پاکستان میں حالیہ دنوں میں اچانک سردی کی شدت پر عوام میں تشویش پائی جا رہی ہے۔جو لوگ پہلے یہ کہہ رہے تھے کہ اس مرتبہ اتنی سردی نہیں وہ اب حیران ہیں کہ اچانک موسم کو کیا ہوگیا۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ موسم میں اچانک اس تبدیلی کی وضاحت ماہر ماحولیات ڈاکٹر عبداللہ خان نے دو ماہ پہلے ہی امت ڈیجٹل کیلئے ایک پوڈ کاسٹ میں کردی تھی۔
نومبر میں پہلے یہ اطلاعات آئی تھیں کہ اس مرتبہ شدید سردی ہوگی لیکن پھر کہا گیا کہ سردی نہیں ہوگی اور اس کے بعد سردی میں شدت نہ ہونے کا مشاہدہ بھی کیا گیا۔
اُس وقت ڈاکٹر عبداللہ نے وضاحت کی دی کہ شدید سردی کی پیش گوئی اور موسم زیادہ سرد نہ ہونے کوئی متضاد باتیں نہیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ماضی کے برعکس اس مرتبہ کچھ ہفتوں کیلئے اچانک موسم شدید ہوگا اور اس طرح کے ادوار یا اسپیل آتے رہیں گے۔
ڈاکٹر عبداللہ نے بتایا کہ پاکستان میں سردیوں کی شدت بڑھنے کی وجہ لائنینا ایفیکٹ ہے۔ اس کے نتیجے میں ٹھنڈی ہوا کی لہر، برف باری اور بارشوں کا امکان معمول سے زیادہ ہے۔
ڈاکٹر عبداللہ نے وضاحت کی کہ عوام میں سردیوں کے بارے میں کنفیوژن کی بنیادی وجہ مختلف بیانات ہیں۔ ایک طرف پاکستان میٹرولوجیکل ڈیپارٹمنٹ (پی ایم ڈی) نے کہا کہ سردیاں اس سال ذرا معمولی شدت کی ہوں گی اور بارشیں کم ہوں گی، جبکہ طویل المدتی رجحانات کے تحت سردیوں کی شدت زیادہ رہے گی۔
انہوں نے کہا کہ چھوٹے موسمی رجحانات (Weather) اور بڑے سیزنل اثرات (Seasonal Scenario) دونوں درست ہیں۔ پی ایم ڈی کے مختصر پیشگوئی شدہ موسم کے دوران خشک دن، دھوپ یا کم بارش ہو سکتی ہے، لیکن لارجر ایفیکٹ کے تحت سردی اور بارش زیادہ ہوگی۔
ڈاکٹر عبداللہ کے مطابق گزشتہ سال برف باری دو دفعہ ہوئی تھی، جبکہ اس سال ممکنہ طور پر یہ تین یا چار دفعہ ہو سکتی ہے۔ ٹھنڈی ہوا کی شدت اور برف باری کے سپیل زیادہ شدید ہوں گے، جس کا تعلق ایکسٹریم ویدر کے موسمی اثرات سے ہے۔
Ummat News Latest Urdu News in Pakistan Politics Headlines Videos