لاہور: پی ٹی آئی کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ وہ پارٹی پالیسی کے پابند ہیں اور مذاکرات کا اختیار محمود خان اچکزئی کو دیا جا چکا ہے، اس لیے وہی اس معاملے پر حتمی فیصلہ کر سکتے ہیں۔
انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت میں پیشی کے بعد کمرہ عدالت میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ افغانستان کی مدد کی ہے اور اب پاکستان کا جائز مطالبہ ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ افغانستان کی خوشحالی اور استحکام کا راستہ پاکستان سے ہو کر گزرتا ہے، اگر افغانستان امن چاہتا ہے تو اسے پاکستان کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کرنا ہوں گے اور دہشت گردی کے خلاف پاکستان کا ساتھ دینا ہوگا۔
ایران سے متعلق سوال پر شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ایران بارڈر پر اس وقت صورتحال کنٹرول میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے بھارت کو جنگ میں شکست دی اور اللہ نے ہمیں عزت دی، تاہم بھارت کی جانب سے خطرہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔
مذاکرات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ وہ پی ٹی آئی کے وائس چیئرمین ہیں اور پارٹی پالیسی سے ہٹ نہیں سکتے، لیکن یہ سوچنا ضروری ہے کہ مسائل کا حل کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مزاحمت کے بعد بھی بالآخر مفاہمت ہی ہوتی ہے اور ملک کو آگے بڑھانے کے لیے گفت و شنید ناگزیر ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے مذاکرات کا اختیار محمود خان اچکزئی کو دیا ہے، جبکہ وہ خود اور دیگر رہنما جیل میں ہیں اور معلومات تک مکمل رسائی نہیں۔ ان کے مطابق موجودہ صورتحال میں محمود خان اچکزئی ہی بہتر فیصلہ کر سکتے ہیں۔
فواد چوہدری سے متعلق سوال پر شاہ محمود قریشی نے کہا کہ وہ اور فواد چوہدری ایک ہی پارٹی میں رہ چکے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ جب وہ ہسپتال میں تھے تو فواد چوہدری عیادت کے لیے آئے، اب اگر کوئی مہمان گھر آئے تو اسے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ کیوں ملنے آیا۔
Ummat News Latest Urdu News in Pakistan Politics Headlines Videos