تیراہ آپریشن پرسہیل آفریدی کادعویٰ ۔حقائق اس بارے میں کیابتاتے ہیں؟

 

تیراہ میں آبادی کے عارضی انخلا اور کسی بڑے ملٹری آپریشن کے بارے میں خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ، سہیل آفریدی کی ٹویٹ کھلی غلط بیانی سے بھرپورنکلی:۔ ذرائع سے جو حقائق سامنے آئے ہیں، ان کے مطابق تیراہ میں عارضی انخلا ضلعی انتظامیہ، مقامی کمیونٹی، قبائلی مشران اور عمائدین کی باہمی رضامندی سے ہو رہا ہے۔ اس کافیصلہ بند کمرے میں نہیں بلکہ31جنوری 2025 کو وزیراعلیٰ کے دفتر کے ساتھ آفریدی قبائل کے جرگہ میں کیا گیا تھا –

 

ذرائع کا کہناہے کہ اگر قبائلی مشران نے سہیل آفریدی کو وزیراعلی ٰہوتے ہوئے بھی اعتماد میں نہیں لیا تو اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ انہیں علاقہ معززین اس قابل ہی نہیں سمجھتے- جن لوگوں کو قبائلی نظام کا پتا ہے وہ یقینا اس بات کی گواہی دیں گے کہ سہیل آفریدی کا دعویٰ جھوٹ پرمبنی ہے کیونکہ یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ وزیر اعلیٰ ہوتے ہوئے قوم کے معاملات انہیں معلوم نہ ہوں۔

 

ذرائع کے مطابق، کیااس انخلاکے لیے پانچ ارب روپے وزیراعلی ٰکے علم کے بغیر دے دئیے گئے ؟ سہیل آفریدی کے حکم سے 5ارب روپے کی خطیر رقم تیراہ کی آبادی کے انخلا کے لئے جاری کرنے کی منظوری دی گئی تھی جوحکومت کی جیب میں واپس جا رہی ہے- اگر یہ رقم آبادی کو دی جاتی تو لوگ ائیر کنڈیشنڈ بسوں میں واپس جاتے نہ کہ اس طرح ٹریکٹرز کے اوپر بیٹھ کر دھکے کھاتے-اگر صوبائی انتظامیہ انخلا کے مقامات پر اچھے انتظامات کر لیتی تو لوگوں کو پریشان نہ ہونا پڑتا-نادرا صرف لوگوں کی رجسٹریشن کے لئے ہے تاکہ کوئی خوارج عوام کے بھیس میں سیدھا پشاور نہ پہنچ جائے-

 

ذرائع نے واضح کیا کہ صوبائی حکومت کی یہ چال کامیاب نہیں ہوگی -مقامی آبادی نے، جو خوارج کی موجودگی اور ان کی وجہ سے علاقے میں پھیلنے والے جرائم اور بد امنی سے تنگ تھی ، خوارج کے خاتمے کے لیے خود ، رضا کارانہ طور پر ، علاقہ عارضی طور پر خالی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ آبادی کے عارضی انخلا کا پورا عمل سول و ضلعی انتظامیہ کی قیادت میں متعدد مقامی جرگوں کے بعد طے پایا۔

مزیدپڑھیں:وزیراعلی خیبرپختونخوا نے تیراہ آپریشن اپنے خلاف سازش قرار دیدیا

 

ایک استفسار پر ،ذرائع نے اس بارے میں مزید وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ وادی تیراہ میں کسی بڑے فوجی آپریشن کی کوئی منصوبہ بندی زیرِ غور نہیں، البتہ علاقے میں ٹارگٹڈ کارروائیاں بدستور جاری رہیں گی۔آبادی کے عارضی انخلا کا فیصلہ خوارج کی جانب سے مسلسل شہری آبادی کو بطور انسانی ڈھال استعمال کیے جانے اور عام شہریوں کے جانی نقصان کے شدید خدشے کے باعث کیا گیا-اعداد و شمار کے مطابق ، خوارج زیادہ ترتیراہ کے علاقے میں شہری آبادی کے اندر سے ڈرونز استعمال کر کے مقامی افراد کو نشانہ بناتے رہے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ عوام نے خوارج کی بلیک میلنگ، منشیات کے پھیلا ئواور دہشت گردی سے تنگ آ کر پرامن روزگار اور محفوظ مستقبل کے لیے انخلا کا فیصلہ کیا ہے۔

 

ذرائع نے بتایاکہ تیراہ میں جاری آپریشن کسی سیاسی انتقام، بند کمروں کی سازش یا کسی فرد واحد کو دبانے کی کوشش نہیں بلکہ دہشتگردی کے خلاف ایک ناگزیر اور ریاستی ذمہ داری ہے۔اصل مسئلہ یہ نہیں کہ آپریشن ہو رہا ہے، اصل مسئلہ یہ ہے کہ پی ٹی آئی کی صوبائی قیادت دہشت گردوں کے سامنے واضح موقف اختیار کرنے سے خوفزدہ ہے۔ ایک طرف اجازت دی جاتی ہے، وسائل فراہم کیے جاتے ہیں، انتظامی فیصلے کیے جاتے ہیں، اور دوسری طرف عوام کے سامنے یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ ہمارا اس سب سے کوئی تعلق نہیں، فوج نے
کیا ہے، ریاست نے کیا ہے۔ اس دوغلے پن کا واحد فائدہ دہشتگردوں کو پہنچتا ہے، جنہیں یہ پیغام دیا جا رہا ہے کہ سیاسی قیادت ان کے سامنے کھڑی ہونے کو تیار نہیں اور وہ اپنی سیاست بچانے کے لیے ریاست سے بھی فاصلہ اختیار کر سکتی ہے۔

 

واضح رہے کہ وزیراعلی خیبرپختونخوا نے تیراہ آپریشن کو اپنے خلاف سازش قرار دیا ہے۔وزیر اعلی ٰ نے کہاہے کہ تیراہ کا آپریشن اور لوگوں کا زبردستی انخلا بند کمروں کا فیصلہ ہے جس کا مقصد دہشتگردی ختم کرنا نہیں بلکہ سیاسی عزائم پورے کرنا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔