طاقتور شمسی تابکار طوفان کازمین کی طرف رخ۔مواصلاتی خلل،قطبی روشنیوں کا نظارہ متوقع

 

سورج کی طرف سے ایک طاقتور شمسی سرگرمی زمین کی طرف بڑھ رہی ہے،اس کے باعث جی پی ایس اور سیٹلائٹ مواصلات میں خلل کے علاوہ غیر متوقع علاقوں میں شاندار آرورا مناظر پیدا ہونے کا بھی امکان ہے ۔

 

امریکی میڈیاکے مطابق، 5میں سے 4 درجے کی شدت کا حامل شمسی تابکاری کا طوفان ہے ، امریکہ نیشنل ویدر سروس کے اسپیس ویدر پریڈکشن سینٹر( SWPC )،کے ذریعے اس کی نگرانی کی جارہی ہے۔ایس ڈبلیو پی سی کے مطابق ’’ ایس 4‘‘شدید شمسی تابکاری کا طوفان 20 سال میں سب سے بڑا ہے۔تاہم اس کے ممکنہ اثرات خلائی ، ہوا بازی، اور سیٹلائٹ آپریشن تک محدود ہیں۔

 

جب شمسی تابکاری کے طوفان زمین پر پہنچتے ہیں، تو وہ زمین کے نچلے مدار میں موجود خلانوردوں، جیسے بین الاقوامی خلائی اسٹیشن، اور ساتھ ہی قطبی راستوں پر سفر کرنے والی پروازوں کے لیے بھی خطرات کا باعث بن سکتے ہیں۔

 

ایس ڈبلیو پی سی نے ایئر لائنز، ناسا، فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن، فیڈرل ایمرجنسی مینجمنٹ ایجنسی، نارتھ امریکن الیکٹرک ریلائیبلٹی کارپوریشن اور دیگر آپریٹرز کو طوفان کی تیاری کے لیے مطلع کیا ہے۔اونچے درجے کی تابکاری ان مصنوعی سیاروں کے لیے بھی خطرات پیدا کر سکتی ہے جن پر مواصلات اور نیویگیشن کے لیے انحصارکیا جاتاہے
یونیورسٹی آف کولوراڈو بولڈر میںخلائی طبیعات دان ریان فرینچ کے مطابق سیٹلائٹ آپریٹرز کو ممکنہ طور پر چوکس رہنے کی ضرورت ہوگی، لیکن عام لوگوں کے لیے وسیع اثرات کی توقع نہیں ۔

شمسی توانائی کی شدید سرگرمی آروراپیداکرنے کا سبب ہوسکتی ہے جوناردرن لائٹس یا سدرن لائٹس کہتے ہیں ۔ یہ زمین کے قطب شمالی یاجنوبی پر خوب صورت اندازمیں ظاہرہوتی ہیں۔جب توانائی بخش ذرات زمین کے مقناطیسی میدان تک پہنچتے ہیں، تو وہ فضا میں موجود گیسوں کے ساتھ مل کر آسمان میں رنگ برنگی روشنیاں پیدا کرتے ہیں۔

آرورالائٹ شوامریکہ کے شمالی نصف حصے میں، اور ممکنہ طور پر جنوب میں الاباما اور شمالی کیلیفورنیا تک دکھائی دے سکتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔