تصویر : سوشل میڈیا

ملا کنڈ میں نا ن کسٹم پیڈ گاڑیوں کے لیے ڈیڈلائن۔تاجروں نے مزاحمت کا اعلان کردیا

 

ایکسائز، ٹیکسیشن اینڈ نارکاٹکس کنٹرول نے ملاکنڈ ڈویژن میں نان کسٹم پیڈ (این سی پی) گاڑیوں کے مالکان کو اپنی گاڑیوں کی پروفائلنگ کے لیے 31 جنوری 2026 تک مہلت دی ہے۔ محکمہ ایکسائز پہلے ہی تقریباً 45 ہزار گاڑیوں کی عارضی رجسٹریشن مکمل کرچکا ہے، مجموعی طور پر ملاکنڈ ڈویژن میں ایک اندازے کے مطابق ایک لاکھ تیس ہزار گاڑیوں کی عارضی رجسٹریشن کی گئی تھی۔

ذرائع کے مطابق، ملاکنڈ ڈویژن میں لاکھوں این سی پی گاڑیاں چل رہی ہیں، جن میں ایک لاکھ کے قریب ایسی گاڑیاں بھی شامل ہیں جو آٹو سکریپ سے بنائی گئی ہیں اور ان کی پروفائلنگ ابھی تک نہیں ہوئی۔ ان گاڑیوں کے مستقبل کے حوالے سے بھی کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا کیونکہ ان کی مینوفیکچرنگ کو غیر قانونی تصور کیا جا رہا ہے، اور ان میں سب سے زیادہ تعداد سوزوکی پک اپ کی ہے۔ مزید برآں، یہ گاڑیاں افغانستان سے مختلف راستوں کے ذریعے ڈویژن میں داخل ہو رہی ہیں، جس پر ابھی تک کوئی مؤثر روک تھام نہیں ہو سکی۔

ملاکنڈ ڈویژن ٹریڈرز فیڈریشن کے صدر عبدالرحیم نے اس حوالے سے کہا ہےکہ ملاکنڈ ایک ٹیکس فری زون ہے اور آئین پاکستان کے مطابق یہاں کے عوام کو این سی پی گاڑیاں چلانے کا حق حاصل ہے۔ اگر اس سلسلے میں کوئی کارروائی کی گئی تو عوام شدید مزاحمت کریں گے۔ علاوہ ازیں وفاقی حکومت کی جانب سے ملاکنڈ ڈویژن اور ضم شدہ قبائلی اضلاع کو جون 2026 تک استثنا دیا گیا ہے اور اس کے بعد یہاں بتدریج ٹیکس کا نظام رائج کیا جائے گا، لیکن عوام اور مقامی سیاسی و تجارتی رہنما اس کے لیے تیار نہیں ۔

صدر فیڈریشن کا کہنا تھا کہ سرتاج عزیز کمیشن میں صرف فاٹا کا ذکر تھا، لیکن بدقسمتی سے یہاں پاٹا بھی شامل کر دیا گیا ہے، جو کسی صورت قبول نہیں۔ادھرایکسائز حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ مقررہ وقت کے اندر اپنی گاڑیوں کی پروفائلنگ مکمل کریں، بصورت دیگر ان کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔اس حوالے سے ابھی تک یہ واضح نہیں کہ کیا قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی لیکن ذرائع کاکہنا ہے کہ جلد ہی اس حوالے سے کوئی قانون عمل میں لایا جائے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔