فائل فوٹو
فائل فوٹو

جلسے کے لیے این او سی جاری ہونے کے باوجود پولیس نے گھیراؤ کیا،سلمان اکرم راجا

کراچی : پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجا کا کہنا ہے جس دن قوم نے محکومیت کی زندگی قبول نہ کرنے کا فیصلہ کر لیا، یہ جبر خود بخود ختم ہو جائے گا۔

پریس کانفرنس کرتے ہوئے جلسے کے لیے این او سی جاری ہونے کے باوجود پولیس نے گھیراؤ کیا، گرفتاریاں کی گئیں اور اسٹیج و ساؤنڈ سسٹم فراہم کرنے والوں کو ہراساں کیا گیا، تاہم اس کے باوجود جلسہ ضرور ہوگا۔

پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجا، تحریک تحفظ آئین پاکستان کے معاشی ترجمان اور سابق گورنر سندھ محمد زبیر اور دیگر رہنماؤں نے معاشی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایک جانب حکومت معاشی استحکام کے دعوے کررہی ہے وہیں خود حکومتی رپورٹس میں عوام کا معیار زندگی تیزی سے گرنے اور غربت میں اضافے کے اعدادوشمار حکومتی کارکردگی کا منہ بولتا ثبوت ہیں ایس آئی ایف سی نمایاں سرمایہ کاری لانے میں ناکام رہا، پی آئی اے کی نج کاری کی حمایت کرتے ہیں تاہم ورکرز کے استحصال کے خلاف ہیں۔

انھوں نے کہاکہ پی آئی اے کی نجکاری کو اصولی طور پر سپورٹ کرتے ہیں لیکن اس عمل میں شفافیت اور ورکرز کے حقوق پر سنگین سوالات موجود ہیں اور نجکاری کے نام پر کسی بھی قسم کے استحصال کی اجازت نہیں دی جائے گی۔سرکاری اداروں کو تباہ کرنے والوں اور کرپشن میں ملوث عناصر کا احتساب ہونا چاہیے۔

محمد زبیر نے کہا کہ سرکاری سروے کے مطابق 80 فیصد عوام کا طرزِ زندگی خراب ہوا ہے جبکہ اتنے ہی فیصد لوگوں نے مہنگائی کے باعث کھانے پینے کی اشیاء کی خریداری میں کمی کی ہے۔ ان کے مطابق سب سے زیادہ متاثر شہری مڈل کلاس ہوئی ہے اور 23 فیصد شہری آبادی کی آمدن اور معیارِ زندگی نیچے چلا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جہاں چار سال میں عوام کی زندگی نیچے چلی گئی ہو وہاں یہ پوچھنا لازم ہے کہ حکومت نے آخر حاصل کیا کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پارلیمان، الیکشن کمیشن اور عدلیہ کو کنٹرول میں لے کر بھی معیشت بہتر نہیں کی جا سکی۔ ایس آئی ایف سی سرمایہ کاری لانے کے لیے بنایا گیا تھا مگر سرمایہ کاری 50 فیصد کم ہو گئی، جو اس ادارے کی ناکامی کا ثبوت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تین سال میں تین کروڑ افراد غربت کی لکیر سے نیچے چلے گئے۔

محمد زبیر نے کہا کہ امریکا اور مڈل ایسٹ سے سرمایہ کاری اس لیے نہیں آ رہی کیونکہ ملک میں قانون کی بالادستی موجود نہیں۔ اب پاکستانی سرمایہ کار بھی سرمایہ کاری سے قبل بین الاقوامی عدالتوں میں مصالحت کا حق مانگ رہے ہیں۔ انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف کو معاشی بدحالی کا سب سے زیادہ ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے چھ ماہ میں معیشت بہتر کرنے کا وعدہ کیا تھا، جو پورا نہ ہو سکا۔

انہوں نے کہا کہ عدم اعتماد کی تحریک کے وقت زرمبادلہ کے سرکاری ذخائر 17 ارب ڈالر سے زائد تھے، جبکہ جنوری 2022 میں یہی ذخائر 2023 میں کم ہو کر 2.9 ارب ڈالر رہ گئے۔ ان کے مطابق جون 2023 میں ملک کو ڈیفالٹ کا خطرہ اس وقت پیدا ہوا جب آئی ایم ایف پروگرام کو نقصان پہنچایا گیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔