2فروری 2021 کو بنگلہ دیش کے روہنگیامسلمان پناہ گزین کیمپوں میں آگ کی طرح ایک خبر پھیلی ۔میانمار(برما)کی رہنما آنگ سان سوچی کی گرفتاری۔ دنیا کی سب سے بڑی پناہ گزین بستی کٹوپالونگ میں روہنگیائی پناہ گزینوں نے اس خبر پر جشن منایا۔
یکم فروری 2021 کو برمی فوج نے اقتدار پر قبضہ کرکے سوچی کوگرفتارکرلیاتھا۔
بنگلہ دیش میں پناہ گزین رہنما فرید اللہ نے کہاکہ وہ ہماری مصیبتوں کی جڑ رہی ہیں۔ آخر ہم خوشی کیوں نہ منائیں۔ دوسرے کیمپ بالو کھالی میں ایک روہنگیائی رہنما محمد یوسف کا کہنا تھاکہ وہ حالانکہ ہماری آخری امید تھیں لیکن انہوں نے ہمارے استحصال پر آنکھیں موند لیں اور روہنگیا نسل کشی کی حمایت کی۔نوبل امن انعام یافتہ سوچی کے ساتھ اس’ انصاف‘ پر شکرانہ ادا کرنے کے لیے بعض روہنگیاوں نے دعائیہ تقریب کا بھی اہتمام کیا۔ نیا پاڑہ کیمپ میں ایک پناہ گزین مرزا غالب کا کہنا تھاکہ اگر کیمپ کے حکام ہمیں اجازت دیتے تو آپ دیکھتے کہ ہزاروں روہنگیائی جشن منانے کے لیے باہر نکل آتے۔
اگست 2017 میں روہنگیائی مسلمانوں کے خلاف تشدد اور مظالم کی کارروائی، جسے اقوام متحدہ نے ممکنہ نسل کشی قرار دیا، کے بعد تقریباً ساڑھے سات لاکھ روہنگیا باشندوں کو میانمار سے پڑوسی ملک بنگلہ دیش ہجرت کرنے کے لیے مجبور ہونا پڑا تھا۔ آنگ سان سوچی اس وقت ملک کی اصل حکمراں تھیں اور انہوں نے روہنگیاوں کی عصمت دری اور قتل سمیت دیگر زیادتیوں کے معاملے کی 2019 میں بین الاقوامی عدالت میں سماعت کے دوران میانمار کی فوج کا دفاع کیا تھا۔
سوچی کے جانب دارانہ بیانات ور انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے واقعات پر خاموشی نے انہیں کئی بین الاقوامی اعزازات سے محروم کردیاتھا۔ کوئی بین الاقوامی اعزازات سوچی سے واپس لیے گئے۔
آنگ سان سوچی حراست میں 20 برس پورے کرنے کوہیں۔ حالیہ قید کو 5 سال ہوگئے ہیں اور قبل ازیں وہ 15 سال تک زنداں میں رہیں۔
۔2010 میں انتخابات کے بعداسی سال کے آخر میں آنگ سان سوچی کو رہا کر دیا گیاتھا اور 18 ماہ کے اندر وہ رکن پارلیمنٹ منتخب ہوئیں۔ 2015 تک ان کی پارٹی نے 1960 کے بعد پہلا آزاد الیکشن جیتا، اور وہ ملک کی ڈی فیکٹو لیڈر تھیں۔2021 میں فوجی بغاوت کے بعد اسے مجموعی طور پر 27 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔
برطانوی نشریاتی ادارے نے ایک رپورٹ میں بتایاہے کہ،5سال بعد، قید میں سوچی کی صحت، یا وہ کن حالات میں رہ رہی ہیں، اس کے بارے میں تقریباً کچھ نہیں معلوم، حالانکہ خیال کیا جاتا ہے کہ وہ دارالحکومت نی پی تاو کی ایک فوجی جیل میں قید ہیں۔ ان کے بیٹے کم ایرس نے گزشتہ ماہ کہا تھا کہ میں جانتا ہوں کہ وہ مر سکتی ہے، اگرچہ حکمران فوجی جنتا کے ترجمان نے اصرار کیا کہ وہ اچھی صحت میں ہیں۔
اس نے کم از کم دو سال سے اپنے وکیلوں کو نہیں دیکھا اور نہ اس نے جیل کے اہلکاروں کے علاوہ کسی اور کو دیکھا ہے۔
سوچی کو 1989 کے بعد ینگون میں جھیل کے کنارے اپنے خاندانی گھر میں نظربندی کے حالات میں 15 سال تک نظربند رکھا گیا تھا، ان حالات سے بہت مختلف تھے جن میں وہ آج قید ہیں۔اس دوران کبھی کبھار آزادی میسر پاکر زنداں کے فرنٹ گیٹ سے پرجوش تقریریں کرنے، یا صحافیوں کو انٹرویو دینے کے قابل تھیں۔آج،80 سال کی عمر میں، غیر یقینی صحت کے ساتھ وہ نظروں سے اوجھل ہے۔ر وہنگیا مسلمانوںکے خلاف مظالم پر،2017 میں بین الاقوامی عدالت انصاف میں نسل کشی کے الزامات میں دفاع نے اس کی ہیرو جیسے بین الاقوامی امیج کو بری طرح داغدار کیا۔
نومبر 2016 میں عالمی ذرائع ابلاغ نے سوال اٹھایاتھاکہ آنگ سان سوچی دنیا بھر میں انسانی حقوق کی علم بردار کے طور پر جانی جاتی ہیں اور ان کے ہوتے ہوئے یہ ظلم کیوں ہو رہا ہے؟میانمار میں 25 سال بعد گذشتہ سال انتخابات ہوا تھا. اس انتخاب میں نوبل انعام یافتہ آنگ سان سوچی کی پارٹی نیشنل لیگ فور ڈیموکریسی کو بھاری کامیابی ملی تھی. تاہم آئینی قوانین کی وجہ سے وہ الیکشن جیتنے کے بعد بھی صدر نہیں بن پائی تھیں. تاہم کہا جاتا ہے کہ اصل کمان سو چی کے ہاتھوں میں ہی ہے.بین الاقوامی سطح پر سو چی نشانے پر ہیں، الزام ہے کہ انسانی حقوق کی علم بردار ہونے کے باوجود وہ خاموش ہیں۔میڈیارپورٹ میں کہا گیاتھاکہ گذشتہ چھ ہفتوں سے آنگ سان سو چی مکمل طور پر خاموش ہیں. وہ اس معاملے میں صحافیوں سے بات بھی نہیں کر رہیں. جب اس معاملے میں ان پر دباؤ پڑا تو انھوں نے کہا تھا کہ رخائن اسٹیٹ میں جو بھی ہو رہا ہے و ہ رول آف لا کے تحت ہے۔
دسمبر 2017 میں اقوام متحدہ میں انسانی حقوق کے نگراں ادارے کے سربراہ زید رادالحسین کا کہناتھاکہ ایک رپورٹ کے بعد انھوں نے سوچی کو ٹیلیفون کیا تھا جس میں اکتوبر 2016 سے تشدد کی لہر کے دوران کیے گئے مظالم پر تشویش کا اظہار کیا گیا تھا۔ میں نے ان سے اپیل کی تھی کہ وہ فوجی آپریشن بند کریں۔ میں نے جذباتی انداز میں بھی اپیل کی تھی کہ وہ اسے ختم کرنے کے لیے جو بھی ہو سکے کریں۔ اور مجھے افسوس ہے کہ ایسا نہیں ہوا۔سوچی کے اختیارات محدود ہیں لیکن زید رادالحسین کا ماننا ہے کہ انھیں فوجی کارروائی روکنے کے لیے مزید کوشش کرنی چاہیے تھی۔انھوں نے سوچی کی جانب سے روہنگیا کی اصطلاح استعمال نہ کرنے پر تنقید کی اور سخت الفاظ کا استعمال کرتے ہوئے کہا ’ان سے ان کا نام چھین لینا اس حد تک غیر انسانی ہے جہاں آپ یہ سمجھنا شروع کردیتے ہیں کہ کچھ بھی ممکن ہے۔اقوامِ متحدہ میں انسانی حقوق کمیشن کے چیف کو جو بات زیادہ تکلیف دہ محسوس ہوئی وہ یہ تھی کہ انھوں نے میانمار میں تشدد پھوٹنے سے چھ ماہ پہلے ہی آنگ سانگ سوچی سے درخواست کی تھی کہ وہ روہنگیا مسلمانوں کے تحفظ کے لیے اقدامات کریں۔
گذشتہ دنوں، گیمبیا کی جانب سے اقوام متحدہ کی اعلیٰ عدالت میں ججوں کو بتایا گیا کہ میانمار نے نسل کشی کی اور اقلیتی روہنگیا مسلمانوں کو تباہی کا نشانہ بناتے ہوئے ان کی زندگیوں کو جہنم بنادیا، روہنگیا عام لوگ تھے جو عزت کے ساتھ زندگی گزارنا چاہتے تھے۔گیمبیا کے وزیر انصاف داؤدا جالو نے آئی سی جے کے ججوں کو بتایا کہ میانمار کی فوج نے مسلمانوں کا قتل عام کیا اور اس خون ریزی پر کسی کو جوابدہ نہیں ٹھہرایا گیا،ایک دہائی سے زائد عرصے میں یہ پہلا نسل کشی کیس ہے جس کی بین الاقوامی عدالت انصاف مکمل سماعت کر رہی ہے۔وزیر انصاف جالو کے مطابق میانمار نے ان لوگوں کے خواب کو چکنا چور کردیا، درحقیقت میانمار نے روہنگیا مسلمانوں کی زندگیوں کو ایک ڈراؤنے خواب میں بدل دیا جس سے وہ انتہائی خوفناک تشدد اور تباہی کا شکار ہو گئے جس کا کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا تھا۔
مسلم اکثریتی مغربی افریقی ملک گیمبیا نے 2019 میں آئی سی جے جسے عالمی عدالت بھی کہا جاتا ہے،میں مقدمہ دائر کیا تھا۔اس مقدمے میں میانمار پر روہنگیا کے خلاف نسل کشی کا الزام عائد کیا گیا، جو مغربی رخائن ریاست میں مسلم اقلیت ہے۔
دسمبر 2017 کے وسط میں عالمی طبی امدادی ادارے ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز کا کہناتھا کہ میانمار میں اگست سے پرتشدد واقعات میں ایک مہینے کے دوران کم از کم 6700 روہنگیا افراد کو قتل کیا گیا۔ہلاکتیں پرتشدد واقعات میں ہوئیں جن میں کم از کم پانچ سال سے کم عمر کے 730 بچے شامل ہیں۔۔بنگلہ دیش میں پناہ گزینوں سے کیے گئے سروے کے مطابق یہ تعداد میانمار کی جانب سے سرکاری طور پر پیش کی گئی 400 کی تعداد سے کہیں زیادہ ہے۔طبی تنظیم کے سروے کے مطابق 25 اگست سے 24 ستمبر کے درمیان نو ہزار روہنگیا میانمار میں مارے گئے۔فیصد گولی لگنے سے مارے گئے تھے۔نو فیصد کی موت گھروں کا جلانے سے ہوئی۔پانچ فیصد کوجسمانی طورپر مارمارکر موت کے گھاٹ اتارا گیا۔مرنے والے پانچ سال سے کم عمر بچوں میں 59 کو مبینہ طور پر گولی ماری گئی، 15 فیصد کو جلایا گیا۔
25 اگست 2017 کو روہنگیامسلمانوں کے قتل عام کی منظم کارروائی شروع ہوئی تھی۔اس دن تقریباً دس لاکھ روہنگیا بے گھر ہوئے ، 300 سے زائد گاؤں جلا کر راکھ کر دیے گئے تھے۔
Ummat News Latest Urdu News in Pakistan Politics Headlines Videos