دریائے راوی کا عارضی لوہے کا پل بحالی کے ایک ماہ بعد ٹوٹ گیا

ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ کی تحصیل کمالیہ میں دریائے راوی پر قائم لوہے کا عارضی پل بحالی کے صرف ایک ماہ بعد دوبارہ ٹوٹ گیا، جس کے نتیجے میں ہزاروں افراد کی روزمرہ زندگی شدید متاثر ہوئی ہے۔

پل کے ٹوٹنے سے دریا کے دونوں اطراف واقع درجنوں دیہات کا زمینی رابطہ منقطع ہو گیا ہے۔ طلبہ تعلیمی اداروں تک نہیں پہنچ پا رہے، مریض ہسپتالوں کے راستے میں مشکلات کا شکار ہیں، اور مزدور طبقہ روزگار سے محروم ہو رہا ہے۔ کسان بھی سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں کیونکہ زرعی اجناس کو منڈیوں تک پہنچانا ایک مستقل چیلنج بن گیا ہے، جس سے بھاری مالی نقصان ہو رہا ہے۔

علاقہ کے عوام اور سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ عارضی پل کی بار بار مرمت محض وقت اور وسائل کا ضیاع ہے۔ ہر بار بحالی کے دعوے کیے جاتے ہیں، مگر پل ایک ماہ بھی نہیں چلتا، جس سے منصوبہ بندی، معیار اور نگرانی پر سنگین سوالات اٹھتے ہیں۔

عوام کا مطالبہ یہ ہے کہ انہیں ایک محفوظ، مضبوط اور مستقل پل فراہم کیا جائے تاکہ انسانی جانوں اور معیشت کی حفاظت کی جا سکے۔ علاقہ کے عوامی و سماجی حلقوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف سے پرزور اپیل کی ہے کہ وہ اس مسئلے کا ذاتی نوٹس لیں اور دریائے راوی پر ایک پائیدار پکا پل تعمیر کرنے کے احکامات جاری کریں۔

ماہرین کے مطابق، اگر بروقت اور عملی اقدامات نہ کیے گئے تو یہ مسئلہ کمالیہ تک محدود نہیں رہے گا بلکہ عوامی اعتماد کے بحران کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ عارضی حل ترک کر کے مستقل اور محفوظ فیصلے کیے جائیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔