعبوں میں تعاون کو مزید گہرا کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

نائب وزیرِ اعظم ووزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے چین کے وزیر خارجہ وانگ یی کی دعوت پر بیجنگ کا دورہ کیا اور پاکستان،چین وزرائے خارجہ میں اسٹریٹجک ڈائیلاگ کے ساتویں دور کی مشترکہ صدارت کی ۔دفتر خارجہ سے جاری بیان کے مطابق فریقین نے پاکستان اور چین کے تعلقات کے تمام پہلوؤں کا جامع جائزہ لیا اور علاقائی و عالمی سطح کے اہم امور پر تبادلۂ خیال کیا۔اس موقع پر سی پیک، تجارت، کثیرالجہتی تعاون اور عوامی روابط کے فروغ کے لیے تفصیلی گفتگو کی گئی۔دونوں اطراف سے اسٹریٹجک تعاون پر مبنی شراکت داری کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے فریقین نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان اور چین کی دوستی خطے اور دونوں ممالک کے لیے امن، استحکام اور خوشحالی کے لیے نہایت اہم ہے۔کثیرالجہتی فورمز پر باہمی ہم آہنگی مزید مضبوط بنانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔

وزرائے خارجہ کا سٹریٹجک مکالمہ پاکستان اور چین کے درمیان اعلیٰ ترین مشاورتی فورم ہے جو دوطرفہ تعاون کے تمام پہلوؤں کے ساتھ ساتھ علاقائی اور بین الاقوامی معاملات کا بھی جائزہ لینے کے لیے ایک منظم پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے۔

ڈار نے چین کی کمیونسٹ پارٹی کے بین الاقوامی شعبے کے وزیر لیو ہائیشنگ سے بھی ملاقات کی۔ ڈار نے لیو ہائی شنگ کو کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی مرکزی کمیٹی کے 20ویں اجلاس کے چوتھے سیشن کے کامیاب انعقاد پر مبارکباد دی۔دونوں رہنمائوں کی گفتگومیں دو طرفہ تعلقات کی پائیدار اور مستقبل کی سمت میں مثبت پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا گیا۔ جماعتی سطح کے روابط، علاقائی صورتحال اور سی پیک کے تحت مختلف منصوبوں میں ہونے والی پیش رفت کا بھی جائزہ لیا۔انہوں نے سفارتی تعلقات کے قیام کی 75ویں سالگرہ کو شایانِ شان اور بامقصد انداز میں مشترکہ طور پر منانے پر بھی اتفاق کیا۔

اسحاق ڈار نے چینی وزیرِ خارجہ وانگ یی کے ہمراہ پاک چین دوستی کے 75 برس مکمل ہونے کے موقع پرمنعقدہ خصوصی تصویری نمائش کا مشاہدہ کیا۔ نمائش میں پاکستان اور چین کے مابین اسٹریٹجک تعاون پر مبنی شراکت داری کے ارتقائی سفر کے اہم سنگِ میل کو اجاگر کیا گیا ۔ سفارتی روابط، باہمی اعتماد پر مبنی تعلقات اور چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے آغاز سمیت دونوں ممالک کے درمیان دہائیوں پر محیط مضبوط دوستی، باہمی حمایت اور تعاون پر مبنی مشترکہ سفر کی عکاسی بھی کی گئی۔

چین کی جنرل ایڈمنسٹریشن آف کسٹمز کے مطابق 2024 میں اس کی پاکستان کے ساتھ دوطرفہ تجارت 23 اعشاریہ 06ارب ڈالر تک پہنچ گئی، جو سالانہ بنیادوں پر 11 اعشاریہ 1 فیصد زیادہ ہے۔ اسلام آباد بیجنگ کو ایک اہم سرمایہ کار سمجھتا ہے، جو گذشتہ ایک دہائی سے زائد عرصے میں سی پیک کے توانائی و انفراسٹرکچر منصوبوں کے تحت پاکستان میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر چکا ہے۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔