گل پلازہ کے دروازے ایک ساتھ آگ کی لپیٹ میں کیسے آگئے،تحقیقات ناگزیر

کراچی (رپورٹنگ ٹیم)گل پلازہ سے زندہ بچ کر نکلنے والے تاجروں اور بعض گاہکوں نے انکشاف کیا ہے کہ جس وقت آگ لگی وہ دوسری اور تیسری منزل پر تھے ، اوپر ی منزلوں پر سیکڑوں کی تعداد میں لوگ موجود تھے جنہیں نیچے جانے کا راستہ نہیں ملا ، پہلی منزل کی سیڑھیوں پر تالے لگ چکے تھے ، اور یہ عمل چوری ڈکیتی کے خدشے کے پیش نظر روز کا معمول تھا ، جن دکانداروں کو ریمپ کا راستہ یاد تھا صرف وہ ہی چھت پر پہنچ سکے جہاں سے رمپا پلازہ اور گل تجارہ کے دکانداروں نے سیڑھی کی مدد سے انہیں نکالا ۔ گراؤنڈ فلور پر آگ اور دھویں کی وجہ سے کچھ نظر نہیں آرہا تھا ، گل تجارہ کے ساتھ گراؤنڈ فلور پر مصنوعی پھولوں کی دکانوں میں آگ لگی تھی جو پہلے میزنائن ،پھر فرسٹ فلور تک پہنچی ۔ دھواں بھرجانے سے کئی دکاندار دکانیں کھلی چھوڑ کر بھی چھت تک نہیں پہنچ سکے ۔ محفوظ حالت میں پلازہ سے باہر نکلنے والوں نے بتایا کہ گراؤند فلور کے تمام کھلے ہوئے دروازوں پر آگ کے شعلے تھے جس سے باہر آنا کسی کے لیئے بھی ممکن نہ تھا ، اس پورے معاملے کی تحقیقات ناگزیر ہوگئی ہے ۔ تفصیلات کے مطابق گل پلازہ کی تیسری منزل سے جان بچاکر نکلنے والے ایک امپورٹر (ر) نے بتایا کہ جس وقت گراؤنڈ فلور پر آگ لگی ، اس وقت تیسری اور دوسری منزل پر بھی گاہکوں کا رش تھا ، بیشتر دکاندار موجود تھے ، صرف کچھ دکانیں یا گودام رات ساڑھے نو بجے بند ہوچکے تھے اور ان کے مالکان اورملازمین نکل گئے تھے ، آگ لگنے کی خبر اور دھواں ایک ساتھ ہی دوسری اور تیسری منزل پر پہنچا ، لوگوں کا سامان باہر تھا ، سب اپنا سامان سمیٹنے میں لگ گئے ، میری امپورٹڈ کھلونے کی شاپ گلاس ڈور والی ہے ۔اس لیئے مجھے دھویں اور آگ کے بارے میں اس وقت پتا لگا جب میرے فلور پر بجلی بند ہوئی اور لوگوں کی چیخ و پکار میرے کانوں میں پہنچی ، دکان سے باہر نکلنے پر مجھے پتا لگا کہ دکاندار نیچے کی سیڑھیوں پر جانے کے بجائے اوپر کی ریمپ کی طرف دوڑ رہے تھے ، میں نے شٹر بند کرنے میں وقت ضائع نہیں کیا اور ریمپ کی طرف بھاگ نکلا ، اندھیرے میں موبائل کی روشنی میں دھوئیں کے سوا کچھ نظر نہیں آرہا تھا ۔ دکان سے نکلتے وقت میں نے اپنے کزن کو ریمپ کی طرف بھاگنے کا کہا لیکن وہ ریمپ تک نہیں پہنچ سکا ،اب وہ زندہ ہے یا نہیں ، اس کے بارے میں ہمیں اب تک کچھ پتا نہیں چل سکا ہے ۔ امپورٹر نے بتایا کہ ہمیں چھت پر پہنچنے پر آکسیجن ملی ،تھوڑی دیر میں سانس بحال ہوئی تو چھت پر سیکڑوں افراد موجود تھے جنہیں رمپا پلازہ اور پڑوس والے گل تجارہ پلازہ کے دکانداروں نے سیڑھی لگاکر ریسکیو کیا ، نیچے پہنچ کر دیکھا تو گل پلازہ کے عقبی دروازوں پر آگ کے شعلے تھے ، ایک ساتھ سارے دروازوں میں آگ کیسے پہنچی اس کے بارے میں ہمیں کوئی معلومات نہیں ہیں ، اتنا اندازہ ہے کہ گراؤنڈ فلور کی سیڑھیوں پر تالے کی وجہ سے لوگ چھت کی طرف بھاگے تھے ، جنہیں راستہ نہیں معلوم وہ وہیں گلیوں میں پھنس کر رہ گئے اور دھوئیں سے پہلے بے ہوش ہوگئے ہوں گے ۔ وارداتوں سے بچنے کیلئے سیڑھیوں پر رات 9 بجے سے تالے ڈالنا معمول تھا۔ امت کو ایک دکاندار راؤ نے بتایا کہ وہ ساڑھے نو بجے اپنی دکان بند کرکے گھر پہنچے تھے ، انہیں اطلاع ملی تو دس بج کر چالیس منٹ پر گل پلازہ پہنچنے پر دیکھا کہ اس کے گراؤنڈ فلور کے تمام دروازے آگ کی لپیٹ میں تھے اور ریمپ کی طرف سے کچھ لوگ آگ آگ پکارتے ہوئے باہر آرہے تھے ۔ چونکہ ہماری دکان اوپری منزل پر تھی اس لئیے ہماری ساری توجہ اوپر کی منزل کو دیکھنے میں لگی ہوئی تھی جہاں رات تین بجے تک آگ نہیں پہنچی تھی ، ایک دکاندار نے بتایا کہ ریمپ سے چھت جانے والے راستے سے کئی لوگ نیچے آئے ، کچھ تو اپنی موٹر سائیکلیں بھی نکالنے میں کامیاب ہوگئے تھے ۔ امت کو سینئر ڈائریکٹر میونسپل سروسز کے ایم سی راجہ رستم نے بتایا آگ کہاں لگی اس متعلق قیاس آرائیاں بہت زیادہ ہورہی ہیں۔ تاہم تاجروں کا کہنا ہے آگ گل پلازہ کے عقبی حصے میں موجود مصنوعی پھولوں کی ایک دکان میں لگی تھی ، یہ دکان گراؤنڈ فلور پر موجود تھی جس سے آگ میزنائن اور اوپر کی منزلوں میں پھیلتی چلی گئی ۔ راجہ رستم نے سوال کے جواب میں کہا کہ سیڑھیوں پر تالے ہونے سے متعلق معلومات نہیں ہیں لیکن یہ نقطہ اہم ہے ، اس ضمن میں تحقیقات کریں گے ۔ ایک ساتھ دروازوں پر آگ لگنے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ یہاں کراکری اور برتن کے سوا تمام آئٹمز تیزی سے آگ پکڑنے والے تھے ۔تاہم اس نقطے کو بھی تحقیقات میں شامل کیا جاسکتا ہے ۔ دوسری جانب سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی جانب سے جاری کردہ کمپلیشن دستاویزات میں انکشاف ہوا ہے کہ گل پلازہ میں 179 دکانیں غیر قانونی طور پر تعمیر کی گئی ہیں ۔ دستاویزات کے مطابق گل پلازہ کی عمارت 1980 کی دہائی میں تعمیر کی گئی تھی۔ 1998 میں گل پلازہ کی عمارت میں اضافی منزلیں تعمیر کی گئیں ۔پارکنگ ایریا میں بھی دکانیں بنیں اور چھت کو پارکنگ میں بدلا گیا ۔ 2003 میں گل پلازہ کی اضافی منزل کو ریگولائز کیا گیا ۔ گل پلازہ کے مالک گل محمد خانانی نے 14 اپریل 2003 کو کمپلیشن حاصل کیا ۔نقشے کے مطابق گل پلازہ میں بیسمنٹ سمیت تین منزلوں کی اجازت تھی۔جس میں 1021 دکانوں کی تعمیر کی اجازت دی گئی تھی تھی۔ نقشے کے برخلاف گل پلازہ میں 1200 دکانیں تعمیر کی گئیں ۔ایس بی سی اے ذرائع نے بتایا کہ گل پلازہ میں راہداری اور باہر نکلنے کی جگہوں پر بھی دکانیں بناکر فروخت کی گئیں ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ دو سے چار کروڑ مالیت کی ان اضافی دکانوں پر کم از کم فی کس دس لاکھ روپے بھتہ وصول کیا گیا ہوگا ، اگر اس کی نصف رقم بھی رکھ لیں تو غیر قانونی دکانیں بنانے کیلئے 9 کروڑ روپے سے زائد رشوت ادا کی گئی ہوگی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔