وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی کراچی آمدپر خندہ پیشانی سے خیرمقدم بھی تحریک انصاف کو محاذآرائی سے نہ روک سکا۔ جلسہ کرنے کے معاملے پر سندھ حکومت سے ٹھن گئی۔ اجازت ملنے کے باوجود پی ٹی آئی نےباغ جناح میں جلسہ نہ کرنے کا اعلان کر دیا ،جس کے بعد فریقین اس معاملے پر آمنے سامنے آگئے ۔بعدازاں پی ٹی آئی نے سڑک پر جلسہ کرنے کا فیصلہ تبدیل کردیا۔
پی ٹی آئی رہنما،صوبائی صدر حلیم عادل شیخ نے کہا ہے کہ اب ہم باغ جناح میں جلسہ نہیں کریں گے بلکہ مزار قائد کے گیٹ کے سامنے جلسہ ہوگا۔ان کا کہناتھاکہ ہم نے شام 5 بجے تک اجازت نامے کا انتظار کیا، الہٰ دین کا چراغ نہیں کہ رات میں جلسے کے انتظامات کر سکیں۔باغ جناح کے اندر نہیں باغ جناح کے باہر چار بجے نہیں دو بجے تمام کراچی والے پہنچیں ان شاءاللہ جلسہ تو ہوگا۔
باغ جناح کے اندر نہیں باغ جناح کے باہر چار بجے نہیں دو بجے تمام کراچی والے پہنچیں انشاءاللہ جلسہ تو ہوگا ۔۔۔ pic.twitter.com/qOCGRch6dp
— Haleem Adil Sheikh (@HaleemAdil) January 10, 2026
وزیرداخلہ ضیا الحسن لنجار نے کراچی میں جلسے کے حوالے سے واضح کردیا کہ اگر کسی سڑک پر جلسہ ہوا تو حکومت سخت ایکشن لے گی۔حکومت سندھ کے ترجمان کے مطابق وزیرداخلہ نے اس حوالے سے واضح پیغام دیا ہے کہ پی ٹی آئی کو باغ جناح میں جلسہ کرنے کی اجازت ہے۔
واضح رہے کہ سندھ حکومت نے تحریک انصاف کو باغ جناح میں جلسہ کرنے کی باضابطہ طور پر مشروط اجازت دی تھی۔سندھ کے سینئر وزیراور وزیراطلاعات شرجیل انعام میمن کے مطابق ڈپٹی کمشنر کراچی ایسٹ نے پی ٹی آئی کو جلسے کیلیے اجازت نامہ جاری کیا۔نوٹیفکیشن کے مطابق پی ٹی آئی سندھ میں جلسہ کر سکتی ہے شرائط پر عملدرآمد لازمی کرنا ہوگا، وہ صوبے میں قانونی اور آئینی سیاسی سرگرمیاں کر سکتی ہے۔صوبائی وزیر اطلاعات کا کہنا تھاکہ اشتعال انگیز تقاریر، مواد اور فرقہ وارانہ گفتگو کی اجازت نہیں، ملک اور ریاستی اداروں کے خلاف تقریر کی اجازت نہیں ہوگی، ٹریفک کی روانی برقرار رکھنا منتظمین کی ذمہ داری ہے اور پروگرام مقررہ وقت سے پہلے ختم کرنا لازم ہوگا۔شرجیل میمن نے یہ بھی کہا کہ سکیورٹی وجوہات پر اجازت منسوخ کرنے کا اختیار ضلعی انتظامیہ کے پاس ہوگا۔
وزیر بلدیات سندھ ناصر حسین شاہ نے حلیم عادل شیخ کے بیان پر ردعمل میں کہا کہ پی ٹی آئی قیادت کو آگاہ کر دیا تھا کہ باغ جناح میں جلسے کی اجازت ہے، اجازت کے بعد سڑک پر جلسہ کی بات کرنا مناسب طرزِ عمل نہیں ۔ناصر حسین شاہ نے کہا کہ پی ٹی آئی کو جس نوعیت کے تعاون کی ضرورت ہو کریں گے، حکومت گراؤنڈ میں جلسے کیلیے ہر ممکن تعاون فراہم کرنے کیلیے تیار ہے، سیاسی جماعت کو باغ جناح میں جلسہ کرنا ہوگا۔انہوں نے مزید کہا کہ باغ جناح کا مطالبہ پی ٹی آئی نے خود کیا تھا یہ جگہ وفاق کے پاس ہے، اجازت نامے سے متعلق رسمی کارروائی میں تاخیر ہوئی، سڑک پر جلسہ عوام کیلیے تکلیف کا باعث ہوگا۔پی ٹی آئی کو جلسہ کرنا ہے تو باغ جناح میں ہی کرنا ہوگا۔
پی ٹی آئی کراچی کی ترجمان فوزیہ صدیقی نے کہا کہ حکومت سندھ کی جانب سے اجازت کے باوجود ہم اس مقام پر جلسہ نہیں کریں گے کیونکہ اب ہم جلسے کی تیاری نہیں کرسکتے۔ قیادت نے فیصلہ کیا ہے کہ تحریک انصاف آج اتوار کو مزار قائداعظم عوامی گیٹ پر دوپہر 2 بجے عوامی جلسہ کرے گی۔فوزیہ صدیقی نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ حکومت سندھ اپنی لومڑی والی چالبازیوں سے باز نہیں آئے گی اور ہفتے کی شام تک مسلسل تیاریوں کے باوجود ہمیں این او سی جاری نہیں کیا گیا۔
فوزیہ صدیقی کے مطابق ہفتے کی شام کو سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ نے کراچی کی پارٹی قیادت کے ہمراہ باغ جناح میں پریس کانفرنس تک کی تب تک بھی این او سی جاری نہیں کیا گیا اور اچانک سے ڈسٹرکٹ کمشنر ایسٹ نے شام ساڑھے6 بجے این او سی جاری کردیا جو انتہائی بدنیتی پر مبنی ہے۔ یہ چاہتے ہی نہیں تھے کہ اجازت دی جائے، پی ٹی آئی کو اور حکومت سندھ کو سب معلوم تھا یا یہ پہلے کہہ دیتے کہ پوچھ کے بتائیں گے تو ہمارا وقت ضائع نہیں ہوتا لیکن کل جو عوامی طاقت کراچی میں دیکھ لی، اس سے یہ سب خوف زدہ ہیں۔ان کو سمجھ ہی نہیں آرہا کہ اب کریں تو کریں کیا، حکومت سندھ لومڑی والے کام نہ کرے، کراچی کے عوام اتوار کو مزار قائد عوامی گیٹ پر دوپہر 2 بجے اپنے مہمان وزیراعلی خیبر
پختونخوا سہیل آفریدی کے ساتھ موجود ہوں گے۔ترجمان پی ٹی آئی نے کہا کہ کراچی میں ہم اب جلسہ عوامی گیٹ کے سامنے کریں گے، اتوار کو کراچی نکلے گا، حکومت سندھ کانپ رہی ہے، حکومت سندھ عوامی طاقت سے کانپ رہی ہے۔
بعدازاں تحریک انصاف نے یوٹرن لیا اور آج شام جناح گارڈن (باغ جناح) میںریلی منعقد کرنے کا اعلان کیا ۔
Ummat News Latest Urdu News in Pakistan Politics Headlines Videos