تصویر: سوشل میڈیا

سہیل آفریدی کا دورہء کراچی،ان دیکھی ڈیل یا پیپلزپارٹی کی حکمت عملی؟

 

سندھ حکومت نے کراچی کا دورہ کرنے والے وزیراعلی کے پی اور پی ٹی آئی کے جارح مزاج لیڈر سہیل خان آفریدی کا راستہ روکنے کے بجائے سندھی ٹوپی اور اجرک کے ساتھ ان کا روایتی اور پرجوش استقبال کیوں کیا اور کیا پی ٹی آئی سندھ میں اپنی حالیہ سیاسی سرگرمی کے مطلوبہ نتائج حاصل کر پائے گی؟ یہ دو سوال اس وقت زبان زد عام ہیں لیکن گہرائی سے مشاہدہ کیا جائے تو یہ دونوں سوال ایک دوسرے سے جڑے ہوئے بھی ہیں اور انہی کے اندر جواب بھی موجود ہے۔

پیپلز پارٹی اور بالخصوص اس کی قیادت کی حکمت عملی اور سیاسی حرکیات پر نظر رکھنے والے ذرائع کا کہنا ہے کہ دراصل پیپلز پارٹی نے ایک پنتھ دو کاج کے مصداق دہری چال چلی ہے، اس حکمت عملی کا اولین مقصد تو دشمن کے دل میں عارضی طور پر ہی سہی ،گھر کر کے اسے بے بس کرنا ہے تاکہ اس کی توپوں کا رخ پیپلز پارٹی اور سندھ حکومت کی جانب نہ مڑ سکے۔ ظاہر ہے کہ کسی حریف کے سیاسی قلعے میں طاقت کے مظاہرے کا بنیادی مقصد اس قلعے کے در و دیوار کو ہلانا ہوتا ہے، مگر یہاں پہلے ہی مرحلے میں پیپلز پارٹی نے پی ٹی آئی کو اپنی کامیاب حکمت عملی سے پچھاڑ کر رکھ دیا، اور اب تنقید کے تیر چلانے کے بجائے ان کی طرف سے محبتوں کے پھول نچھاور کئے جا رہے ہیں ،حالانکہ سندھ حکومت کی کارکردگی کے پیش نظر ان کے پاس کہنے کو بہت کچھ تھا۔مگر ایسا لگتا ہے کہ اب لے دے کر ان کا ہدف نواز لیگ ہی بنے گی جس کا سندھ میں سیاسی وجود ویسے ہی ایک سوالیہ نشان ہے۔

اگر اتوار کو جناح گرائونڈ جلسے میں پیپلز پارٹی اور سندھ حکومت پر ہلکے پھلکے وار کیے بھی جاتے ہیں تو وہ پس منظر میں چلے جائیں گے اور پہلے سے پھوٹتے محبت کے زمزمے اس تنقید کو غیر موثر کر دیں گے۔دوسری طرف پیپلز پارٹی کے اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ مفاہمت کے بادشاہ صدر مملکت آصف علی زرداری کی خصوصی ہدایت پر اختیار کی گئی اس حکمت عملی کا ایک اور مقصد پی ٹی آئی کو کراچی میں ”اچھل کود”کا بھرپور موقع فراہم کر کے اس کی سیاسی طاقت کا اندازہ لگانا بھی ہے۔

اس نرم خوئی کا ایک اور سبب یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ کراچی میں پیپلز پارٹی کا ووٹ بینک اتنا ہے ہی نہیں کہ اسے پی ٹی آئی یا کسی اور جماعت سے خطرہ محسوس ہو۔ دیہی کراچی کی چند مخصوص نشستیں پیپلز پارٹی کا ہدف ہوتی ہیں جنہیں کسی نہ کسی طرح مینج کیا جا سکتا ہے۔دوسری طرف اس حکمت عملی کا بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ زور ضابطے اور خصوصی تعلقات کی بنیاد پر حاصل کی گئی کراچی کی میئر شپ بھی پی ٹی آئی کی جارحانہ مہم سے محفوظ رہے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ پیپلز پارٹی مجموعی طور پر اپنا سافٹ امیج قائم کرنے میں بھی کامیاب ہو گئی ہے، اس کے برعکس پنجاب میں سہیل آفریدی کی آمد پر غیر ضروری رد عمل اور رکاوٹوں نے نون لیگ کی بوکھلاہٹ کو نمایاں کیا۔

اب اگر پی ٹی آئی کی جانب سے توپوں کا سارا رخ نواز لیگ کی طرف مڑتا ہے تو پیپلز پارٹی اسے بھی اپنے لیے سیاسی بونس خیال کرے گی اور نواز لیگ کے ساتھ پرانا حساب چکانے کا ایک ذریعہ بھی سمجھے گی۔

سوال یہ باقی بچا کہ کیا پی ٹی آئی کراچی میں بھرپور سیاسی پاور شو کرنے میں کامیاب ہوگی، خاص طور پر ایسے ماحول میں، جب سندھ حکومت کی جانب سے اسے فری ہینڈ دیا گیا ہے، اگر اس کا جواب ہاں میں بھی آ جائے تو امپیکٹ وہ نہیں بنے گا جو میزبان حکومت کی جارحانہ حکمت عملی کی صورت میں بن سکتا تھا۔ویسے بھی گزشتہ روز کی صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو سہیل آفریدی کے ساتھ کراچی ایئرپورٹ سے پریس کلب آنے والے جلوس میں 2ہزار سے زیادہ کارکن نہیں تھے، اور بعض سینیئر صحافیوں کے بقول پریس کلب تک پہنچتے ہوئے یہ تعداد چند سو رہ گئی تھی۔اسی طرح گزشتہ روز جناح گرئوانڈ میں جمع ہونے والے پی ٹی آئی کارکنوں کی تعداد بھی دو تین ہزار سے زیادہ نہیں تھی۔

قیوم آباد میں ہونے والا اجتماع پرجوش ضرور تھا کیونکہ یہاں کی ابادی کی بڑی تعداد کے پی کے سے آبائی تعلق رکھتی ہے، تاہم اسے بھی بڑا اجتماع قرار نہیں دیا جا سکتا۔جناح گرائونڈ
میں پی ٹی آئی کا جلسہ کل بروز اتوار منعقد ہوگا، اور مبصرین کے مطابق اس پاور شو میں ہزاروں افراد کی شرکت حیران کن نہیں ہوگی مگر یہ سوال اپنی جگہ موجود رہے گا کہ اس تین روزہ سرگرمی نے پی ٹی آئی کو سیاسی طور پر کتنا فائدہ پہنچایا؟مگر پی ٹی آئی کی یہ سرگرمی جاتے جاتے کچھ اور سوال بھی چھوڑ جائے گی۔

کیا پیپلز پارٹی محض نواز لیگ کو نیچا دکھانا چاہتی ہے یا مستقبل میں پی ٹی آئی اور پی پی کا کوئی اتحاد بھی بن سکتا ہے کیا اگلی باری اس اتحاد کو ملے گی اور اگر ایسا ہوتا ہے تو کیا عمران خان بلاول بھٹو کو بطور وزیراعظم قبول کر لیں گے؟ اور اگر ان سارے امکانات کو دور کی کوڑی قرار دے کر مسترد کرنے کے بجائے کسی ان دیکھی ڈیل سے تعبیر کیا جائے تو ایک اور بڑا سوال یہ سامنے آتا ہے کہ کیا اسٹیبلشمنٹ پی ٹی آئی کو اپنی سیاسی strengthثابت کرنے کا پورا پورا موقع دے رہی ہے؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔