سکرین گریب

پاکستان آنے والی بھارتی خاتون سربجیت کو واپس نہ بھیجنے پر حکومت آمادہ

وزیرِ مملکت برائےداخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان آ کر شادی کرنے والی بھارتی خاتون سربجیت کور (نور فاطمہ) کی جانب سے واپس نہ بھیجنے کی درخواست پر انسانی ہمدردی کی بنیاد پر غور کیا جا رہا ہے او ر کوشش کی جا رہی ہے کہ انھیں واپس نہ بھیجا جائے۔

سربجیت کور 4 نومبر کو سکھ یاتریوں کے جتھے کے ہمراہ پاکستان آئی تھیں اور اُن کے ویزے کی معیاد 13 نومبر تک تھی تاہم وہ واپس انڈیا نہ گئیں اور اسلام قبول کرنے کے بعد وسطی پنجاب کے شہر شیخوپورہ کے رہائشی ناصر حسین سے شادی کر لی، جس کے بعد یہ مسلسل پاکستان میں ہی قیام پذیر تھیں۔

انھیں شوہر سمیت حراست میں لیا گیا تھا اور ان کی واہگہ کے راستے بھارت واپسی کا معاملہ وزارتِ داخلہ کی جانب سے این او سی نہ ملنے کی وجہ سے تاخیر کا شکار ہے اور فی الحال وہ لاہور کے ایک دارالامان میں قیام پذیر ہیں۔

برطانوی میڈیاسے بات کرتے ہوئےطلال چوہدری نے بتایا کہ وہ (سربجیت کور) کہتی ہیں کہ انھوں نے اسلام قبول کرلیا ہے اور وہاں (بھارت) میں مسلمانوں کے لیے چونکہ زندگی بہت مشکل ہے اس لیے انھیں واپس نہ بھیجا جائے۔طلال چوہدری کے مطابق انسانی ہمدردی کی بنیاد پر اور وہاں پر اس وقت اقلیتوں کے ساتھ جو سلوک ہے اسی کو مدنظر رکھا جا رہا ہے۔ اسی بنیاد پر چیزیں آگے بڑھ رہی ہیں اور کوشش کی جارہی ہے کہ انھیں واپس نہ بھیجا جائے۔

وزیرِ مملکت نے سربجیت کور کی جانب سے لاہور ہائی کورٹ میں دائر درخواست کا حوالہ بھی دیا اور کہا کہ عدالت نے بھی کہا تھا اور اس پر وزارتِ خارجہ کی معاونت بھی شامل ہے۔ اب وزارتِ داخلہ ان تمام چیزوں کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ کرے گی۔ ان کے ویزے کی مدت میں اضافہ کیا جاسکتا ہے اور ویزے کی مزید سہولت دے سکتے ہیں۔

بھارتی خاتون یاتری نے کہا کہ اسلام قبول کرنا اور شادی کرنا دونوں ان کے اپنے فیصلے ہیں، اور اس میں کوئی زبردستی شامل نہیں۔خاتون نے عدالت میں بتایا کہ انہوں نے اپنی خوشی سے اسلام قبول کیا ہے اور پاکستانی شہری نصیر حسین سے شادی کی ہے۔ انہوں نے مجسٹریٹ کے سامنے بیان دیا کہ ان پر نہ کوئی دباؤ تھا اور نہ کسی نے انہیں مجبور کیا۔ وہ اپنے شوہر کے ساتھ ہی رہنا چاہتی ہیں۔
نکاح 5 نومبر 2025 کو فاروق آباد میں ہوا، جس میں حق مہر 10 ہزار روپے رکھا گیا تھا، جو پہلے ہی ادا کیا جا چکا ہے۔ نکاح نامے میں درج ہے کہ وہ پہلے سے طلاق یافتہ ہیں اور دو بچوں کی ماں ہیں۔

وہ سکھ یاتریوں کے ایک گروپ کے ساتھ پاکستان آئی تھیں۔ یہاں آنے کے بعد انہوں نے گروپ کو چھوڑ دیا اور بعد میں ایک پاکستانی شہری سے شادی کر لی۔گمشدگی کی رپورٹ کے بعد پولیس اور حساس اداروں نے تلاش شروع کی۔ جمعہ کے روز پتہ چلا کہ انہوں نے پاکستانی نوجوان سے شادی کر لی ہے۔ اگلے دن وہ خود عدالت میں پیش ہوئیں اور اپنا حلفیہ بیان دیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔