لوئر چترال کی گرم چشمہ وادی میں نایاب برفانی چیتے کی ہلاکت نے عوامی سطح پر شدید تشویش پیدا کر دی ہے اور وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ کی کارکردگی پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔
مقامی افراد کے مطابق یہ برفانی چیتا تقریباً ڈیڑھ ماہ قبل تھونک گاؤں میں پہلی بار دیکھا گیا تھا اور اس کے بعد مختلف علاقوں میں وقتاً فوقتاً نظر آیا۔ مقامی لوگوں نے اس کی موجودگی سے متعلق معلومات سوشل میڈیا پر بھی شیئر کیں۔
تاہم، بالآخر یہ نایاب جانور پیرابیگ بازار کے قریب واحت گاؤں میں مردہ حالت میں پایا گیا۔ مقامی آبادی کا کہنا ہے کہ اطلاع کے باوجود وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ بروقت اقدامات کرنے میں ناکام رہا۔
ماہرین اور مقامی لوگ سمجھتے ہیں کہ برفانی چیتے کا قدرتی مسکن چترال گول نیشنل پارک ہے، اور سردیوں میں گرم چشمہ وادی کی جانب آنا معمول کی بات نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ بروقت مداخلت کرتا تو جانور کو اس کے قدرتی مسکن تک منتقل کیا جا سکتا تھا۔
لاش کی برآمدگی کے بعد وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ نے واقعے کی تحقیقات کے لیے انکوائری کمیٹی تشکیل دی ہے، تاہم سول سوسائٹی اور ماحولیاتی کارکنان نے جانور کو بروقت بچانے میں ناکامی پر شدید تنقید کی ہے۔
Ummat News Latest Urdu News in Pakistan Politics Headlines Videos