عمران خان :
غریب خواتین کے لیے شروع کیا جانے والا بینظیر انکم سپورٹ پروگرام ایک بار پھر بدعنوان عناصر کے نرغے میں آگیا۔ عوامی ٹیکس پر ڈاکے ڈالنے والی مافیا سے متعلق ایف آئی اے تحقیقات میں سنسنی خیز انکشافات سامنے آئے ہیں۔
’’امت‘‘ کو ملنے والی اطلاعات کے مطابق وہ امداد جو غربت کے اندھیروں میں امید کی کرن سمجھی جاتی ہے، اسی امداد کو لوٹنے والی منظم مافیا وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے ہاتھوں بے نقاب ہوگئی۔ یہ انکشاف محض چند گرفتاریوں تک محدود نہیں، بلکہ ایک ایسی منظم جڑوں تک پھیلے ہوئے نظام کی نشاندہی کرتا ہے جو برسوں سے مستحق خواتین کے حصے کی رقم میں غیر قانونی کٹوتیاں کرتا چلا آ رہا تھا اور اکثر قانون کی گرفت سے بچتا رہا۔
ایف آئی اے کمپوزٹ سرکل ملتان نے لودھراں اور کہڑور پکا میں کارروائی کرتے ہوئے چار افراد مدثر اقبال، محمد عکاشہ، مظہر حسین اور شہریار احمد کو اس وقت رنگے ہاتھوں گرفتار کیا جب وہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت ملنے والی رقوم سے غیر قانونی کمیشن کاٹ رہے تھے۔
ابتدائی تحقیقات کے مطابق ملزمان مستحق خواتین کی مجبوری، لاعلمی اور نظامی کمزوریوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ہر قسط سے مخصوص رقم بطور ’’سروس چارج‘‘ وصول کرتے تھے، جو درحقیقت کھلی لوٹ مار تھی۔ ایف آئی اے کے مطابق ملزمان کے قبضے سے متعدد بینکنگ ڈیوائسز، بائیو میٹرک آلات اور مختلف خواتین کے شناختی کارڈز برآمد ہوئے ہیں۔ یہ برآمدگی اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ کوئی انفرادی واردات نہیں بلکہ ایک منظم نیٹ ورک تھا جو ڈیجیٹل نظام کی آڑ میں غریب خواتین کو یرغمال بنائے ہوئے تھا۔
بعض خواتین کو یہ باور کرایا گیا کہ ’’حکومتی کٹوتی‘‘ ناگزیر ہے، جبکہ کچھ کو اگلی قسط رکنے کے خوف سے خاموش رہنے پر مجبور کیا گیا۔ ایف آئی اے حکام کے مطابق گرفتار ملزمان بینکنگ ایجنٹس، فرنچائز آپریٹرز یا غیر رسمی سہولت کاروں کے طور پر کام کر رہے تھے، جن کا اصل کام رقم کی شفاف منتقلی کے بجائے زیادہ سے زیادہ کٹوتی کے ذریعے ذاتی فائدہ حاصل کرنا تھا۔
واضح رہے کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا آغاز 2008ء میں غربت میں کمی، خواتین کو معاشی خودمختاری دینے اور سماجی تحفظ فراہم کرنے کے لیے کیا گیا تھا۔ یہ پاکستان کا سب سے بڑا سوشل سیفٹی نیٹ ہے، جس سے ملک بھر میں لاکھوں خاندان مستفید ہوتے ہیں۔ تاہم، اسی وسعت اور بڑے پیمانے نے اسے بدعنوان عناصر کے لیے ایک آسان ہدف بھی بنا دیا۔
ماضی میں متعدد بار بی آئی ایس پی میں بدعنوانی، جعلی اندراجات، غیر مستحق افراد کو رقم کی منتقلی، بائیو میٹرک فراڈ اور فرنچائز سطح پر کٹوتیوں کے الزامات سامنے آتے رہے ہیں۔ مختلف ادوار میں ایف آئی اے، نیب اور آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی رپورٹس میں نشاندہی کی گئی کہ امدادی رقوم کا ایک حصہ مستحق تک پہنچنے سے پہلے ہی راستے میں غائب ہو جاتا ہے۔ ذرائع کے مطابق گزشتہ برسوں میں ایف آئی اے نے مختلف شہروں میں بی آئی ایس پی سے متعلق درجنوں مقدمات درج کیے۔ کہیں جعلی شناختی کارڈز کے ذریعے رقوم نکلوانے کا انکشاف ہوا، تو کہیں فوت شدہ خواتین کے نام پر ادائیگیوں کا معاملہ سامنے آیا۔
بعض کیسز میں سرکاری اہلکاروں اور نجی فرنچائز مالکان کی ملی بھگت بھی ثابت ہوئی۔ ایک سابق انکوائری رپورٹ کے مطابق کچھ علاقوں میں مستحق خواتین سے 500 سے 2000 روپے تک فی قسط غیر قانونی طور پر وصول کیے جاتے رہے۔ یہ رقم اگرچہ بظاہر ’’چھوٹی‘‘ لگتی ہے، مگر قومی سطح پر یہی کٹوتیاں کروڑوں روپے کی بدعنوانی میں تبدیل ہو جاتی ہیں۔
ایف آئی اے کی تحقیقات سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ بائیو میٹرک نظام، جو شفافیت کے لیے متعارف کرایا گیا تھا، اس کا غلط استعمال بھی بدعنوان عناصر نے سیکھ لیا۔ خواتین کے انگوٹھوں کے نشانات، شناختی کارڈز اور موبائل نمبرز پر غیر قانونی کنٹرول حاصل کر کے انہیں عملاً بے اختیار بنا دیا گیا۔
دیہی علاقوں میں ناخواندگی، قانونی آگاہی کی کمی اور اداروں تک رسائی نہ ہونا اس مافیا کے لیے سب سے بڑا ہتھیار ثابت ہوا۔ بہت سی خواتین شکایت درج کرانے سے اس لیے بھی گھبراتی رہیں کہ کہیں ان کا نام فہرست سے خارج نہ کر دیا جائے۔
ایف آئی اے ذرائع کے بقول گرفتار ملزمان سے تفتیش کا دائرہ مزید وسیع کیا جا رہا ہے اور اس نیٹ ورک کے سہولت کاروں، سرپرستوں اور ممکنہ سرکاری کردار کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔ حکام کے مطابق غریب طبقے کے لیے مختص فنڈز میں خورد برد کرنے والوں کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا اور ان کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
ادارے کے اندرونی ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ بی آئی ایس پی انتظامیہ کے ساتھ مل کر نظام کو مزید شفاف بنانے، فرنچائز ماڈل پر نظرثانی اور شکایات کے ازالے کے مؤثر طریقہ کار پر کام کیا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق اربوں روپے سالانہ قومی خزانے سے خرچ کئے جانے باوجود غریب مستحق پاکستانیوں کی اس اسکیم کو جعلسازی اور کرپشن سے محفوظ نہیں بنایا جاسکا۔
برس ہا برس سے اس اسکیم میں ڈاکے ڈالنے والے یہ چند افراد تک محدود معاملہ نہیں ہے بلکہ اس کے پیچھے ایک وسیع تر مافیا ہر ضلع، ہر فرنچائز اور ہر ادائیگی کے پیچھے سرگرم رہا ہے۔ جس کا واضح ثبوت یہ ہے کہ اس کرپشن کے اب تک درجنوں مقدمات میں سینکڑوں گرفتاریاں صرف ایف آئی اے کے ہاتھوں ہوچکی ہیں جن میں سرکاری افسران کے ساتھ پرائیویٹ افراد بھی شامل ہیں۔
ذرائع کے بقول بینظیر انکم سپورٹ پروگرام ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد کی ایک علامت ہے۔ اگر اس اعتماد کو لوٹنے والے عناصر کو جڑ سے اکھاڑ نہ پھینکا گیا تو یہ صرف مالی نقصان نہیں بلکہ ریاستی ساکھ پر بھی ایک کاری ضرب ہوگی۔
ایف آئی اے کی حالیہ کارروائی نے امید کی ایک نئی کرن ضرور پیدا کی ہے، مگر اصل امتحان اس وقت ہوگا جب اس مافیا کے تمام کرداروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور نظام کو واقعی غریب دوست بنایا جائے۔
Ummat News Latest Urdu News in Pakistan Politics Headlines Videos