عمران خان :
کروڑوں پاکستانی صارفین برسوں سے جسے آئس کریم سمجھ کر خریدتے اور کھاتے رہے، وہ درحقیقت آئس کریم نہیں، بلکہ فریزڈ ڈیزرٹ (منجمد میٹھا) نکلا۔ معروف ملٹی نیشنل برانڈز یونی لیور پاکستان اور فریز لینڈ کیمپینا اینگرو کے خلاف سامنے آنے والی یہ چونکا دینے والی حقیقت، کمپٹیشن اپیلیٹ ٹریبونل کے حالیہ فیصلے کے بعد سرکاری طور پر ثابت ہو گئی ہے۔ جس نے صارفین کو گمراہ کرنے کے الزام میں کمپٹیشن کمیشن آف پاکستان (سی سی پی) کی کارروائی کو درست قرار دے دیا ہے۔ ٹریبونل کے فیصلے نے نہ صرف صارفین کے اعتماد کو ٹھیس پہنچانے والے اس عمل پر مہرِ تصدیق ثبت کی۔ بلکہ پاکستان میں فوڈ لیبلنگ، اشتہارات اور ریگولیٹری نگرانی کے نظام پر بھی سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
’’امت‘‘ کو ملنے والی معلومات کے مطابق یہ اسکینڈل اس وقت منظر عام پر آیا جب پاکستان فروٹ جوس کمپنی پرائیویٹ لمیٹڈ، جو مقامی سطح پر ہائیکو آئس کریم تیار کرتی ہے، نے کمپٹیشن کمیشن آف پاکستان میں باضابطہ شکایت درج کرائی۔ شکایت میں موقف اختیار کیا گیا کہ یونی لیور پاکستان اور فریز لینڈ کیمپینا اینگرو اپنی مصنوعات کو ٹی وی، ڈیجیٹل اور سوشل میڈیا اشتہارات میں آئس کریم کے طور پر پیش کر رہی ہیں، حالانکہ وہ مصنوعات آئس کریم کے قانونی معیار پر پوری نہیں اترتیں۔ شکایت کنندہ کے مطابق اس گمراہ کن تشہیر کے باعث نہ صرف صارفین کو دھوکہ دیا جا رہا ہے، بلکہ ڈیری بیسڈ مقامی آئس کریم بنانے والی کمپنیوں کو بھی غیر منصفانہ مقابلے کا سامنا ہے۔
شکایت موصول ہونے کے بعد کمپٹیشن کمیشن نے باقاعدہ تحقیقات کا آغاز کیا، جن میں اشتہاری مواد، پیکجنگ، سوشل میڈیا مہمات، مصنوعات کے اجزا اور مینوفیکچرنگ ڈیٹا کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ تحقیقات کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ یونی لیور پاکستان اپنی مصنوعات ’’والز‘‘ جبکہ فریز لینڈ کیمپینا اینگرو ’’اومور‘‘ کے نام سے مارکیٹ کر رہی تھیں اور ان اشتہارات میں براہِ راست یا بالواسطہ طور پر ان مصنوعات کو آئس کریم ظاہر کیا جا رہا تھا۔
کمیشن نے اپنے فیصلے میں پاکستان اسٹینڈرڈز اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی اور پنجاب پیور فوڈ ریگولیشنز 2018 کے معیارات کو بنیاد بنایا، جن کے مطابق آئس کریم وہ مصنوعات ہیں جو بنیادی طور پر دودھ، کریم یا دیگر ڈیری اجزا سے تیار کی جاتی ہیں، جبکہ فریزڈ ڈیزرٹس، پیسچرائزڈ مکس سے بنائی جاتی ہیں جن میں دودھ کے ساتھ سبزیوں سے حاصل کردہ خوردنی تیل بھی شامل ہو سکتا ہے۔ تحقیقات میں یہ واضح ہو گیا کہ زیرِ بحث مصنوعات فریزڈ ڈیزرٹس کے زمرے میں آتی ہیں، مگر اشتہارات میں انہیں آئس کریم ظاہر کیا گیا۔
کمپٹیشن کمیشن نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ یہ عمل کمپٹیشن ایکٹ 2010 کے سیکشن 10 کی صریح خلاف ورزی ہے، جو صارفین کو جھوٹی یا گمراہ کن معلومات فراہم کرنے سے روکتا ہے۔ کمیشن نے دونوں کمپنیوں کو ہدایت دی کہ وہ فوری طور پر فریزڈ ڈیزرٹس کو آئس کریم کے طور پر پیش کرنا بند کریں۔ مزید برآں یونی لیور پاکستان کے خلاف یہ الزام بھی ثابت ہوا کہ اس نے اپنے فریزڈ ڈیزرٹ کو ڈیری آئس کریم سے زیادہ صحت بخش ظاہر کیا، جو سائنسی اور قانونی اعتبار سے درست نہیں تھا۔
دونوں کمپنیوں نے کمیشن کے فیصلے کو کمپٹیشن اپیلیٹ ٹریبونل میں چیلنج کیا، تاہم ٹریبونل نے اپنے فیصلے میں واضح طور پر کہا کہ صارفین کو گمراہ کرنے کی خلاف ورزی ثابت ہو چکی ہے اور سی سی پی کا فیصلہ درست ہے۔ البتہ ٹریبونل نے جرمانوں میں کمی کرتے ہوئے ہر کمپنی پر عائد پچھتر ملین روپے کا جرمانہ کم کر کے پندرہ ملین روپے کر دیا۔ جبکہ یونی لیور پاکستان پر صحت سے متعلق گمراہ کن اشتہار چلانے پر عائد اضافی بیس ملین روپے کا جرمانہ کم کر کے پانچ ملین روپے کر دیا گیا۔ ٹریبونل نے یہ بھی واضح کیا کہ جرمانے میں کمی کو کسی صورت خلاف ورزی کی معافی نہ سمجھا جائے، بلکہ یہ فیصلہ تناسب اور عدالتی صوابدید کے تحت کیا گیا ہے۔
ذرائع کے بقول یہ سوال اب بھی جواب طلب ہے کہ اگر برسوں تک لاکھوں صارفین کو فریزڈ ڈیزرٹ، آئس کریم قرار دے کر فروخت کیا جاتا رہا تو اس کا مجموعی مالی حجم اربوں روپے میں ہو سکتا ہے۔ بچوں کو ہدف بناتے ہوئے تیار کیے گئے اشتہارات، دلکش پیکجنگ اور جذباتی نعروں کے ذریعے صارفین کا اعتماد حاصل کیا گیا۔ جس نے اس گمراہ کن مارکیٹنگ کو مزید خطرناک بنا دیا۔کمیشن کا تحقیقاتی ریکارڈ بتاتا ہے کہ یہ پہلا موقع نہیں کہ بڑی اور معروف کمپنیاں اپنی مصنوعات کے حوالے سے گمراہ کن دعوے کرتی پکڑی گئی ہوں۔
ماضی میں نیسلے پاکستان کو بچوں کے دودھ اور غذائی مصنوعات کے حوالے سے مبالغہ آمیز اور گمراہ کن دعوئوں پر تنقید اور ریگولیٹری دبائو کا سامنا کرنا پڑا۔ عالمی سطح پر پیپسی اور کوکا کولا کو اپنی مشروبات کو توانائی بخش یا صحت کے لیے بہتر ظاہر کرنے پر عدالتوں اور ریگولیٹرز کے سامنے جوابدہ ہونا پڑا۔ جانسن اینڈ جانسن کو بچوں کے ٹیلکم پائوڈر کو محفوظ ظاہر کرنے پر دنیا بھر میں اربوں ڈالر کے ہرجانے ادا کرنے پڑے، جبکہ یونی لیور کو خود مختلف ممالک میں اپنی مصنوعات کو ‘‘نیچرل’’ اور ‘‘ہیلتھی’’ ظاہر کرنے کے دعوئوں پر قانونی کارروائیوں کا سامنا رہا ہے۔
ذرائع کے بقول پاکستان میں بھی انرجی ڈرنکس، دودھ، جوسز اور مصالحہ جات کے حوالے سے گمراہ کن اشتہارات پر ماضی میں کارروائیاں ہو چکی ہیں۔ تاہم اکثر کیسز یا تو دب جاتے ہیں یا محدود جرمانوں پر ختم ہو جاتے ہیں۔ موجودہ کیس نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا ہے کہ بڑے برانڈز کی مارکیٹنگ پاور، صارفین کے لیے کس قدر گمراہ کن ثابت ہو سکتی ہے، اگر ریگولیٹری نگرانی کمزور ہو۔ لیکن اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ فیصلہ صرف ایک مثال بن کر رہ جائے گا یا واقعی پاکستان میں صارفین کے حقوق کے تحفظ اور اشتہارات میں شفافیت کا نیا باب کھولے گا۔
Ummat News Latest Urdu News in Pakistan Politics Headlines Videos